فیض بقدر استعداد
Al-Risala, April 1987, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں ہے کہ تمہارے دین کی سب سے بہتر چیز تفقہ ہے (خیر دینکم الفقه) رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عبد الله بن عباس کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی : اللهم فقهه في الدين وَعَلَّمْهُ التَّاوِيل (خدایا، اس کو دین کی فہم عطا فرما اور اس کو تاویل کلام کی صلاحیت دے)، بخاری و مسلم میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ به من الهدى والعلم كمثل غيث أصاب أرضاً ، فكانت منها طائفة طيبة قبلت الماء فأنبتت الكلأ والعشب الكثير ... وكان منها اجادب أمسكت الماء فنفع الله بها الناس ... فشربوا منها وسقوا وزرعوا ... واصاب طائفة منها أخرى، إنما هى قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلاً ... فذالك مثل من فقه في دين الله ونفعه ما بعثني الله به فعلم وعلم، ومثل من لم يرفع بذلك رأسا، ولم يقبل هدى الله الذى أرسلت به ۔
حضرت ابوموسی اشعری بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایک بارش کی ہے جو زمین پر برسے۔ اس کا ایک حصہ زرخیز اس نے پانی کو قبول کیا اور خوب گھاس اور سبزہ اگایا۔ اور اس زمین کا ایک حصہ بنجر زمین ہو۔ اس نے پانی کو روکا تو اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ اور زمین کا ایک اور حصہ ڈھلوان وہ نہ پانی کو روکتا تھا اور نہ سبزہ اگاتا تھا۔ پس یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین میں سمجھ حاصل کی، اس سے اس کو نفع ہوا۔ اس نے سیکھا اور سکھایا۔ اور (دوسری) مثال اس شخص کی ہے جس کو اس میں سے کوئی حصہ نہ ملا اور اس نے اس ہدایت کو قبول نہ کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ۔
زمین کو بارش کا فائدہ اس کی استعداد کے بقدر ملتا ہے ، یہی معاملہ انسان کا بھی ہے ۔ ہدایت تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ مگر جو شخص جتنی استعداد کا ثبوت دے گا اتنا ہی فائدہ اس کو حاصل اور سب سے بڑا فائدہ جو ہدایت الہی سے کسی کو ملتا ہے وہ معرفت ہے ۔