ملّت کی کہانی
Al-Risala, April 1987, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
لارڈ لو تھین (۱۹-۱۸۸۲) برطانیہ کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اپنی وفات سے دو سال پہلے ۱۹۳۸ میں ہندوستان آئے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقسیم اسناد کے موقع پر خطبہ پڑھا۔ اس خطبہ میں انھوں نے مسلمان نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : "یورپ اپنے سیاسی، معاشی، تمدنی اور عائلی مسائل کا تسلی بخش حل دریافت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ آپ حضرات کا دعویٰ ہے کہ اسلام زندگی کا مکمل دستورالعمل ہے ۔ اور اس میں اجتماعی مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ لیے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ بلا د مغرب میں جاکر وہاں کے باشندوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کریں "۔
یورپ کے ایک ذمہ دار شخص نے ایک مسلم ادارہ میں یہ بات اب سے ۵۰ سال پہلے کہی مگر نصف صدی گزر گئی اور اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابل ذکر مسلمان نہیں اٹھا جو خدا کا دین لے کر اہل یورپ کے درمیان دیوانہ وار داخل ہو جائے ۔ موجودہ زمانہ میں مختلف اسباب کے تحت مسلم شخصیتوں کے یورپ کے سفر ہوتے رہتے ہیں ۔ مگر یہ تمام اسفار صرف یورپ میں قیام کرنے والے مسلمانوں کے درمیان ہوتے ہیں نہ کہ حقیقتہ یورپ کے ان اصل باشندوں کے درمیان جن کے ایک فرد لارڈ لو تھین تھے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے "اسلامی کیریکٹر" کی حفاظت کے لیے ہمارے تمام چھوٹے بڑے لیڈر میدان جہاد میں سرگرم ہیں۔ مگر کسی لیڈر کو یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ کیا وجہ ہے کہ پچھلے ۵۰ سال کے اندر علی گڑھ نے کوئی ایک قابلِ ذکر فرد ایسا پیدا نہیں کیا جو انگریزی زبان اور نئے علوم سے واقفیت حاصل کر کے یورپ جائے اور وہاں کے غیر مسلم باشندوں کو اسلام کا پیغام پہنچائے "اسلامی کیریکٹر" کی حفاظت کا مطلب اگر صرف یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی میں مسلمانوں کے لیے داخلہ اور ملازمت کا حق محفوظ رہے تو یہ اسلام کے ساتھ مذاق کرتا ہے۔ یہ اپنے قومی اغراض کے لیے اسلام کا نام استعمال کرنا ہے۔ اور جو لوگ اپنے قومی اغراض کے لیے اسلام کا نام استعمال کریں
وہ اللہ کے یہاں غضب کے مستحق ہوتے ہیں نہ کہ رحمت و نفرت کے مستحق۔ لارڈ لوھٹین کی مذکورہ تجویز پر عمل کرنے کے لیے انگریزی دانی کی ضرورت تھی، اس لیے عام مسلم رہنماؤں کے لیے یہ عذر ہو سکتا ہے کہ وہ انگریزی نہیں جانتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک اور دعوتی موقع پیدا کیا تھا، اور اس موقع کو استعمال کرنے کے لیے اپنی مادری زبان ہی مگر یہاں بھی ہمارے رہنما صد فی صد ناکام رہے۔
یہ امکان نو آبادیاتی نظام نے پیدا کیا تھا۔ یورپ کی قومیں جدید طاقت کے زور پر ساری دنیا میں پھیل گئیں۔ اور جگہ جگہ انھوں نے اپنا اقتدار قائم کیا۔ اس قسم کے لوگ خود اپنی ضرورت اور مصلحت کے تحت ہر جگہ کی مقامی زبان بھی سیکھتے تھے۔ مثلاً جو انگریز اس زمانہ میں ہندوستان آئے انھوں نے یہاں کی مقامی زبان بھی سیکھی اور یہ حیثیت اس زمانہ میں جس زبان کو حاصل تھی وہ اردو زبان تھی۔
جن ہندوستانیوں کی عمریں پچاس سال سے اوپر ہیں وہ بخوبی طور پر اس واقعہ کو جانتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب سے پچھلے ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان اردو تھی۔ تاہم جو لوگ بعد کے زمانہ کی پیداوار ہیں، ان کے سمجھنے کے لیے یہاں میں ایک حوالہ نقل کرتا ہوں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴ء) نے اردو زبان (Urdu Language) کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ، ۱۹۴۷ء کی ملکی تقسیم سے پہلے اردو زبان شمالی ہند کی عمومی طور پر بولی جانے والی زبان تھی جو اس وقت ہندوستانی یا کھڑی بولی کہی جاتی تھی :
The spoken language, referred to before the 1947 partition as Hindustani or Khari Boli, was the lingua franca of northern میجر جنرل اجیت انیل رد را ۱۹۱۵ میں ہندوستانی فوج میں داخل ہوئے۔ اب ان کی عمر ۹۰ سال ہو چکی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۶) کے ایک اسٹاف رپورٹر سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے پہلے زمانہ کی اپنی بہت سی یاد داشتیں بتائیں۔
اس سلسلے میں جو واقعات بتائے ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا۔
۱۹۴۷ سے پہلے جب وہ فوج کی باقاعوہ سروس میں تھے تو فیض احمد فیض بھی ان کے تحت کام کرتے تھے۔ فیض کا تعلق فوج کے رابطہ عامہ (Public relations) کے شعبہ سے تھا۔ ایک بار فیض کے ذمہ یہ کام سپرد ہوا کہ وہ اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا ہندوستانی زبان میں ترجمہ کریں۔ فیض نے ترجمہ کر کے بھیج دیا۔ اس کے بعد فیض احمد فیض اور میجر جنرل ردرا دونوں وائریگل لاج (ر اشٹر پتی بھون) بلائے گئے تاکہ وہ ادائیگی الفاظ کے معاملہ میں وائسرائے کی رہنمائی کر سکیں۔ اس کے بعد میجر جنرل ردرا کے الفاظ یہ ہیں : When Faiz and myself called on the Viceroy to help him with the diction, Mountbatten was pacing up and down his room in the now christened Rashtrapti Bhawan rehearsing his speech. He was speaking Hindustani quite well, much to our surprise. جب فیض احمد فیض اور میں وائسرائے کی ملاقات کے لیے گیے تاکہ الفاظ کی ادائیگی کے معاملہ میں ان کی مدد کریں، تو ماؤنٹ بیٹن اپنے موجودہ راشٹرپتی بھون کے کمرہ میں ادھر سے اُدھر چل رہے تھے اور اپنی تقریر کو دہرارہے تھے۔ اس وقت وہ بالکل صاف ہندوستانی بول رہے یہ دیکھ کر ہم کو سخت تعجب ہوا۔
یہ واقعہ ۱۹۴۷ سے پہلے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب کہ ملک میں ہندوستانی (یا اردو) کا غلبہ تھا۔ ملک کے اعلیٰ ترین حکام بھی اردو اور ہندوستانی کو بولتے اور سمجھتے تھے۔ لفظوں میں یہ کہ ہندوستان کی اردو بولنے والی قوم اور حکمرانوں کے درمیان زبان کا دہ فاصلہ (Language gap) موجود نہ تھا جو آج پایا جارہاہے۔ اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت داعی کی جو زبان تھی وہی مدعو کی زبان بھی تھی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ داعیوں کے گروہ نے اس امکان کو ایک فیصد بھی استعمال نہیں کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے لیڈروں نے اس زمانہ میں ان حکمرانوں سے بے شمار ملاقاتیں کیں۔ مگر یہ تمام لیڈر ان حکمرانوں سے صرف مانگنے کے لیے ملتے تھے نہ کہ انھیں دینے کے لیے ۔ وہ یہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ دور ختم ہو گیا جس میں اردو زبان نے عوامی اہمیت حاصل کی تھی۔