با معنی کائنات
Al-Risala, April 1987, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اندازہ کیا گیا ہے کہ ہماری قریبی کہکشاں ایک لاکھ سال نور کی وسعت میں پھیلی ہوئی ہے۔ کہکشاں کے اندر تین لاکھ ملین ستارے پائے جاتے ہیں ۔ ہمارا شمسی نظام اس کے مرکز سے ۲۷ ہزار سال نور کے فاصلہ پر واقع ہے۔ کہکشاں کے اکثر ستارے ممکن طور پر کسی نہ کسی قسم کا سیاروں کا سلسلہ مگر ان میں سے اکثر سیارے زندگی کے لیے غیر موزوں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ستارہ سے یا تو بہت زیادہ قریب ہیں یا بہت زیادہ دور ہیں۔ تاہم چوں کہ ستاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، خالص حسابی اعتبار سے یہ امکان ہے کہ بہت سے سورج جیسے ستارے ہوں اور اسی طرح بہت سے زمین جیسے سیارے :
تاہم بے شمار سیار آتی نظاموں میں صرف ایک ہی سیار اتی نظام ہے جس میں انسان جیسی زندہ مخلوق آباد ہو سکتی ہے۔ اور وہ وہی نظام ہے جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ اس قسم کا کوئی اور سیاراتی نظام ابھی تک ساری کائنات میں معلوم نہ کیا جا سکا۔ موجودہ زمانہ میں سائنس کا ایک مستقل شعبہ وجود میں آیا ہے جس کو ایس ای ٹی آئی (SETI) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــــــ بالائے خلا ذہانت کی تلاش :
زندگی کے ارتقائی نظریہ کے تحت سائنس دانوں کا گمان ہے کہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی انسان جیسی ذہین مخلوق ہونی چاہیے۔ کیوں کہ ارتقائی عمل عموم چاہتا ہے ، ارتقائی عمل میں استثناء کے لیے کوئی اس فرضی قیاس پر جدید انسان کو اتنا زیادہ یقین ہے کہ ایک سائنسی مصنف اسحاق ایسمو
(Issac Assimov) نے حساب لگا کر اعلان کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں چارسو ملین سیارے ایسے ہیں جن میں پودے اور حیوان پائے جاتے ہیں یا پائے جاسکتے ہیں ۔ مگر یہ سب کا سب محض حسابی قیاس ہے ، کھربوں ڈالر خرچ کرکے روس اور امریکہ نے اس سلسلے میں جو تحقیقات کی ہیں ان کے ذریعہ اب تک زمین جیسے کسی ایک سیارے کا بھی کوئی أدنی نشان دریافت نہ کیا جاسکا ۔ سورج ایک اوسط درجہ کا ستارہ ہے ۔ اس کا قطر آٹھ لاکھ ۵۴ ہزار میل ہے وہ ہماری زمین سے تقریبا بارہ لاکھ گنا بڑا ہے ۔ سورج کی سطح پر جو حرارت ہے اس کا اندازہ بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ ٹمپریچر کیا گیا ہے ۔
زمین سے سورج کا فاصلہ تقریبا نو کروڑ ، ۴۰ لاکھ میل ہے ۔ یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے ۔ یہ واقعہ ہمارے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ کیوں کہ اگر یہ فاصلہ گھٹ یا بڑھ جائے تو زمین پر انسان جیسی مخلوق کی آباد کاری نا ممکن ہو جائے ۔ مثلاً اگر ایسا ہو کہ سورج نصف کے بقدر ہم سے قریب ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہوکہ اس کی شدت سے کاغذ جلنے لگے ۔ اور اگر زمین اور سورج کا موجودہ فاصلہ دگنا زیادہ ہو جائے تو اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ زمین پر زندگی جیسی چیز باقی نہ رہے ۔ یہی صورت اس وقت پیدا ہوگی جب کہ موجودہ سورج کی جگہ کوئی دوسرا غیر معمولی ستارہ آجائے ۔ مثلاً ایک ستارہ ہے جس کی گرمی ہمارے سورج سے اسی ہزار گنا زیادہ ہے ، اگر وہ سورج کی جگہ ہوتا تو پوری زمین کو آگ کی بھٹی بنا دیتا ۔
مولانا بدیع الزماں مولانابد یع الزماں مکتبہ علمیہ لاہور صفحات ۱۹۲ ۲۰ روپیہ صفحات ۲۸۰ ۲۸ روپیہ صفحات ۱۴۲ ۷۲۵ روپیہ