Al-Risala · May 1987

یقینی حل

Al-Risala, May 1987, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

الرسالہ اکتوبر ۱۹۸۶ کو پڑھ کر یک صاحب نے طویل خط دے، اکتوبر ۱۹۸۶) لکھا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : آپ کا سفر نامہ نہ صرف معلوماتی ہوتا ہے بلکہ انداز بیان کے لحاظ سے اس بار بھی بمبئی کا سفر نامہ ایسا ہی ہے۔ اس سفر نامہ میں ہیر لال ڈرائیور سے آپ کی ملاقات اور ایکسیڈنٹ سے بچے رہنے کی تدبیر کے بارہ میں پوچھے گیے آپ کے سوال کا جواب پڑھنے کو ملا۔ اور مجھے اس سے ملتا جلتا ایک قصہ یاد آ گیا ۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی ۵۵ سالہ زندگی میں ایک بھی ایکسیڈنٹ نہیں کیا۔ بار وہ محفوظ ڈرائیونگ پر لکچر دیتے ہوئے بولا : مجھے یہ بتانے میں ایک منٹ کا وقت بھی نہیں لگے گا کہ محفوظ ڈرائیونگ کس طرح کی جاتی ہے ۔ اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ ڈرائیونگ کے وقت بس یہ بات ذہن میں رکھے کہ آپ کے سوا دنیا کا ہر ڈرائیور پاگل (محی الدین محمد حیدر آباد)

”پاگل“ اس شخص کا نام ہے جو مرفوع القلم ہو۔ جس سے کسی قسم کی توقع نہ کی جاسکے۔ اور جہاں فریق ثانی کی طرف سے کوئی توقع نہ ہو وہاں دو طرفہ بنیاد پر سوچنا بالکل بے معنی ہے۔ ایسے مواقع پر آدمی ہمیشہ یک طرفہ سوچتا ہے۔ اور یک طرفہ طور پر مسئلہ کا حل تلاش کرتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی جانتا ہے کہ پاگل سے لڑنا نہیں ہے بلکہ پاگل سے بچنا ہے۔ پاگل کے مسئلہ کا حل اس سے اعراض کرنا ہے نہ کہ اس سے ٹکراؤ کرنا۔ جو ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو پاگل سمجھ لے وہ دوسروں کی شکایت نہیں کرے گا۔ وہ ساری توجہ خود اپنی طرف لگا دے گا۔ کہیں اپنی گاڑی کوروک لے گا۔ کہیں وہ پیچھے ہٹ جائے گا اور کنارے کی طرف سے اپنا راستہ نکالے گا۔ سڑک کا جو مسافر اس طرح ایک طرفہ طور پر ذمہ داری اپنے آپ پر ڈال لے وہ کبھی سڑک کے حادثہ سے دوچار نہیں ہو سکتا۔

مذکورہ ڈرائیور نے ایک لفظ میں زندگی کاراز بتا دیا ہے۔ اس کی مراد دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ آپ دوسروں سے کچھ امید نہ رکھیے ساری ذمہ داری یک طرفہ طور پر

سماجی حادثات سے بچ سکتے ہیں ، شرط یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں مسائل کا سب سے زیادہ یقینی حل وہی ہے جس پر مذکورہ ڈرائیور نے عمل کیا اور اپنی ڈرائیونگ کی طویل زندگی میں حادثات سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔

خالص طبی معنوں میں پاگل انسانوں کی تعداد ساری دنیا میں بمشکل ایک فیصد ہوگی مگر دوسرے اعتبار سے دنیا کے ۹۹ فیصد انسان امکانی طور پر پاگل ہیں۔ میں بظاہر لوگ بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں ۔ مگر جب آدمی کے ذاتی مفاد کا معاملہ آجائے ، جب اس کی انا کو ٹھیس لگے ۔ جب فریق ثانی کی کسی بات پر اس کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کا سابقہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس سے اس کی ان بن ہو گئی ہو، تو اس وقت شریف آدمی بھی غیر شریف بن جاتا ہے ۔ صحیح دماغ کا انسان بھی پاگل پن پر اتر آتا ہے۔ یہ موجودہ دنیا کی عام حالت ہے ۔ اور یہ حالت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک دنیا اپنے موجودہ قوانین کے ساتھ باقی ہے ۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا حل صرف ایک اور وہ وہی ہے جس کی طرف مذکورہ ڈرائیور نے اشارہ کیا۔

ایک بار حیدر آباد سے محبوب نگر جاتے ہوئے میرے ساتھ ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا ۔ ہماری گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک ایک بیل سڑک پر آگیا۔ صاحب کار کو چلا رہے تھے انھوں نے یہ نہیں کیا کہ بیل کے خلاف احتجاج کریں یا بدستور اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں ۔ انھوں نے فوراً بریک لگا کر گاڑی کو روکا۔ اور ایک لمحہ رک کر اندازہ کیا کہ بیل کدھر جارہا ہے ۔ بیل نے جب سڑک کے آدھے سے زیادہ حصہ پار کر لیا اور یہ واضح ہو گیا کہ وہ مشرق کی طرف جارہا ہے تو انھوں نے اپنی گاڑی مغرب کی طرف گھمائی اور بیل کے کنارے کی طرف سے راستہ نکال کر آگے کے لیے روانہ ہو گئے ۔

زندگی کے مسائل ہمیشہ یک طرفہ کارروائی کے ذریعہ حل ہوتے ہیں۔ جو لوگ دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کرنا چاہیں، موجودہ دنیا میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں کہ وہ بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں اور اسی حال میں دنیا سے چلے جائیں۔ اسلامی مرکز اور اس کے مختلف شعبوں کے لیے آپ کے مالی تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنا تعاون بھیج کر ممنون فرمائیں۔ رقم بھیجتے وقت اس کی مدد کی صراحت بھی ضرور فرما دیں صدر اسلامی مرکز سی ۲۹ نظام الدین ویسٹ نئی دہلی ۱۳

Printed page