ایک سفر
Al-Risala, April 1987, pp. 29–44
By Maulana Wahiduddin Khan
فروری ۱۹۸۷ میں حیدر آباد کا سفر ہوا۔ یہ حیدر آباد کے لیے میرا دسواں سفر تھا۔ چھ سفروں کا تذکرہ الرسالہ اکتوبر ۱۹۸۳ میں شائع ہو چکا ہے۔ میرا ساتواں سفر اسلامی مرکز کی شاخ حیدر آباد کے افتتاح کے سلسلہ میں تھا۔ اس موقع پر وہاں افتتاحی جلسہ ہو جس میں دیگر شخصیتوں کے علاوہ جناب سید مکثر شاہ صاحب اور جناب سید ہاشم علی صاحب شریک ہوئے ۔ اس سفر کی روداد مقامی اخبارات (مثلاً سیاست ، رہنمائے دکن ، منصف ۱۲ فروری ۱۹۸۴) میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ۔
حیدر آباد کے لیے میرا آٹھواں سفر جولائی ۱۹۸۵ میں ہوا۔ اس سفر کی روداد الرسالہ نومبر ۱۹۸۵ میں شائع ہو چکی ہے۔ نواں سفر جنوری ۱۹۸۷ میں ہوا۔ یہ ایک تنظیمی اور انتظامی نوعیت کا سفر تھا۔ اس موقع پر کوئی عمومی پروگرام نہیں کیا جا سکا۔ دسواں سفر موجودہ سفر تھا جو فروری ۱۹۸۷ میں پیش آیا۔
۱۳ فروری ۱۹۸۶ کی صبح کو ۶ بجے دہلی ایرپورٹ پر پہنچا تو حسب معمول ایرپورٹ پر آدمیوں کی زبر دست چہل پہل تھی۔ کوئی ایک طرف جا رہا تھا اور کوئی دوسری طرف ۔ کے چہرہ پر سکون تھا اور کسی کے چہرہ پر اداسی۔ میں نے سوچا کہ کوئی شخص خوشی کی خبر سن کر جا رہا ہے اور کوئی شخص غم کی خبر سن کر۔ کوئی اپنے تجارتی فائدہ کی طرف جا رہا ہے اور کوئی اپنے تجارتی نقصان کی طرف ۔ بظاہر ہر آدمی الگ الگ منزل کا مسافر ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھئے تو سب کی منزل ایک ہے ۔ اور وہ موت ہے۔ ہر ایک بالآخر موت کے کنارے پہچنے والا ہے ۔ مگر یہی وہ یقینی منزل ہے جس کا علم کسی کو نہیں ۔
جہاز کے اندر "انفلائٹ ریڈنگ" کے لیے انڈین ایر لائنس کا ماہنامہ سواگت (فروری اس میں ایک مضمون ہندوستان کے عیسائی چرچ کے بارے میں تھا۔ اس مضمون کے ساتھ کئی تصویریں تھیں جن میں چرچ کی اندرونی تصویر بھی تھی۔ اس میں حضرت مسیح کو (نعوذ باللہ) اس حال میں دکھایا گیا تھا کہ جسم کے کپڑے اترے ہوئے ہیں اور ہاتھ پاوں میں
میں ٹھوںک کر آپ کو بالکل بے چارگی کے عالم میں ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ اس کو دیکھ کر مجھے یورپ کے ایک عیسائی کی بات یاد آئی۔ اس نے کہا تھا کہ مغربی دنیا میں عیسائیت کے زوال کا اصل سبب عیسائی مذہب نہیں بلکہ عیسائی چرچ ہیں۔ عیسائی چرچ ایک طرف حضرت مسیح کو خدا بتاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ دکھاتے ہیں کہ آپ کو بے چارگی کے ساتھ صلیب پر لٹکا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اب آج کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب وسیع کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کو یہ تصور بالکل نا قابل فہم معلوم ہونے لگتا ہے کہ جو خدا اتنی بڑی کائنات کا خالق و مالک ہے ، وہ اس بے چارگی کے ساتھ انسانوں کے ہاتھ سے ہلاک کر دیا جائے۔ آج حیدر آباد ایک شہر کا نام ہے۔ چالیس سال پہلے حیدر آباد ایک اسٹیٹ کا نام تھا جس کا رقبہ اٹلی کے برابر تھا ۔ یہاں کا نواب دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ حیدر آباد کا ابتدائی بانی سلطان قلی قطب شاہ تھا ۔ وہ بہمنی سلطنت میں ایک فوجی ۱۵۱۲ء میں اس نے بغاو ت کر کے اس علاقہ میں اپنی آزاد سلطنت قائم کر لی۔ تاریخ میں قطب شاہی کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ سلطنت چلتی رہی ، یہاں تک کہ اورنگ زیب نے ۱۶۸۵ء میں اس کو فتح کر کے مغل سلطنت میں شامل کر لیا ۔ اس کے بعد یہاں مغل گورنر رہنے لگے۔ نظام الملک آصف جاہ اسی قسم کا ایک گورنر تھا۔ ۱۳۱۷ء میں اس کا تقرر ہوا۔ اس کے بعد اس کے اندر آزادی کے رجحانات پیدا ہوئے ۔ ۱۴۴۷ء میں اس نے اس علاقہ کو دہلی کی مغل سلطنت سے کاٹ لیا اور یہاں اپنی آزاد سلطنت قائم کر لی۔ غیر منقسم ہندوستان میں یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست تھی۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد سابق مسلم نواب (نظام دکن ریاست کو سابقہ حیثیت پر باقی رکھنا چاہتے تھے ۔ وہ نئی ہندوستانی حکومت سے موجودہ صورت حال کی بحالی کا معاہدہ (Standstill agreement) کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ۲۹ نومبر، ۱۹۴۷ء کو اس معاہدہ پر دستخط ہو گئے تھے ۔ اس معاہدہ کے تحت حیدر آباد کو ایک قسم کی نیم آزاد ریاست کی حیثیت حاصل رہتی ۔ مگر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار کے الفاظ میں، نظام حیدر آباد کا منصوبہ ناکام ہو گیا جس کا بڑا سبب یہ تھا کہ مقامی طور پر ایک مقبول مسلم لیڈر (قاسم رضوی) نے ایک عسکری
تحریک رضا کار کے نام سے چلادی۔ اس نے ہندوستان کی فوجی طاقت کو موقع دیدیا کہ وہ ریاست میں مداخلت کرکے ستمبر ۱۹۴۸ میں اس کو اپنے کنٹرول میں لے لے۔ چار روزہ پولیس ایکشن کے بعد حیدر آباد نے دوسری دیسی ریاستوں کی حیثیت کو قبول کر لیا۔ بعد کو وہ تقسیم کر دی گئی اور جغرافی نقشہ سے اس کا وجود مٹ گیا :
حیدر آباد کی مسلم ریاست ۴۴۷۱ میں اپنے مرکز سے بغاوَت کے نتیجہ میں قائم ہوئی تھی ۔ اور ۱۹۴۸ میں وہ خود مسلم قیادت کی نادانی کے نتیجہ میں ختم ہو گئی۔ یہی کہانی پچھلے کئی سو سال سے مسلم تاریخ میں دہرائی جا رہی ہے ۔ اپنے مرکز سے بغاوت کر کے اتحاد کو ختم کرنا اور پھر مزید نادانیوں کے نتیجہ میں اپنا وجود مٹا لینا ۔ حیدر آباد کا آغاز مسلم تاریخ کے ایک المیہ کو بتاتا ہے اور اس کا اختتام مسلم تاریخ کے دوسرے المیہ کو۔
پاکستان کی شائع شدہ ایک کتاب میں حیدر آباد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے قائد اعظم کی وفات (۱۱ ستمبر ۱۹۴۸) کی خبر سن کر تمام پاکستانی سوگ میں مصروف تھے ۔ اس دنیا سے اُٹھ گئی تھی جس سے بھارتی لیڈر خائف تھے۔ اس لیے انھوں نے حیدر آباد کے خلاف فوجی کارروائی کر کے اسے زبردستی بھارت میں شامل کر لیا (تاریخ پاکستان وہند، صفحہ ۴۷۶) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ایسے فانی لیڈر تو پیدا کر لیے جن سے دیگر اقوام خائف ہوں۔ مگر وہ ایسے غیر فانی خدا کو نہ پاسکے جو دیگر اقوام کے مقابلہ میں ان کا مددگار بن سکے ۔ ہے ان کی محرومی اور کیسی عجیب ہے ان کی کامیابی۔
شہر حیدر آباد کی ۳۰ لاکھ آبادی میں ۱۴ لاکھ مسلمان ہیں ۔ یعنی کل آبادی کا تقریباً ۴۵ فی صد ۔ تاہم مسلمانوں کی اس آبادی کا ۸۰ فی صد سے زیادہ حصہ قدیم حیدر آباد میں بسا ہوا ہے۔ جدید حیدر آباد میں ان کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کا یہی تناسب ہندوستان
کے اکثر شہروں میں نظر آتا ہے۔ ہر شہر میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ قدیم شہر میں زیادہ ہیں اور جدید شہر میں کم ۔ یہ گویا ایک علامت ہے کہ مسلمان قدیم دور میں دنیا سے آگے تھے ، مگر جدید دور میں وہ دنیا سے پیچھے ہو گئے ۔
موجودہ حیدر آباد کے تین بڑے حصے ہیں ۔ نیا حیدر آباد ، پرانا حیدر آباد ، سکندر آباد ۔ جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں وہ سب پرانے حیدر آباد میں ہوتے ہیں ۔ نئے حیدر آباد یا سکندر آباد میں کوئی فساد نہیں ہوتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے حیدر آباد اور سکندر آباد میں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں ۔ مگر پرانے حیدر آباد میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ " تعلیم " فرقہ وارانہ فساد کے خلاف ایک روک کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جو لوگ فی الواقع اس ملک میں فرقہ وارانہ فساد کو ختم کرنا چاہتے ہیں انھیں چاہیے کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش جب معاشرہ کے زیادہ لوگ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو فساد کا سلسلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا ۔ پرانے حیدر آباد کا شاید سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہجوم ہے ۔ تنگ سڑکیں اور زیادہ ٹریفک ، اسی کا دوسرا نام پرانا حیدر آباد ہے ۔ بعض اوقات آدمی محسوس کرتا ہے کہ اگر وہ پیدل چلے تو شاید وہ سواری سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائے گا ۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے یہاں کا لطیفہ بیان کیا ۔ ایک شخص پرانے حیدر آباد کے علاقہ سے پیدل گزر رہا تھا ، اتنے میں اس کا کوئی جاننے والا اپنی کار پر ادھر سے گزرا ۔ اس نے اپنی کار روک کر اس آدمی سے کہا کہ گاڑی میں آجائیے ، آگے میں آپ کو آپ کی منزل پر چھوڑ دوں گا ۔ آدمی نے یہ سن کر جواب دیا : آپ کا شکریہ ، مگر مجھے ذرا جلدی ہے ۔
حیدر آباد میں بہت سی تاریخی چیزیں ہیں جن کو دیکھنے کے لیے لوگ کثیر تعداد میں وہاں جاتے ہیں ۔ انھیں میں سے ایک سالار جنگ میوزیم ہے ۔ اس میوزیم میں ۴۰ ہزار سے زیادہ نادر نمونے رکھے ہوئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی دنیا میں یہ اپنی قسم کا واحد میوزیم ہے ۔ ریاست کے ایک سابق وزیر اعظم نے بنایا تھا ۔
اس میوزیم میں جو چیزیں رکھی گئی ہیں ان میں سے ایک عجیب چیز ایک سنگ مرمر کا مجسمہ اس مجسمہ میں ایک عورت کو اس حال میں دکھایا گیا ہے کہ وہ نہا کر غسل خانہ سے نکلی
ہے اور اس کے جسم پر بھیگا ہوا کپڑا لپٹا ہوا ہے ۔ اس مجسمہ کو اس قدر فن کاری کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سچ مچ کوئی بھیگے کپڑے میں کھڑا ہوا ہے ۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا : اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر آرٹ کو تخلیق کرنے کی یہ نادر صلاحیت شاید اس لیے رکھی ہے کہ آدمی خالق اصغر کو دیکھ کر خالق اکبر کا تصور قائم کر سکے ۔
حیدر آباد کے ریاستی دور میں جو شخصیتیں ابھریں ان میں سے ایک ہیں نواب عماد الملک مولوی سید حسین بلگرامی (۱۸۴۴ء - ۱۹۲۶ء) وہ نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے۔ اردو کے علاوہ انگریزی ، فرانسیسی ، عربی ، فارسی زبانیں بھی بخوبی جانتے تھے۔ حیدر آباد ریاست میں وہ مختلف عہدوں پر مامور رہے ۔ آخر میں وہ ناظم تعلیمات تھے ۔ ۳۰۰ سال سے زیادہ مدت تک وہ ریاست کے تعلیمی امور کے ذمہ دار اعلیٰ رہے ۔ بہت سے اعزازات و خطا بات سے سرفراز کیے گیے ۔ ۱۹۱۰ میں انھوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی شروع کیا تھا ۔ مگر وہ نصف قرآن سے زیادہ نہ ہو سکا ۔
نواب عماد الملک نہایت صاف گو آدمی تھے۔ مولوی عبد الحق صاحب نے اپنی کتاب " چند ہم عصر " میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ سابق نظام دکن میر محبوب علی خاں نے اعلیٰ ارکان سلطنت سے پوچھا کہ عوام کا ان کی نسبت کیا خیال ہے ۔ ہر ایک نے تعریف کے پل باندھ دیے ۔ عماد الملک خاموش رہے ۔ مکرر دریافت کرنے پر فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ شراب پئے ہوئے پڑے رہتے ہیں ۔ کام کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے ۔ نظام دکن نے ان کی اس راست گوئی کو پسند کیا اور اس کے صلہ میں ان کو الماس کی ایک بیش قیمت انگوٹھی عطا فرمائی ۔ میر محبوب علی خاں کے بعد ان کے صاحبزادے میر عثمان علی خاں ۱۹۱۱ میں حیدر آباد کے فرماں روا مقرر ہوئے اور خاتمہ ریاست (۱۹۴۸ء) تک اس کے فرماں روا رہے۔ مولوی عبد الحق ۔ صاحب نے نواب عماد الملک کا دوسرا قصہ اس طرح لکھا ہے کہ ایک بار نواب میر عثمان علی خاں آخری فرماں روائے دکن ) نے مسئلہ ازدواج پر بحث کے دوران کہا کہ اسلام میں تعدد ازواج کے بارہ میں سہولت ہے ۔ نواب عماد الملک نے فوراً ٹوکا اور کہا کہ اسلام نے اس معاملہ میں ایسی کڑی شرط لگا رکھی ہے کہ کوئی شخص ایک سے زائد بیوی نہیں رکھ سکتا۔ شاہ دکن اس
صاف گوئی پر خفا ہو گئے ۔ اس وقت وہ ڈنر پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ شاہ دکن نے اسی وقت ان کو ڈنر کی میز سے اٹھا دیا ۔
نواب میر عثمان علی خاں نے اپنے ایک ماتحت کو کھانے کی میز سے اٹھا دیا۔ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ بہت جلد وہ خود حکمرانی کی میز سے اٹھائے جانے والے ہیں تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے ۔ سرکشی کے تمام واقعات صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ آدمی اپنے مستقبل سے بے خبر رہتا ہے۔ آدمی اگر اپنے مستقبل کو جانے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے ۔
حیدر آباد کی تاریخ میں ایک نہایت اہم سبق ہے۔ ریاست کے دور میں یہاں وزیرِ اعظم کے عہدہ پر اکثر کوئی ہندو شخصیت ہوتی تھی۔ مثلاً ایک زمانہ میں مہاراجہ سر کشن پرشاد (وفات ۱۹۴۰) ریاست کے صدر اعظم تھے۔ وہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ اس سے نیچے کی ملازمتوں میں عام طور پر مسلمان لیے جاتے تھے۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی معاش کا واحد سب سے بڑا ذریعہ سرکاری ملازمت ہی تھی۔
یہ صورت حال ریاست کے ہندوؤں کے لیے ڈس ایڈوانٹیج کی حیثیت رکھتی تھی۔ ڈس ایڈوانٹیج ان کے لیے ایڈوانٹیج بن گیا۔ سرکاری ملازمت سے مایوس ہو کر انہوں نے تجارت کے میدان میں اپنی کوشش شروع کر دی۔ یہاں تک کہ وہ ریاست کی تقریباً پوری تجارت پر قابض ہو گئے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ ہر محرومی میں ایک نئی شاندار تر کامیابی کا پہلو موجود ہوتا ہے، بشرطیکہ آدمی اس کو دریافت کرے اور اس کی طرف اپنی زندگی کا سفر شروع کر دے۔
حیدر آباد کے سفر کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ اس کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے ۔ ۱۵ فروری کی شام کو میں باغ عامہ میں تقریر کر کے نکلا۔ لوگ مصافحہ کرنے کے لیے ہر طرف گھیرے اتنے میں ایک نوجوان بھیڑ کو چیرتا ہوا میرے قریب آیا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کے نزدیک آپ کی سب سے بہتر تصنیف کون ہے۔ میں نے کہا : میری سب سے بہتر تصنیف آپ یہ انسان جو میرے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ یہی میری سب سے بہتر تصنیف ہے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے چپ رہا ، اس کے بعد بولا : جب آپ مجھ کو اپنی سب سے بہتر تصنیف
کہتے ہیں تو میں بھی اس تصنیف کو طبع کر کے دکھاؤں گا۔
یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ میں نے کہا کہ خدایا ، تو اس نوجوان کے الفاظ کو پورا کر، اور ایسی بہت سی زندہ تصنیفیں تیار کر دے جو میرے مشن کو لے کر چلیں اور میرے بعد اس کو آگے بڑھائیں ۔
حیدر آباد میں قارئین الرسالہ کا کافی بڑا حلقہ ہے ۔ ان لوگوں نے یہاں ایک خاص کام "بک اسٹال" کا شروع کیا ہے ۔ وہ ہر ہفتہ میں کم از کم دو بک اسٹال ضرور لگاتے ہیں ۔ ایک جمعہ کے دن جامع مسجد کے سامنے ۔ دوسرا اتوار کے دن باغ عامہ کے ہفتہ وار جلسہ میں ۔ یہ طریقہ نہایت مفید ہے ۔ دوسرے مقامات کے لوگوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں آپ کا سفرنامہ چھپتا ہے ۔ اگر ہم سفرنامہ لکھیں تو کیا وہ الرسالہ میں چھپ سکتا ہے ۔ میں نے جواب دیا کہ الرسالہ کا سفرنامہ دراصل سبق نامہ ہوتا اگر آپ بھی اسی طرح سبق نامہ لکھیں تو انشاء اللہ وہ بھی شائع ہو جائے گا ۔ مسٹر پریم مرارکا ( صنعت کار) کو اپنے ایک مسلم دوست سے انگریزی الرسالہ ملا۔ وہ ان کو اتنا پسند آیا کہ وہ اس کے باقاعدہ قاری ہو گئے ۔ وہ مجھ سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ ان کے کئی ہم قوم افراد نے الرسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کو ہمارے نام بھی جاری کر دو۔ چنانچہ ان کے ذریعہ کئی اور ہندو صاحبان الرسالہ انگریزی کے قاری بن گئے ہیں ۔ مسٹر مرارکا نے کہا کہ الرسالہ کے پہلے پیج پر آپ دو سطر یا تین سطر کی جو بات لکھتے ہیں وہ ایسی ہوتی ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد آدمی اس سے رک نہیں سکتا کہ وہ آگے نہ پڑھے۔
مسٹر مہادیون ریڈی (حمایت نگر) پہلے ایک بڑے سرکاری عہدہ پر تھے ۔ اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں ۔ اردو زبان بخوبی جانتے ہیں ۔ وہ الرسالہ کے باقاعدہ قاری ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تذکیر القرآن جلد اول کو پانچ بار پڑھ چکے ہیں اور اب اس کو چھٹی بار پڑھ رہے ہیں ۔ کی دوسری جلد کا انھوں نے شدت سے تقاضا کیا۔
مسٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مجلس ہوئی اس گفتگو کے دوران جو باتیں معلوم ہوئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ۱۹۴۸ء میں جب ریاست
کا خاتمہ ہوا تو یہاں کے مسلمان بہت پریشان ہوئے۔ کیوں کہ اس وقت تک ان کی معاشیات کا انحصار زیادہ تر سرکاری ملازمت پر تھا اور ریاست کے ختم ہونے کے بعد وہ ملازمتوں سے محروم ہو گئے۔ اس طرح وقتی طور پر تو انھیں سخت تکلیف ہوئی۔ مگر اس محرومی نے انھیں بلند تر کامیابی تک پہنچا ملازمت کے میدان میں راستہ بند پا کر وہ تجارت کے میدان میں داخل ہونے لگے۔ چالیس سال کے بعد حیدر آباد کی تجارت میں مسلمانوں کا قابلِ لحاظ حصہ ہو چکا ہے، جب کہ ریاست کے زمانہ میں یہاں کی تجارت میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔
اکثر لوگ جانتے ہیں کہ وہ انفرادی ناکامی کو کس طرح دوبارہ کامیابی میں تبدیل کر سکتے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس انفرادی تجربہ کو ملی اور اجتماعی معاملات میں استعمال کرنا
- الرسالة (جنوری ۱۹۸۷ء) میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے "یہ اسلام اس مضمون میں مسلمانوں کی اس روش پر تنقید کی گئی ہے کہ کسی آدمی کی ایک بات کو غلط قرار دے کر اس کی جائداد پھونکنے کو جلانے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں اپنے نقطہ نظر کی تائید میں متعدد واضح آیتوں کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں۔ ایک صاحب نے اس مضمون پر اعتراض کیا۔ مگر انھوں نے قرآن یا حدیث کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ قرآن و حدیث کی دلیل کے ساتھ کہی گئی ہے۔ و حدیث کو قرآن و حدیث سے کاٹ سکتے ہیں نہ کہ اپنے خود ساختہ الفاظ سے۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام انداز ہے۔ کسی بات کے حق میں خواہ قرآن و حدیث کے کتنے ہی دلائل پیش کر دیجئے ۔ وہ اس کی تردید کے لیے اس کو کافی سمجھیں گے کہ اپنے خود ساختہ " دلائل " پیش کر دیں۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کو اپنے خود ساختہ " دلائل " کے ذریعہ رد کرنا سراسر فعل حرام ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کے جواب میں قرآن و حدیث پیش کرے ورنہ خاموش رہے ۔
کشن جیونت راؤ پاٹل (عمر ۴۴)، اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ناندیڑ سے آئے تھے۔ اردو بالکل شروع سے پڑھتے ہیں اور اس کا مکمل فائل نمبر اسے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ ان کی مادری
زبان مرہٹی ہے ۔ وہ پہلے ایک لفظ اردو نہیں جانتے تھے ۔ جولائی ۱۹۷۵ء میں ان سے میری پہلی ملاقات ناندیر میں ہوئی تھی ۔ ان سے کئی مفید گفتگوئیں ہوئیں ۔ میں نے کہا کہ میں ایک اردو ماہنامہ نکالنے والا ہوں ۔ وہ اتنے متاثر تھے کہ انھوں نے یہاں ۱۵ فروری کی ملاقات میں بتایا کہ جیسے ہی آپ میرے وطن ( ناندیر ) سے روانہ ہوئے ، میں نے اسی وقت اردو سیکھنے کے لیے ماسٹر کا انتظام کیا تا کہ جب الالرسالہ نکلے تو میں اس کو براہ راست پڑھ سکوں ۔ چنانچہ اب وہ الرسالہ کو صد فی صد براہ راست اردو سے سمجھ لیتے ہیں ۔ وہ اپنے ساتھ ایک اور شخص گنگا دھر ملا گُڑ ( عمر ۴۰ ) کو بھی لائے تھے ۔ وہ اردو ایک لفظ پڑھ نہیں سکتے ۔ تاہم وہ ان کو رسالہ کے مضامین پڑھ کر سناتے ہیں اور مرہٹی زبان میں ان کے سامنے اس کی وضاحت کرتے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ کو کیا خوراک ملی ۔ انھوں نے کہا کہ ” الرسالہ سے سوچنے کا ذہن بدل گیا “۔ پہلے میں ایک جانور کی طرح تھا ۔ میرا مقصد تھا کہ کماؤ کھاؤ ، اب الرسالہ پڑھنے سے مجھے زندگی کا مقصد مل گیا ۔ کشن پٹیل صاحب نے اردو سیکھنے کے لیے بے پناہ محنت کی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ اردو کے الفاظ اور حروف تہجی کو میں گھنٹوں یاد کیا کرتا تھا ، یہاں تک کہ میرے جبڑوں میں درد پیدا ہو گیا ۔ وہ نہایت سمجھ دار اور محنتی آدمی ہیں ۔ دیر تک ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔
حبیب بھائی نے کہا کہ میں ایک آفس میں گیا ۔ وہاں دیوار پر ایک قدرتی منظر کی تصویر تھی ، اس کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ اگر تم میری خاموشی کو نہیں سمجھ سکتے تو تم میرے الفاظ کو بھی ہرگز نہیں سمجھوگے :
If you don't understand my silence, you will never understand my words. یہ قول بہت با معنی ہے ۔ الفاظ کسی حقیقت کا نہایت کم تر اظہار ہوتے ہیں ۔ کسی حقیقت کی گہرائی کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو الفاظ سے زیادہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ لیے خاموشی بول بن جائے ۔ جو بین السطور کو بھی اسی طرح پڑھ لیں جس طرح کوئی شخص سطور کو پڑھتا ہے ۔
حبیب بھائی نے بتایا کہ ہمارے دادا یہ کہا کرتے تھے کہ ہر روز کوئی نئی بات سیکھا کرو خواہ وہ گرہ دینے کا نیا طریقہ کیوں نہ ہو۔ یہ بہت گر کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ٹھہراؤ نہیں۔ آدمی یا تو نیچے گرے یا اوپر اٹھے گا۔ ایسی حالت میں ارتقاء کو باقی رکھنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ آدمی ہر روز کوئی نئی بات دریافت کرے، وہ اپنے ذہنی سفر کو مسلسل جاری رکھے۔ حیدر آباد کی تقریریں اور گفتگوئیں زیادہ تر چند قسم کے موضوعات پر رہیں۔ قرآن وحدیث کے جو درس ہوئے ان سب کا انداز یہی تھا۔ دوم، اسلام اور عصر حاضر اس عنوان کے تحت یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام ایک ابدی دین ہے۔ کی ترقیاں اس کی صداقت کو مزید واضح کرتی جارہی ہیں۔ سوم، تعمیر ملت ۔ اس عنوان کے تحت یہ بتایا گیا کہ مسلمانوں کے لیے اس ملک میں راہیں بند نہیں ہیں۔ بلکہ پوری طرح کھلی ہوئی ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ حالات کو سمجھ کر ہوش مندی کے ساتھ کام کیا جائے۔ چہارم، اسلامی دعوت۔ اس سلسلہ میں خصوصی طور پر یہ واضح کیا گیا کہ مسلمان اور دیگر اقوام کا رشتہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے نہ کہ حریف اور رقیب کا رشتہ۔ ہمیں دوسری اقوام کی ہدایت کا حریص ہوناچاہیے۔ نہ کہ ہم ان کو دشمن سمجھ کر ان سے نفرت کریں یا ان کے خلاف بد دعا دیں۔ میں نے کہا کہ مدعو پر اتمام حجت کے بغیر جو بد دعا کی جائے وہ کبھی قبول ہونے والی نہیں، خواہ سو برس تک ایسی دعا کی جائے اور خواہ تمام اصاغر اور اکابر اس پر آمین کہہ رہے ہوں ۔
۱۴ فروری کو پریس کانفرنس تھی۔ ابتداء ًمیں نے ملکی حالات پر تبصرہ کیا اور اس ذیل میں اسلامی مرکز کے مقاصد بیان کیے۔ اس کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا جو دیر تک
دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ نیشنل پریس میں ہندوستان کے مسلمانوں کی تصویر بہت ادھوری شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمز آف انڈیا (۳ جنوری ۱۹۸۷) میں ہندوستانی مسلمانوں کو شور و غل کرنے والا گروہ (Clamorous group) بتایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بذات خود غلط نہیں ہے۔ مگر اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں تھوڑے سے جو شور و غل کرنے والے لوگ ہیں انہیں کو نیشنل پریس میں نمایاں کیا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ
مسلمانوں کا زیادہ بڑا طبقہ وہ ہے جو کسی نہ کسی اعتبار سے تعمیری کاموں میں لگا ہوا ہے۔ مگر اس کو نیشنل پریس میں نمایاں نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ غالباً موجودہ صحافت کا انداز ہے۔ ہمارے اخبارات میں تخریبی واقعات کو زیادہ جگہ دی جاتی ہے۔ " سیف لینڈنگ " آپ کے نزدیک خبر نہیں۔ لیکن " ہائی جیکنگ " ہو تو وہ آپ کے نزدیک خبر بن جاتی ہے ۔ اس سلسلہ میں میں نے مسلمانوں کی کئی تعمیری سرگرمیوں کی مثالیں دیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے عربی اور دینی مدارس ایک عظیم الشان تعمیری کام انجام دے رہے ہیں۔ لاکھوں نوجوانوں میں اخلاقی شعور پیدا کرتے ہیں اور اس طرح ملک میں اخلاقی روایت کو باقی رکھنے کا واحد سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ہمارے مدارس کا پڑھا ہوا آدمی جب باہر آتا ہے تو بازار میں، بس اور ٹرین میں اور مختلف عوامی مواقع پر وہ اخلاقی انضباط کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح وہ ملک میں گرتی ہوئی اخلاقی قدروں کو بچای کرنے کا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملکی اخبارات کو پڑھنے والے لوگ اس واقعہ سے بالکل بے خبر ہیں ۔ اسی طرح تبلیغی جماعت نے لاکھوں لوگوں کو خارجی جھگڑوں سے ہٹا کر اندرونی اصلاح کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اخبار میں طبقہ کو اس کی کوئی خبر نہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ اخباروں میں صفحہ اول کی سرخی نہیں میں نے کہا کہ ہمارے اخبارات کو مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہیے۔ حیدر آباد کے علاوہ محبوب نگر میں بھی اجتماعات ہوئے۔ ان کا نقشہ اگلے صفحہ پر درج ہے یہاں کا ہر اجتماع خدا کے فضل سے کافی کامیاب رہا۔ خاص طور پر تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ بڑی تعداد میں شریک رہا۔ لوگوں نے بتایا کہ جو افراد ان اجتماعات میں آئے وہ عام طور پر مسلم مقررین کے اجتماع میں کبھی دیکھے نہیں جاتے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملت کا اعلیٰ ذہن نہایت سنجیدگی کے ساتھ اسلامی مرکز اور الرسالہ کی دعوت کا مطالعہ کر رہا ہے ۔ یہاں کے اجتماعات اور تقریروں کی رپورٹیں مقامی اخبارات رہنمائے دکن، سیاست اور منصف وغیرہ میں روزانہ تفصیل کے ساتھ شائع ہوتی رہیں۔ ایک صاحب ایک روز روزنامہ سیاست ( ۱۵ فروری ۱۹۸۷ ) کا ایک پرچہ لے آئے۔ اس میں میری ایک تقریر شائع ہوئی رپورٹر نے اس کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی تھی :
ہندوستانی مسلمانوں میں تعمیری انداز فکر کی ضرورت مذکورہ بزرگ نے کہا کہ اس قسم کی سرخیاں صرف آپ کی دین ہیں ۔ ورنہ ہمارے اخبارات عام طور پر اس قسم کی تعمیری سرخیوں سے خالی ہوتے ہیں ۔ ۱۶ فروری کو محبوب نگر (مدرسہ سراج العلوم) میں ایک پروگرام تھا۔ یہاں "اسلام اور عصر حاضر" کے موضوع پر ایک مفصل تقریر ہوئی۔ شہر کا باشعور اور تعلیم یافتہ طبقہ بڑی تعداد میں جمع بعد کو ایک صاحب نے بتایا کہ لوگ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے ۔ محبوب نگر کے پاس برگد کا ایک پرانا درخت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً چار سو سال اس درخت کا نام پہلے "پیر لامری" تھا۔ اب اس کا نام پِلا لامری(Pillalamarri) (Pillalamarri) ہے ۔ ہم لوگ اس کو دیکھنے کے لیے گئے۔ یہ گویا ایک درخت کا باغ ہے۔ پروگرام حیدر آباد ۱۶ فروری، ۱۹۸۷ پریس کانفرنس ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ اسٹیشن روڈ افتتاح الرسالة بک اسٹال و لائبریری اعظم منزل کنگ کوٹھی خطاب عام (تعمیر ملت) لطیف الدین ہال حمایت نگر ۱۵ فروری درسِ قرآن بعد نمازِ فجر مسجد دار القرآن لال ٹیکری خطاب عام اردو گھر مغل پورہ تقریر سیرت دکن میڈیکل کالج نارائن گوڑہ عام ملاقات رہائش گاہ محمد حسام الدین صاحب حمایت نگر خطاب عام بعد نمازِ مغرب (اسلام اور عصر حاضر) مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ باغ عامہ ۱۶ فروری درسِ قرآن مسجد سلطان نواز جنگ آصف پورہ درس حدیث مسجد سلیمہ خاتون حمایت نگر خطاب عام (دعوت اسلامی کے جدید مکانات) مدرسہ سراج العلوم محبوب نگر ۱۷ فروری درسِ قرآن مسجد سراج العلوم محبوب نگر
یہ اگرچہ ایک ہی درخت ہے۔ مگر وہ اس طرح پھیل پھیل کر زمین میں اگا ہے کہ ایک درخت کئی درخت معلوم ہونے لگا ہے۔
اس علاقہ کو از سر نو منظم کیا جارہا ہے۔ کلکٹر نے ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں سے کہا کہ یہاں ہر مذہب کے لیے زمین دیں گے۔ آپ لوگ اپنے اپنے طرز پر یہاں عبادت گاہ ہندوؤں اور عیسائیوں نے اس کو فوراً قبول کر لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں جدید طرز کا ایک چرچ زیر تعمیر ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ مسلمان ابھی تک اس پیش کش کو استعمال نہ کر سکے۔ ہے کہ آئندہ یہ جگہ ترقی کرے گی اور یہاں کی زمینیں کافی مہنگی ہو جائیں گی ۔ یہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو نہ کھوئیں ۔ اگر انہوں نے بروقت اس موقع کو کھو دیا تو آئندہ یہاں مسجد کی تعمیر بے حد مشکل ہو جائے گی۔ یہاں سیاح آتے رہتے ہیں جن میں مسلمان بھی نیز مقامی اداروں میں مسلمان کارکن بھی موجود ہیں ۔ ایسے تمام لوگوں کے لیے یہاں مسجد کی تعمیر بہت مفید ثابت ہوگی ۔
محبوب نگر میں ایک مسلمان تاجر اپنی رائس مل دکھانے کے لیے لے گئے ۔ انھوں نے جدید طرز کی مشینیں لگائی ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ دھان کو چاول میں تبدیل کرنے کے لیے اس کو سات مرحلوں سے گزارنا پڑتا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس طرح قدرت تدریج کی اہمیت کو بتاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کامیابی تدریجی طریق کار کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ جو لوگ چھلانگ کے ذریعہ یکایک اپنی منزل پر پہونچنا چاہیں وہ کبھی منزل مقصود کو نہیں پہونچتے ۔
تاجر آدمی عملی آدمی ہوتا ہے ، اس لیے وہ عملی باتوں کو بہت جلد سمجھ لیتا ہے ۔ کے ایک مسلمان تاجر نے کہا کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا زیادہ یقینی حل یہ ہے کہ برادران وطن سے اچھے تعلقات قائم کیے جائیں ۔ حکومت کے خلاف تقریریں یا حکومت کے ارکان کی طرف دوڑ دھوپ سے زیادہ مفید اور اہم بات یہ ہے کہ برادران وطن سے تعلقات بڑھائے جائیں ۔ رائے کی تائید میں انھوں نے کئی واقعات بتائے ۔
یہ نہایت صحیح بات ہے۔ مسلمانوں نے حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں جتنی طاقت
صرف کی ہے ، اتنی طاقت اگر وہ برادران وطن سے تعلقات استوار کرنے میں صرف کرتے تو اب تک ان کے تمام مسائل حل ہواچکے ہوتے۔
میں نے ایک گفتگو میں دعوت عام کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ مسلمان تو خود ہی اسلام سے دور ہیں ، وہ دوسروں کو اسلام کی طرف کیا بلا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت مہلک غلط فہمی ہے جو شیطان نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ذہن میں ڈال رکھی ہے۔ کوئی شخص مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام قبول نہیں کرتا بلکہ حق کو دیکھ کر اسلام قبول کرتا ہے ۔ میں نے یوسف اسلام (انگریز) اور دوسرے بہت سے نو مسلموں کے حالات کو جاننے کی کوشش کی۔ مجھے معلوم ہو کہ ہر ایک نے یہ جانتے ہوئے اسلام قبول کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی حالت بہت گر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص مسلمانوں کے لیے اسلام قبول نہیں کرتا بلکہ اس لیے اسلام قبول کرتا ہے کہ اسلام کی ابدی سچائی کے ساتھ وہ اپنے آپ کو وابستہ کر سکے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے اوپر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ کو بھارت سرکار سے روپیہ ملتا ہے تاکہ آپ مسلمانوں کو ڈیمورالائز کریں ۔
میں ابھی خاموش تھا کہ مجلس کے ایک صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو الٹی بات کہہ رہے ہیں ۔ الرسالہ تو مسلمانوں کے مورال کو بلند کر رہا ہے ۔ پھر کیا آپ کا خیال ہے کہ بھارت سرکار یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں کے مورال کو بلند کیا جائے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ الرسالہ کو غور سے پڑھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ الرسالہ مسلم نوجوانوں کو اٹھانا چاہتا ہے، وہ مسلم نوجوانوں کے اندر ہیرو وانا کردار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ تحریک کسی کی مدد سے چلے تو مدد دینے والے کے خلاف ہیرو نہیں بنائے جاتے ۔ بلکہ ایک نا اہل قوم تیار کی جاتی ہے ۔ مرکز کی مطبوعات کا ایک ایک صفحہ مسلم نوجوانوں کی کردار سازی کرتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ان کو ہیرو بنا رہا ہے ۔ وہ ان کے اندر اعلیٰ اخلاقی جذبہ ابھارنا چاہتا ہے ۔ وہ ان کے اندر صحیح اسلامی فکر پیدا کر رہا ہے ۔ پھر کیا بھارت سرکار کی خواہش یہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی مرکز کے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈا کرنے والے لوگ خود وہ کام کر رہے ہیں جس کا الزام
وہ اسلامی مرکز پر لگاتے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو تعمیری فہم سے ہٹا کر تخریبی رخ پر ڈالنا چاہتے ہیں جو یقینی طور پر صرف بربادی کا راستہ ہے ۔
۱۷ فروری ، ۱۹۸۰ء کی شام کو فلائٹ نمبر ۵۳۹ کے ذریعہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ میں میری سیٹ سے ملی ہوئی سیٹ پر مسٹر ڈی پی گپتا تھے ۔ وہ بھارت ہیوی الیکٹریکلس لمیٹڈ (BHEL) میں جنرل منیجر (ٹرانس میشن) ہیں ۔ پورے راستے میں ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ نہایت لائق افسر ہیں اور انتہائی دیانت اور محنت کے ساتھ اپنا کام انجام دے رہے ہیں ۔ مزید سوالات کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی خاص وجہ ان کا مذہبی بیک گراؤنڈ ہے۔ ان کے والد نہایت قابل آدمی تھے۔ وہ انگریزی اور ہندی کے علاوہ عربی اور فارسی بھی جانتے تھے ۔ حتیٰ کہ قرآن کے کئی حصے کا انھوں نے حافظ کیا تھا اور ان کو پڑھتے رہتے تھے ۔ خود مسٹر گپتا بھی اچھی اردو جانتے ہیں ۔
اس گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ موجودہ زمانہ میں دفتروں میں کارکردگی گھٹنے کی خاص وجہ یہ ہے کہ نئی نسلیں مذہبی اور روحانی روایتیں سے کٹ گئیں ۔ جدید نسل کو دوبارہ امانت دار اور محنتی بنانے کی واحد شکل یہ ہے کہ از سر نو سماج کے اندر مذہبی اور روحانی روایات قائم کی جائیں ۔ اس مسئلہ کا اس کے سوا کوئی دوسرا حل نہیں ۔
دوسری بات یہ کہ پچاس برس پہلے کے ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات اتنے اچھے تھے کہ ہندو عربی اور فارسی زبانیں پڑھتے تھے ۔ حتیٰ کہ قرآن کی سورتیں یاد کرتے تھے ۔ نادان قسم کے مسلم لیڈروں کی سیاست نے اس فضا کو بالکل برباد کر دیا۔ یہ صحیح ہے کہ اس زمانہ میں بعض اوقات ناخوش گوار واقعات پیش آتے تھے ۔ مگر ایسے واقعات ہر سماج میں اور ہمیشہ پیش آتے ہیں۔ یہ واقعات یقینی طور پر انفرادی ہوتے تھے اور ضروری تھا کہ ان محدود واقعات کو محدود دائرہ میں رکھ کر دیکھا جائے ، ان کو بڑھا چڑھا کر قومی اور ملکی مسئلہ نہ بنایا جائے۔ مگر ہمارے نادان لیڈروں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر ان جزئی نوعیت کی باتوں کو اتنا بڑھایا کہ دونوں فرقوں کے درمیان ناقابل عبور دوری حائل ہو گئی ۔ یہ غیر اہم باتوں کو اہم اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں کبھی کوئی کامیابی
اصل نہ کر سکیں ۔
سفر سے واپسی کے بعد وہاں سے مختلف تاثراتی خطوط موصول ہوئے ہیں ۔ یہاں دو خط نقل کیے جاتے ہیں مولانا محمد امیر اللہ خاں قاسمی (محبوب نگر) اپنے خط مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۸۷ میں لکھتے ہیں : آپ کی آمد مسلمانوں محبوب نگر کے لیے غیر معمولی مسرت اور خوشی کا سامان ہوئی ۔ دو گھنٹے کی طویل تقریر کو جس دل چسپی اور شوق سے سنا گیا ، میری نظر میں محبوب نگر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ تقریر کا غیر معمولی تاثر ہوا۔ باشعور اور سنجیدہ لوگوں نے پھر آپ کی آمد کا پروگرام بنانے کے لیے مجھے پا بند کیا۔
آپ جس کام اور پیغام کو لے کر اٹھے ہیں وہ اس زمانہ کا نہایت ضروری کام ہے اور وقت کا اہم تقاضا بھی یہی ہے۔
إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَلَغَ هُذَا الأَمْرَ أَوْ سَيَبْلُغُهُ حَيْثُ مَبْلَغِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ قرآن جو کتاب بھی ہے اور ایک عالمگیر مطالعہ کا عملی اہتمام ، اور تہديب و تشکیل کے پر آشوب دور کا آئینہ ! مولانا محمد امیر اللہ خاں خدا کی تلاش کا سفر ، خدا کی معرفت کا بیان مولانا محمد امیر اللہ خاں مطبع فرقان ، محلہ عید گاہ، حیدر آباد خدا کو پا نا سب سے بڑی حقیقت کو پا نا ہے۔ کوئی آدمی جب خدا کو پا تا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ملا دیتی ہے۔ وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ ، اس کا عمل اور اس کی تمام کارروائیاں ایک ایسے انسان کی کارروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھے لے۔
قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے ۔ وہ اُسی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے جیسا کہ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا ۔ نے قرآن کے پیغام کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ جب بھی وہ دنیا کے سامنے اپنی اصلی شکل میں لایا جائے گا وہ اقوامِ عالم کو مسخر کر لے گا ۔ ہدیہ : ۲۰ روپیہ ہدیہ : ۲۵ روپیہ مکتبہ الرساله سی ۲۹ نظام الدین ویسٹ نئی دہلی ۱۱۰۰۱۳