Al-Risala · April 1987

دعوتی عمل

Al-Risala, April 1987, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

”اس جزیرہ میں تو صرف مگر مچھ اور سانپ اور کھنگھجورے ہیں“ مسیحی سیاح نے اپنی سیاحت سے واپس آکر مسیحی مشنری کو رپورٹ دی۔

”خیر انہیں ہونے دو، یہ بتاؤ کہ کیا وہاں کچھ انسان بھی ہیں“ ”ہاں، ہیں کیوں نہیں۔ مگر ایسے وحشی اور خونخوار ہیں کہ ان کے درمیان قدم رکھنے کا تو خیال بھی نہ کیجئے“ ”بس معلوم ہوگیا۔ اتنی اطلاع کافی ہے۔ انسان جہاں کہیں بھی آباد ہیں، مشنری کا وہاں پہنچنا ضروری ہے“ یہ خلاصہ ہے اس گفتگو کا جو ایک مسیحی سیاح اور لندن مشنری سوسائٹی کے ایک ذمہ دار کے درمیان ۱۸۷۱ء میں جزیرہ نیوگنی کے جنوبی ساحل پر ہوئی۔ اس کے بعد جزیرہ میں مشنری کا کام شروع اور اب اس گفتگو کے سو برس بعد جزیرہ نہ صرف مہذب ہو چکا ہے بلکہ اس کی بیشتر آبادی عیسائی ہے۔ دو ہزار برس پہلے مسیح اس دنیا سے گئے تو ان کے پیچھے صرف ایک درجن عیسائی تھے مگر مسلسل تبلیغ کے نتیجہ میں آج عیسائیوں کی تعداد تمام مذاہب میں سب سے زیادہ ہے۔ عیسائیوں کے تبلیغی ادارے اتنے منظم ہیں اور اتنے وسیع پیمانہ پر کام کر رہے ہیں جس کی کوئی دوسری مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اس کے برعکس مسلمانوں پر ان کے پیغمبر نے یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ وہ قیامت تک ساری قوموں تک اسلام کا پیغام پہو نچاتے رہیں۔ مگر پیغمبر اسلام کے ابتدائی پیرووں کے بعد یہ کام تقریباً بند ہوگیا۔ بلاشبہ اسلام بعد کی صدیوں میں بھی پھیلتا رہا ہے۔ مگر وہ زیادہ تر خود اپنے زور پر پھیلا ہے۔ ورنہ مسلمانوں کا محبوب ترین مشغلہ جس میں وہ موجودہ سائنٹفک دور میں بھی انتہائی انہماک کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، وہ جنگ وجدل اور سیاسی معرکہ آرائی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز انہیں کام ہی نظر نہیں آتی جس میں وہ اپنے آپ کو مشغول کریں۔ اس عموم میں بعض استثناء ضرور ہے۔ مگر وہ استثناء اصاغر کا ہے نہ کہ اکابر کا۔

دعوتی عمل کی اہمیت صرف اس اعتبار سے نہیں ہے کہ وہ اسلام کی توسیع اور اشاعت کا اس کی اہمیت خود موجودہ مسلمانوں کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ ہے۔ گڑھے کے پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے مگر دریا کے پانی میں کبھی بدبو پیدا نہیں ہوتی۔ فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ گڑھے کا پانی ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ گڑھے کا پانی ہمیشہ وہی پانی رہے۔ اس میں نیا پانی داخل نہیں ہوتا۔ اس کے بر عکس دریا کا پانی جاری پانی ہے اس میں ہر وقت نیا پانی آتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گڑھے کے پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اور دریا کے پانی میں بدبو پیدا نہیں ہوتی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ قوموں کا بھی ہے۔ قومیں اسی وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک ان میں نیا خون داخل ہوتا رہتا ہے۔ جس قوم میں نیا خون داخل ہونا بند ہو جائے وہ بند گڑھے کی طرح بے جان ہو کر رہ جائے گی۔

اسلام کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر بنو امیہ کے زمانہ تک اس کو زبردست عروج اس کے بعد بنو عباس کے دور کے نصف آخر میں زوال شروع ہو گیا۔ عروج کی تاریخ پستی کی تاریخ میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے بعد اسلام کو دوبارہ عروج اس وقت ہوا جب کہ ترک اقوام بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہو گئیں۔ ترکوں کے ذریعہ اسلام کو دوبارہ عروج حاصل ہوا جو کئی سوسالہ تک جاری رہا۔ اسلام کے جسم میں نئے خون نے داخل ہو کر اسلام کو نئی زندگی دی۔

انیسویں صدی میں مغربی طاقتیں ابھریں۔ انھوں نے مغلوں اور ترکوں کو مغلوب کر کے تقریباً ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کر لیا۔ اسلام کی تاریخ دوبارہ تنزل کا شکار ہو گئی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اسلام کے جسم کو دوبارہ نئے خون کا انتظار ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بیسویں صدی کے نصف اول تک کا زمانہ اسلامی تحریکوں کا زمانہ ہے۔ اس سو سال مدت میں بے شمار تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں غیر معمولی پھیلاؤ حاصل ہوا۔ وہ مجموعی طور پر تقریباً تمام مسلمانوں کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر عظیم الشان ہنگاموں کے

باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو سکیں ۔

ان تحریکوں کی عظیم الشان کامیابیوں کے درمیان عظیم الشان ناکامی کا سبب صرف وہ یہ کہ تمام کی تمام تحریکیں صرف مسلمانوں میں کام کرتی رہیں۔ ان میں کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک نہیں ہے جس کی جدوجہد کا نشانہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہو۔ کے سب پرانے خون پر محنت کرتے رہے۔ نئے خون کے لیے ان میں سے کوئی متحرک

یہی ان تحریکوں کی ناکامی کا اصل سبب ہے۔ اسلام کی تاریخ کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے کے لیے "نئے خون" کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ دور میں ہماری تمام تحریکیں صرف "پرانے خون" پر اپنی طاقت صرف کرتی رہیں ۔ اس کا نتیجہ جو ہونا تھا وہی ہوا۔ سوسال سے بھی زیادہ عرصہ کی بے شمار کوششیں ضائع ہو کر رہ گئیں ۔ اور اسلام کی تاریخ دوبارہ نہ بنائی جاسکی ۔ بے جان افراد کے ذریعہ جاندار قوم کی تعمیر ممکن نہیں۔ بنوامیہ کے بعد اسلامی تاریخ پر جو زوال آیا اس کو دوبارہ عروج نے خون کے ذریعہ اب موجودہ زمانہ میں اسلام کی تاریخ جس زوال سے دوچار ہے اس کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اسلام کی صفوں میں نئے خون کو داخل کیا جائے ۔ یہی پہلے بھی اس مسئلہ کا حل تھا اور یہی آج بھی اس مسئلہ کا حل ہے ۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جس کے ذریعہ سے دورِ جدید میں دوبارہ اسلام کی نئی تاریخ بنائی

یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے:

وان تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم اور اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے لا يكونوا امثالكم (ر محمد ۔ آخر ) گا، وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔

دین ایک ابدی حقیقت ہے۔ البتہ دین کے حاملین بدلتے رہتے ہیں اور تبدیلی کا یہ عمل ہی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ حاملین دین کے اندر مطلوبہ کردار باقی رہے ۔

Printed page