Al-Risala · May 1987

شراب اور ترقی میں تضاد

Al-Risala, May 1987, pp. 16–19

By Maulana Wahiduddin Khan

۳ مئی ۱۹۸۰ کا واقعہ ہے۔ ایک ۱۳ سالہ امریکی لڑکی کاری (Cari) کیلی فورنیا کی سڑک سے گزر رہی تھی۔ وہ سڑک کے کنارے بائیسکل لین سے چل رہی تھی۔ اس اثنا میں ایک کار پیچھے سے دوڑتی ہوئی آئی۔ وہ کاری سے اتنے زور کے ساتھ ٹکرائی کہ وہ اچھل کر ۳۵ میٹر اوپر فضا میں چلی گئی۔ اس حادثہ کے ایک گھنٹہ کے اندر لڑکی کا انتقال ہو گیا۔ کار کا ڈرائیور گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ شراب پئے ہوئے تھا۔

اس طرح کے حادثے امریکہ میں ہر روز بہت بڑی تعداد میں ہوتے رہتے ہیں۔ و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں ہر سال تقریباً ۵۰ ہزار کار کے حادثے ہوتے ہیں۔ حادثات میں سے نصف وہ ہیں جو شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ شراب نوشی کے نتیجہ میں ہونے والے سڑک کے حادثات موجودہ امریکہ میں موت کا سبب نمبر ایک ہیں۔ شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف امریکہ میں حالیہ برسوں میں نیا شعور جاگا ہے۔ نئے شعور کی ہیرو ایک عورت ہے، اور وہ وہی ہے جو مذکورہ مقتول لڑکی کاری کی ماں ہے۔ اس کا نام کینڈی لائٹنر (Candy Lightner) ہے کینڈی لائٹنر اس کو برداشت نہ کر سکی کہ اس کی لڑکی کی موت ایک خالی از معنی واقعہ ہو کر رہ جائے ۔ چنانچہ اس نے اپنی ملازمت اپنی جائداد فروخت کر دی۔ اس نے دوڑ دھوپ کر کے کچھ اور عورتوں کو اپنا اس کے بعد اس نے ایک تنظیم قائم کی جس کا نام مدرز اگینسٹ ڈرنک ڈرائیونگ اس نے اپنا پورا وقت اور اپنا پورا اثاثہ اس تنظیم کے حوالے کر دیا۔ ۱۹۸۰ میں قائم ہوئی۔

کینڈی لائٹنر نے باقاعدہ طور پر ان قوانین کا مطالعہ کیا جو شراب پی کر گاڑی چلانے کی بابت بنائے گئے ہیں۔ اس نے اس سلسلہ میں ہر قسم کی متعلق معلومات اور اعداد و شمار اس نے اخبار، ریڈیو ٹیلی ویژن اور نشر و اشاعت کے دوسرے تمام ذرائع کو بھر پور طور پر اس نے امریکی عوام کو بتایا کہ ہر سال ۲۵ ہزار امریکی محض شراب نوش ڈرائیوروں

کے ذریعہ ہونے والے حادثات میں مرجاتے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ ایک ملین امریکی حادثات میں مرنے سے بچ جاتے ہیں وہ بھی ہمیشہ کے لیے ناقابل کار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ امریکہ میں ہر روز ۷۰ آدمى سڑک کے حادثات میں مرتے ہیں یعنی ہر ۲۰ منٹ میں ایک آدمی ۔ اس قسم کی بے شمار باتوں سے کینیڈی لائٹنر نے امریکی عوام کو بوکھلا دیا ۔ یہاں تک کہ خود امریکی حکومت حرکت میں آگئی ۔ ۱۷ جولائی ۱۹۸۴ کو صدر ریگن نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف ایک قانون پر دستخط کر دیے ۔

اس مسئلہ کی تفصیلی معلومات دیتے ہوئے ایک امریکی میگزین 1986 Span, September نے لکھا ہے کہ ۲۰ ویں صدی تک شراب نوشی امریکہ میں نسبتاً چھوٹا سماجی مسئلہ تھی ۔ کیوں کہ شراب پینے والے شاذونادر ہی اس پوزیشن میں ہوتے تھے کہ وہ اپنے آپ کے سوا کسی اور کو کوئی سخت نقصان پہنچا سکیں ۔ شراب پینے والے اس سے پہلے زیادہ سے زیادہ شراب خانہ میں چیختے چلاتے تھے یا گھر کے اندر جھگڑا برپا کرتے تھے یا گھوڑا گاڑی دوڑاتے ہوئے اس کو الٹ دیتے تھے ۔ اس وقت ایک شراب نوش زیادہ تر رحم کا مستحق سمجھا جاتا تھا نہ کہ نفرت وہ یقینی طور پر ایسا مسئلہ نہ تھا جو حکومت کے لیے قابل توجہ ہو ۔ مگر موٹروں کی ایجاد نے شراب نوشی کو ہر اس آدمی کے لیے خطرہ بنا دیا جو سڑک پر سفر کرنا چاہتا ہو : Until the 20th century, drunkenness was a relatively minor social problem in the United States, because drunkards were rarely in any position to cause serious damage to anyone, but themselves. Drinkers might brawl in the bars and public houses, or cause family strife, or upset an applecart on a wild horseback ride through town, but for the most part a chronic drinker was more to be pitied than scorned, and certainly was not cause for government concern. With the introduc- tion of the automobile, however, the drunkard became a menace to everyone within reach of his desire to travel. شراب نہ پینا مذہب کی علامت ہے اور شراب پینا لامذہبیت کی علامت ۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ لامذہبیت اور ترقی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ مذہب کے مخالفین یہ کہتے رہے ہیں کہ مذہب اور ترقی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ لامذہبیت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ مذہبیت ۔

۳۰ مارچ ۱۹۸۱ کو صدر امریکہ رولڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ وہ زخمی ہوئے تاہم ہلاک ہونے سے بچ گئے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ قاتل شراب پئے ہوئے تھا۔ نے ثابت کیا ہے کہ شراب اور جرم میں بہت گہرا ربط ہے ۔ اکثر مجرم شراب پی کر مجرمانہ فعل کرتے انسان کا اندرونی ضمیر ، اور جرم کے بعد قانون کی پکڑ کا اندیشہ آدمی کو جرم سے روکتا ہے۔ اس لیے منصوبے کے تحت جرم کرنے والے لوگ ہمیشہ شراب پی کر مجرمانہ اقدام کرتے ہیں، شراب آدمی کے نازک احساسات کو وقتی طور پر دبا دیتی ہے، اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بے خوف ہو کر مجرمانہ اقدام کر سکے ۔

امریکہ میں آج کل بہت سے ممتاز افراد شراب کے خلاف جہاد (کروسیڈ) جاری کیے ہوئے ان میں امریکہ کی خاتون اول (First Lady) مسز نینسی ریگن بھی شامل ہیں۔ (اکتوبر ۱۹۸۶) کی رپورٹ کے مطابق مسز ریگن نے کیلی فورنیا میں تقریر کرتے ہوئے شراب کے نقصانات گنائے اور کہا کہ شراب نوشی کے اثرات سے ہم بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ شراب نوشی اور جرم کے درمیان قطعی اور براہِ راست رشتہ پایا جاتا ہے : It affects us when it destroys families. It affects us when it costs hundreds of millions of dollars through accidents and absenteeism in the workplace. It affects us since there is a definite and direct link between crime and drug abuse. مسز ریگن نے مزید کہا کہ یہ ایک اخلاقی مسئلہ (Moral issue) ہے۔ اس کے متعلق ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہوگا ۔ آپ خواص کی کم مقدار میں شراب نوشی اور عوام کی زیادہ مقدار میں شراب نوشی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتے ۔ دونوں ہی بُرائی ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے دونوں کی حیثیت یکساں ہے :

You cannot separate polite drug use at a chic L. A. party from drug use in some back alley somewhere. They are morally equal. اسلام میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، اور یہ کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے (ما اسكر كثيره فقليله حرام) تہذیبِ جدید

آفاقِ شوق وسعتِ پنہاں میں مل گئے کی طرف سے طمانیت ہو گئی۔

اِنتہا پر پہونچ کر حیرت انگیز طور پر اس دِینی تعلیم کی صداقت کا اقرار کر رہی

کسی رنج ، قلق اور پریشانی میراث پر بہت بڑی ضرب تھی، اس یلغار میں قوم کا ہر فرد آزاد اور خود مختار ہو گیا، کسی نے کسی سے نہ پوچھا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یہ وقت کا ایک اور طوفان تھا جس نے ایسی عجیب ہے یہ تصدیق ، اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس کھلی ہوئی تصدیق کے باوجود دینی تعلیمات کی ابدی صداقت کا اعتراف نہ کریں ۔ مولانا وحید الدین خاں

مولانا وهید الدین خان

Printed page