Al-Risala · April 1987

دعوت کے آداب

Al-Risala, April 1987, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

حمیر قدیم عرب کا ایک طاقتور قبیلہ تھا۔ اس نے موجودہ یمن کے علاقہ میں کئی سو سال تک حکومت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد جب اطرافِ عرب کے حکمرانوں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط بھیجے تو حمیر کے شاہی خاندان کے افراد (حارث، مسروح، نعیم بن کلال) کے نام بھی دعوتی مکتوب روانہ فرمایا ۔ اس واقعہ کی تفصیلات طبقات ابن سعد، البدایہ والنہایہ اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں ۔

مذکورہ دعوتی مکتوب کو لے کر جو صحابی یمن گئے تھے ان کا نام عیاش بن ربیعہ ہے۔ عیاش کو اپنا مکتوب حوالہ کرنے کے ساتھ آپ نے کئی خصوصی ہدایات بھی انھیں دی تھیں۔ سے ایک ہدایت یہ تھی کہ راستہ میں أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھتے ہوئے جائیں اور جب منزل پر پہونچیں تو پہلے دورکعت نماز ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی دعا کریں ۔ اس کے بعد ان لوگوں کے یہاں جا کر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی مکتوب پیش کریں (طبقات ابن سعد، جلد اول)

حضرت عیاش نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے راستہ میں أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنے کا اور پھر دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے اور مدعو کے حق میں دعائیں کیں ۔ اس کے بعد وہ ان کی قیام گاہ میں داخل ہوئے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تینوں اشخاص غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے اور دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ۹ھ کا ہے۔

اس واقعہ سے داعی کا اخلاق معلوم ہوتا ہے ۔ جب ایک شخص کسی بیٹھے ہوئے آدمی کے سامنے حق کی دعوت پیش کرے تو اس کا امکان رہتا ہے کہ اس کی انا جاگ اُٹھے اور وہ بُرے طریقہ سے اس کا جواب دے۔ ایسے موقع پر داعی کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر اشتعال سے بچے ۔ اور اگر بالفرض اس کے اندر جوابی اشتعال پیدا ہو تو اس کو شیطانی فعل سمجھ کر وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے۔ داعی کے دل میں مدعو کی اس حد تک خیر خواہی ہونی چاہیے کہ وہ اس کی ہدایت کی دعا کرنے وہ آخری حد تک اس کی ہدایت اور اصلاح کا حریص بن جائے ۔

Printed page