Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.
Al-Risala, March 1987, pp. 36–43
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر طیبی نے اصرار کیا کہ میں جنیوا میں مزید قیام کروں اور ان کے " گیسٹ ہاؤس " میں ٹھہروں ۔ اس طرح مجھے مزید تفصیل سے سوئزر لینڈ کو جاننے کا موقع مل جاتا نیز دعوتی کام کے مزید مواقع ملتے۔ مگر میرے لیے زیادہ ٹھہرنے کا موقع نہ تھا۔ اس لیے میں ان کی پیش کش کو قبول نہ کر سکا۔ کی لائبریری کے لیے میں نے اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات پیش کیں ۔ ان میں " تبلیغ موومنٹ" کا ایک نسخہ بھی شامل تھا ۔
یہاں کی ملاقاتوں میں سے ایک دل چپ ملاقات وہ تھی جو جسٹر مک کی
سے ہوئی :
Richard Mc Kee, U.S. Mission, 11, route de Pregeny 1292 Chambesy, Geneva, Switzerland. مسٹر مک کی امریکی ہیں اور امریکی سفارت خانہ میں مشیر کی حیثیت سے متعین ہیں۔ گفتگو کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں۔ ان سے چند ملاقاتیں ہوئیں اور ہر بار ان سے عربی میں گفتگو ہوتی رہی۔ وہ روانی کے ساتھ عربی بولتے ہیں۔ انھیں مجھ سے کچھ کہنا ہوتا تو خالص عربی انداز میں "حضرتکم" کے لفظ سے خطاب کرتے۔ ایسا معلوم ہوتا کہ کوئی عرب بول رہا ہے۔ ایک بار تقریبا آدھ گھنٹہ کی گفتگو میں وہ بے تکلف اپنے خیالات کا اظہار عربی میں کرتے رہے۔ ان کو دینے کے لیے میرے پاس عربی کی کوئی کتاب نہ تھی ۔ البتہ میں نے انھیں الرسالہ انگریزی کے چند شمارے دیئے ۔ ۸ دسمبر کی شام کو میں ہوٹل کے ایک مقام سے گزر رہا تھا کہ ایک سفید فام امریکی خاتون نے مجھے میری ٹوپی اور میرے حلیہ سے اس نے مجھے ایک مذہبی اور روحانی شخصیت سمجھا اور اسی انداز میں گفتگو شروع کی ۔ اس نے نہایت سنجیدہ انداز میں اپنے خیالات پیش کیے۔ وہ امریکہ کی نئی نسل کی نمائندہ تھی ۔ اس نے بتایا کہ سچائی کی تلاش میں وہ اپنے کئی امریکی ساتھیوں کے ہمراہ مختلف ملکوں کا سفر کر چکی ہے۔ اس نے کہا کہ میری نسل روحانی اصول کو جاننے کی تلاش میں ہے۔ ہم نے جان لیا ہے کہ زندگی کے لیے مادیت سے زیادہ کچھ درکار ہے ۔ چنانچہ ہم نے مایوسانہ طور پر سچائی کی تلاش کی مگر سچائی ہم کو نہیں ملی :
My generation was on a quest to understand spiritual law. We knew there was more to life than materialism. So, we searched desperately for the Truth. Miss Renee Elaine Thompson, 3906 Ernst St., Omaha, Nebraska 68112, U.S.A. گفتگو کے آخر میں میں نے خاتون کو الرسالہ (انگریزی) کے چند شمارے اور بعض انگریزی کتابیں انھوں نے بہت دل چسپی کے ساتھ لیا اور شدت شوق میں اسی وقت پڑھنے لگیں۔ شاید میرے اس پورے سفر کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ تھا۔ اس واقعہ میں مجھے جدید انسان کی روح تڑپتی ہوئی نظر آئی ۔
کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں کچھ لوگ تھے جن کو حنفاء کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عرب کے جاہلی دین پر مطمئن نہ تھے۔ ان کی فطرت سچے دین کی تلاش میں تھی ۔ زید بن عمرو یہ کہتے ہوئے مر گئے کہ خدایا، اگر میں جانتا کہ تیری پسندیدہ عبادت کیا ہے تو اسی طرح میں تیری عبادت کرتا، مگر میں اس کو نہیں جانتا۔ ایک مرتبہ اس طرح کے کچھ لوگ جمع ہوئے ۔ انھوں نے آپس میں کہا: جان لو کہ خدا کی قسم ، تمہاری قوم کسی چیز پر نہیں ہے۔ انھوں نے دینِ ابراہیم کو بگاڑ دیا ہے۔ پس نکلو اور سچے دین کو تلاش کرو۔ چنانچہ وہ لوگ مختلف ملکوں کی طرف نکل پڑے (سیرۃ ابن ہشام سیرۃ ابن کثیر، جلد اول)
جینیوا کے مذکورہ تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ عرب کے حنفاءکی طرح دورِ جدید میں دوبارہ حنفاء کی ایک نسل پیدا ہوگئی ہے جو زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ خدایا، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح میں تیری عبادت کروں ۔ اگر میں جانتا تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جدید انسان کی رہنمائی کا انتظام فرمائے ، اور بلاشبہ وہی انتظام فرمانے والا ہے ۔ اس دوران میری ملاقات ایک امریکی سیاح سے ہوئی ، وہ پروٹسٹنٹ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان سے میں نے پوچھا کہ آپ دنیا کے بہت سے ملکوں میں گیے ہیں ، آپ کو سب سے زیادہ کون سا ملک پسند آیا ۔ انھوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ مجھ کو سب سے زیادہ پسند آیا ۔ بے حد صاف ، بے حد مستعد (Very neat, very efficient) پھر میں نے انڈیا کے بارے میں پوچھا ۔ انھوں نے ہنس کر کہا کہ میں نے انڈیا کا سفر کیا ہے ۔ انڈیا کی بہت سی چیزیں مجھے پسند ہیں۔ مگر وہاں بیوروکریسی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملے گی ۔ انھوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ میں بھی قواعد و ضوابط بہت زیادہ ہیں ۔ مگر سوئزرلینڈ کے کسی سرکاری دفتر میں آپ ایک کام کے لیے جائیں تو ایک آدمی کی میز پر پہنچ کر آپ کا سارا کام ۱۰ منٹ میں پورا ہو جائے گا ۔ جب کہ انڈیا میں میں دو بارگیا وہاں کے کسی سرکاری دفتر میں جایئے تو ہر آدمی آپ کو دوسرے آدمی کے پاس بھیجے گا۔ آپ ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور دوسرے آدمی سے تیسرے آدمی کے پاس جاتے رہیں گے پھر بھی یقینی نہیں ہے کہ آپ کا کام آپ کی مرضی کے مطابق ہو جائے ۔
جینیوا ایک بے حد صاف ستھرا شہر ہے۔ یہاں کے بارے میں ایک دل چسپ لطیفہ معلوم ہوا۔
ایک صاحب ڈپلومیٹ تھے وہ اپنے خاندان کے ساتھ یہاں شہر کے باہر پکنک کے لیے گیے۔ لوگوں نے کچھ کھایا پیا اور اس کے بعد ڈبہ اور کاغذ کی قسم کی بچی ہوئی چیزیں چھوڑ کر قریب کی کسی جگہ ٹہلنے چلے گیے۔ البتہ ان کی کار وں پاس کھڑی ہوئی تھی جس پر ڈپلومیٹک نشان لگا ہوا تھا ۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ لوگ ٹہل کر اپنے مقام پر دوبارہ واپس آئے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کی کار کی ونڈ اسکرین پر ایک کاغذ چپکا ہوا ہے جس کے اوپر یہ الفاظ تحریر ہیں :
۹ دسمبر کو دو پہر بعد جنیوا شہر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک مقامی گائیڈ کی رہنمائی میں ہم چند گاڑی ہم کو سارے شہر میں گھماتی رہی۔ ایک مقام پر اتر کر وہاں کا بڑا چرچ دیکھا۔ جنیوا اگر چہ نسبتاً چھوٹا شہر ہے۔ مگر وہ غیر معمولی طور پر صاف اور خوبصورت ہے۔ شہر کا پرانا حصہ اتنا صاف نظر نہیں آیا جتنا اس کا نیا حصہ صاف تھا۔ تاہم دونوں میں فرق بہت ایک مقام پر مسجد بھی دیکھی۔ یہ مسجد کافی وسیع ہے اور جدید انداز میں تعمیر کی گئی ہے۔ کا افتتاح حال ہی میں شاہ فہد نے کیا ہے۔ یہ خوبصورت مسجد جنیوا کے معیار کے مطابق بنائی گئی ہے۔ اور شہر کے مرکزی علاقہ میں واقع ہے۔
جنیوا میں میں نے اپنے ہوٹل کے کمرہ سے کچھ مقامی ٹیلی فون کیے تھے۔ بظاہر اس ٹیلی فون کا علم یا تو مجھے کوستھا یا شہر کے اس آدمی کو جس سے میں نے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ مگر ہوٹل سے روانگی کے وقت جب میں ہوٹل کے کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے اس کے دفتر میں گیا تو وہاں ٹیلی فون کی تعداد اور اس کی رقم نہایت صحت کے ساتھ ایک کاغذ پر درج شدہ موجود تھی۔ یہ کمپیوٹر کا کرشمہ ہے۔ بڑے ہوٹلوں میں ہر کمرہ کمپیوٹر سے مربوط رہتا ہے اور کمپیوٹر آٹومیٹک طور پر ہر چیز کو ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی ایک عمل کرتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی اور نہیں جو اس کے عمل کو جانے۔ مگر خدا کے مخفی فرشتے ہر جگہ تیسرے فریق کی حیثیت سے موجود ہیں اور اس کے ہر قول و عمل کو نہایت صحت کے ساتھ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ آدمی جیسے ہی موجودہ دنیا کو چھوڑے گا، خدا کے یہ
ملکوتی کمپیوٹر اس کی مکمل چارج شیٹ اس کے سامنے رکھ دیں گے۔
مغربی دنیا میں شراب اس قدر عام ہے کہ عملاً شراب اور پانی میں کوئی فرق باقی نہیں۔ میرے ہوٹل کے کمرے میں ایک چھوٹی الماری تھی جس کے اوپر لکھا ہوا تھا (Mini Bar) میں نے اس کو کھولا تو الماری کے تمام خانے مختلف قسم کے شراب کی بوتلوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ جدید میڈیکل سائنس نے شراب کا مضر ہونا ثابت کر دیا ہے۔ مگر جو چیز انسان کی عادت بن جائے، اس کو چھوڑنا انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے ۔
۱۰ دسمبر کی صبح کو جنیوا سے واپسی ہوئی۔ جنیوا کا ہوائی اڈہ بے حد صاف اور منظم تھا۔ ٹائلیٹ سے لے کر نشانات راہ تک ہر چیز اتنی نفیس حالت میں تھی جو مجھے کسی اور ہوائی اڈے پر نظر نہیں آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کوئی استعمالی ایرپورٹ نہیں ہے بلکہ نمونہ کا ایرپورٹ ہے جو بنا کر نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے مقابلہ میں سوئزرلینڈ کے وسائل بہت مگر محدود وسائل کے دانش مندانہ استعمال نے اس کو ہندوستان سے زیادہ خوبصورت ملک بنا دیا ہے ۔
دہلی کا جہاز پکڑنے کے لیے ہمیں فرینکفرٹ آنا تھا۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کا سفر لفتھانزا کی فلائٹ نمبر 249 کے ذریعہ ہوا۔ یہ جرمن کمپنی کا جہاز تھا اور جرمنی کی ترقی کا پوری طرح نمائندہ اس وقت فضا میں گہرا با دل اور کہر چھایا ہوا تھا۔ آگے کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس کے باوجود جہاز نے اپنا سفر اس طرح طے کیا جیسے اس کے پائلٹ کو سب کچھ دکھائی دے رہا ہو ۔ اس قسم کا سفر موجودہ زمانہ میں وائرلیس کی ترقی کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ ہوائی اڈہ پر خاص طرح کے رڈار ہوتے ہیں جو مسلسل نا قابل مشاہدہ لہریں پھینکتے رہتے ہیں۔ ہوائی جہاز سے ٹکراتی ہیں اور اس کی اس طرح رہنمائی کرتی ہیں جیسے کوئی آنکھ والا کسی اندھے کا ہاتھ پکڑ کر اس کا سفر طے کرا رہا ہو ۔ مادی اعتبار سے آج کا انسان اندھیرے میں سفر کرنے کے قابل ہو گیا ہے ، مگر روحانی اعتبار سے وہ اجالے میں سفر کرنے کے قابل بھی نہ ہوسکا ۔ فرینکفرٹ مغربی جرمنی کا ایک اہم صنعتی شہر ہے ۔ اس کو رومیوں نے پہلی صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا ۔ تا ہم اس کو زیادہ شہرت نویں صدی عیسوی میں حاصل ہوئی جب کہ جرمن بادشاہوں
نے اس کو اپنا سیاسی مرکز بنایا۔ موجودہ زمانہ میں بین اقوامی تجارتی نمائشوں کی وجہ سے فرینکفرٹ نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران ۱۹۴۴ء میں اس پر زبردست بمباری ہوئی۔ نتیجہ میں فرینکفرٹ بالکل تباہ ہوگیا۔ مگر اس بربادی میں ترقی کا نیا امکان نکل آیا۔ اس نے جرمنوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے قدیم شہر کو دوبارہ جدید طرز پر آباد کریں۔ موجودہ منظم اور پر رونق شہر جنگ کے بعد اس کے کھنڈروں سے برآمد ہوا ہے۔ مشہور جرمن شاعر گوئٹے(Goethe) (Goethe) فرینکفرٹ میں ہی ۲۸ اگست ۱۷۴۹ء کو پیدا ہوا تھا۔ اس کا پیدائشی مکان تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا تھا۔ مگر وہ بھی دوسری عالمی جنگ میں جل کر تباہ ہو گیا۔ اس کو دوبارہ اس کے سابقہ نمونہ پر بنا دیا ہے ۔
فرینکفرٹ میں جرمنی کا سب سے بڑا ائیر پورٹ ہے ۔ لندن اور پیرس کے بعد فرینکفرٹ کو یورپ میں تیسرے سب سے بڑے ائیر پورٹ کی حیثیت حاصل ہے ۔ سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر یہاں کے ائیر پورٹ سے گزرتے ہیں۔ فرینکفرٹ میں نوے ہزار سے زیادہ بیرونی ملکوں سے آئے ہوئے لوگ ان میں تقریبا ۱۶ فی صد ترک ہیں۔
فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر 666 کے ذریعہ سفر ہوا۔ یہ آٹھ گھنٹہ کی طویل پرواز تھی تاہم سفر با آسانی طے ہوگیا۔ ہندوستان کے اندر انڈین ایئر لائنز سے سفر کرتے ہوئے کئی بار میرے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ائیر پورٹ پر پہونچ کر معلوم ہوا کہ فلائٹ روک دی گئی ہے۔ آگے جس ہوائی اڈہ پر اس کو اترنا ہے وہاں کہر کی وجہ سے رویت (Visibility) کم ہے ۔ مغربی ملکوں میں اگر یہ چیز رکاوٹ بنے تو وہاں روزانہ ہی فلائٹ روکی جاتی رہیں۔ کیوں کہ وہاں تو اکثر فضا میں کہر چھایا ہوا ہوتا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں رڈار (Radar) اور کمپیوٹر کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کر لیا گیا ہے۔ جنیوا اور فرینکفرٹ دونوں جگہ ایسا ہوا کہ ہمارا جہاز وہاں پہونچا تو فضا کے اوپر گہر ا کہر چھایا ہوا مگر جہاز کو لینڈ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی ۔
اس مسئلہ کا حل اس نظام کے ذریعہ نکال لیا گیا ہے۔ جس کو آج کل فی الفور نظام
(On the line system) کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں جہاز کو صحیح مقام پر اتارنے کا کام انسانی آنکھ کے بجائے مشینی آنکھ کرتی ہے ۔ ہوائی اڈہ پر لگا ہوا رُڈار لہریں پھینکتا ہے ۔ یہ لہریں ہوائی جہاز سے ٹکرا کر لوٹتی ہیں تو رُڈار سے متصل کمپیوٹر ان کا تجزیہ کر کے جان لیتا ہے کہ ہوائی جہاز کا رُخ ، اس کی بلندی وغیرہ کیا ہے ۔ اس تجزیہ کے مطابق وہ وائرلیس پر جہاز کے مشینی نظام کو رہنمائی دیتا ہے کہ وہ اپنے رخ اور بلندی میں کیا تبدیلی کرے کہ وہ صحیح مقام پر صحیح رُخ سے اتر سکے ۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کا ہر جزو ہر ایک سیکنڈ کے دس لاکھوں حصہ میں انجام پا تار ہتا ہے ، اسی لیے اس کو مائیکرو سیکنڈ (Micro second) کہا جاتا ہے ۔
ایک الیکٹرانک انجینئر نے کہا : آٹومیشن کا بیسک کانسیپٹ بے خطا نظام (Error-free system) کو وجود میں لانا ہے ۔ ایک انسان لازماً غلطی کرتا ہے ۔ کی صورت میں غلطی کا امکان بہت زیادہ کم ہو جاتا ہے :
A man is bound to make error, but by machine, this probability gets very much reduced. فرینکفرٹ میں ایک ہندوستانی مسٹرورما سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بھوپال کے رہنے والے ہیں اور شکاگو (امریکہ) میں تجارت کرتے ہیں ۔ ان سے میں نے پوچھا کہ ہندوستان میں اور امریکہ میں کیا فرق ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں کوئی کام کرنا بے حد آسان ہے اور ہندوستان میں کام کرنا بے حد مشکل ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ہندوستان میں ایک انڈسٹری لگائی ہے ۔ مگر اس کو لگانے کے لیے دفتری لڑائی میں مجھے دس سال بیت گئے ۔ جب کہ ان کے بیان کے مطابق ان کے وزیروں تک سے تعلقات تھے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں عام آدمی کو بھی وہی مواقع حاصل ہیں جو خواص کو ۔ جب کہ ہندوستان میں رشوت اور بیوروکریسی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں۔ کہا کہ اس وقت امریکہ میں ہندوستانی لوگ بہت بڑے بڑے کام کر رہے ہیں ۔ یہ سب ہندوستان واپس آسکتے ہیں اور اپنے دیش کو ترقی دے سکتے ہیں ۔ مگر جو شخص واپس آتا ہے وہ اتنی مشکلوں میں پھنس جاتا ہے کہ اس کے سارے حوصلے پست ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں انھوں نے کئی قصے سنائے ۔
میں نے سوچا کہ مغرب اور ہندوستان کے درمیان یہ فرق ہے کہ مغرب کی مثال زندہ جسم کی ہے اور ہندوستان کی مثال مردہ جسم کی ۔ ہندوستان گویا جگساپزل کے ٹکڑوں کے ذریعہ بننے والا جسم ہے۔ زندہ جسم ایک مربوط کل ہوتا ہے ۔ اس کا ہر حصہ اس طرح عمل کرتا ہے کہ وہ دوسرے کے حصہ کا کام بھی کر سکے ۔ اس کے برعکس ہندوستان کے افراد جگسا پزل کے الگ الگ ٹکڑوں کی مانند ہیں۔ سے ہر ایک کو صرف اپنی خبر ہے، کسی کو بھی نہ تو دوسرے کے وجود کی خبر ہے اور نہ وہ اس کے سلسلہ میں اپنی کوئی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے مغرب کے عام انسان کی زندگی کو عافیت کی زندگی بنا دیا ہے اور ہندوستان کے عام انسان کی زندگی کو بے عافیت کی زندگی۔ اس سفر میں مجھے مغرب کے تین بڑے مراکز میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جنیوا (سوئزرلینڈ) اور فرینکفرٹ (جرمنی) سفر کے خاتمہ پر جنیوا سے میں ۱۰ دسمبر ۱۹۸۶ء کو صبح سات بجے روانہ ہوا۔ واپسی کے سفر میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵ گھنٹے لگے۔ اس لحاظ سے مجھے اچھے رات تک دہلی پہونچ جانا چاہئے تھا۔ مگر میں دہلی پہونچا تو یہاں کی گھڑیوں میں رات کے ۲۷ بج رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ ہندوستان اور سوئزرلینڈ کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے ۔