Al-Risala · May 1987

ایک سفر

Al-Risala, May 1987, pp. 20–37

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک عالمی اسلامی کانفرنس (۱۵ ستمبر تا ۲۰ ستمبر ۱۹۸۶) میں شرکت کے لیے افریقہ کا سفر ہوا۔ یہ سفر میرے تمام سفروں میں سب سے زیادہ واقعات سے بھرا ہوا (Eventful) سفر تھا۔ اگر اس کی تمام باتیں لکھی جائیں تو شاید پورا الرسالہ بھر جائے گا۔ تاہم میں اس کی مختصر روداد بیان کروں گا۔ ۱۲ ستمبر کی شام کو دہلی کے نئے ہوائی اڈہ (اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایر پورٹ) پہنچا۔ جدید طرز کا یہ ایر پورٹ دو ہزار ہیکٹر رقبہ میں بنایا گیا ہے۔ اس کا اضافہ شدہ بجٹ ۱۰۰ کروڑ روپیہ تھا۔ اگر چہ اس کی آخری تکمیل ابھی باقی ہے۔ تاہم اس کا رسمی افتتاح یکم مئی ۱۹۸۶ کو کیا گیا ہے۔ اب پالَم کا قدیم ہوائی اڈہ ملک کی اندرونی پروازوں کے لیے خاص کر دیا گیا ہے۔ اڈہ جب آخری طور پر مکمل ہوگا تو وہ سالانہ ۳۵ ملین مسافروں کو چڑھا اور اتار سکے گا۔ بیک وقت ایک سو ہوائی جہازوں کے کھڑے ہونے کے لیے جگہ ہوگی۔ نئے ہوائی اڈہ کی بلڈنگ اور اس کا نظام جدید بین الاقوامی معیار پر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ یہاں بیک وقت ۴۱ جہاز اتر سکتے ہیں یا روانہ ہو سکتے ہیں۔ پانی کے معقول انتظام کے لیے ۴۲ ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں۔ سامان منتقل کرنے کی پٹی (Conveyer belt) کو جدید طرز کا بنایا گیا ہے تاکہ مسافروں کو اپنا سامان لینے کے لیے کم سے کم انتظار کرنا پڑے۔ اڈہ پر صرف ۲۲ کاؤنٹر تھے، یہاں ۸۰ کسٹم کاؤنٹر بنائے گئے ہیں۔ ٹیلی فون کی ۵۰۰ لائنیں ہیں جو الیکٹرانک سسٹم پر قائم ہیں۔ یہاں مشینی زینہ (Escalator) لگایا گیا ہے۔ ہوائی جہاز پر چڑھنے اور ہوائی جہاز سے اترنے کے لیے اس سے پہلے قدیم طرز کی سیڑھی (Tarmac) ہوتی تھی۔ طرز کے معلق پل (Aero-bridge) بنائے گئے ہیں جو جہاز کے دروازہ سے جوڑ دیے جاتے تاہم کھلی سیڑھی سے چڑھنے اترنے میں جو رومانی منظر ہوتا ہے وہ بند قسم کے ایر وبرج سے چڑھنے اور اترنے میں موجود نہیں۔ نیز کار کردگی کے اعتبار سے صورت حال زیادہ اطمینان بخش نہیں۔ مثلاً اندرا گاندھی ایر پورٹ سے ہم نے اپنے دفتر میں ٹیلی فون کرنا چاہا۔ بار نمبر ملانے کے باوجود ایسا ہوا کہ دوسری طرف سے "ہیلو" کی آواز آتی تھی ۔ مگر ہماری آواز نہیں

بالکل سنائی نہیں دیتی تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کافی کوشش کے باوجود گفتگو نہ ہوسکی ۔ اس ائیر پورٹ پر جو خصوصی اہتمام کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ائیر پورٹ کی دیواروں پر ہندوستان کی ہوا بازی کی کہانی مصور کی گئی ہے ۔ یہ تصویر کشی انتہائی اعلیٰ مصوروں نے کی ہے ، مثلاً ایم ایف حسین اور کے چیم راج ۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی ہوا بازی کی کہانی کا آغاز دیو مالائی قصوں سے کیا گیا ہے جب کہ دیوتا اپنے پشپ ویمان(Flowercraft)میں (Flowercraft) میں سوار ہو کر سفر کرتے تھے اور اس کا آخری منظر اس مرحلہ پر ختم ہوتا ہے جب کہ سیٹلائٹ اور کمپیوٹر ہوا بازی کے عمل میں اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔ (ٹائمز آف انڈیا ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵) ماضی پرستی کے ساتھ مستقبل پسندی کی اسی ذہنیت پر اقبال احمد سہیل مرحوم نے یہ شعر کہا تھا : آگے ہیں قدم پیچھے ہے نظر جانا ہے کہاں جانتے ہیں کدھر مہم ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہیے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر آرٹ ورک کا کام اعلیٰ پیمانہ پر کیا گیا ہے ۔ اس آرٹ ورک کے لیے ابتداً اڑتین لاکھ روپے کی منظوری دی گئی تھی مگر " ماہرین " نے حکومت کو مطلع کیا کہ تین لاکھ روپیہ پیش نظر کام کے لیے بہت ناکافی ہے ۔ اس کے بعد حکومت نے زبردست فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے تین ملین (۳۰ لاکھ) روپے اس کے لیے منظور کر دیے ۔

اس ۳۰ لاکھ روپے کے منصوبہ کا ٹھیکہ لینے کے لیے بہت سے امیدوار دوڑ دھوپ کر رہے مگر اس کا ٹھیکہ جس کو ملا وہ مشہور مسلم آرٹسٹ ایم ۔ ایف حسین تھے ۔ مسٹر حسین کو ٹھیکہ ملنے کی وجہ ان کی فنی مہارت کے علاوہ یہ بھی تھی کہ پہلے اٹھیں ائیر پورٹ کا ایک جزئی کام دیا گیا تھا جس کو انھوں نے وقت سے کافی پہلے مکمل کر دیا ہندوستان ٹائمز ۳ دسمبر ۱۹۸۵)

آدمی اگر کسی اعتبار سے امتیازی کار کردگی کا مقام حاصل کرلے تو وہ نصب اور تنگ نظری سے بلند ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنا اعتراف پا کر رہتا ہے، خواہ وہ ایک فرقہ کا آدمی ہو یا دوسرے فرقہ کا ۔

افریقہ کا یہ سفر براستہ کراچی ہوا ۔ دہلی سے کراچی تک کا سفر پی آئی اے کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز کے اندر پی آئی اے کا میگزین ہم سفر (ستمبر۔ اکتوبر 1986) دیکھنے کو ملا۔ اس کا نصف حصہ اردو زبان میں تھا اور نصف حصہ انگریزی زبان میں ۔ جہاز کے اعلانات کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم

اور قرآن کی آیت (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ) سے ہوا۔ میں بھی ہمیشہ انشاء اللہ کا لفظ شامل رہتا تھا۔ کیپٹن وقار اس کے پائلٹ تھے۔ جہاز کے اندر کا نظام دوسری کئی ہوائی کمپنیوں سے بہتر نظر آیا۔

کراچی سے جہاز بدلنا تھا۔ یہاں دو رات اور ایک دن قیام رہا۔ کراچی میں میرا قیام ایئر پورٹ ہوٹل میں تھا۔ یہ ہوٹل پی آئی اے نے اپنے ٹرانزٹ مسافروں کے لیے بنایا ہے۔ ہوٹل کے اندر ایک چھوٹی سی بغیر چھت کی مسجد بھی موجود تھی ۔ وہ شاندار ہوٹل کے اندر غیر شاندار حالت میں نظر آئی۔ تاہم واپسی کے بعد جب میں دوبارہ ۲۳ ستمبر کو اس ہوٹل میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ مسجد دراصل زیر تعمیر تھی۔ چنانچہ واپسی میں وہ اپنی دیوار اور چھت کے ساتھ مکمل کھڑی ہوئی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سرسری مشاہدہ کی بنیاد پر ایک رائے قائم کر لیتا ہے جس کی تصدیق بعد کے مشاہدہ سے نہیں ہوتی۔

کراچی ایئرپورٹ پر ایئرپورٹ کے شایانِ شان چھوٹی سی خوبصورت مسجد موجود تھی ۔ ہم نے سکون کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔

پچھلے پندرہ سال سے ایک عجیب و غریب عمل ساری دنیا میں جاری ہے جس کو فضائی قزاقی (Hijacking) کہا جاتا ہے۔ ۱۲ ستمبر کی شام کو میں کراچی ایئر پورٹ پر اترا تو اس سے صرف چند دن پہلے (۵ ستمبر ۱۹۸۶) کو پان ایم کی فلائٹ ۷۳ کے ساتھ اسی قسم کا ایک دہشت خیز واقعہ یہاں ہو چکا تھا۔ آج کل ہوائی اڈوں پر مسافروں کی زبردست چیکنگ ہوتی ہے۔ باوجود کیسے ممکن ہوتا ہے کہ لوگ آتشیں ہتھیار لے کر ہوائی جہازوں کے اندر داخل ہو جائیں، یہ بات آج تک میری سمجھ میں نہ آسکی۔ اگر چیکنگ کا موجودہ نظام اس کو روکنے کے لیے ناکافی ہے تو پھر ہزاروں بے قصور مسافروں کو اس سخت عمل سے گزارنے کا جواز کیا ہے جس کو سکیورٹی چک کہا جاتا ہے۔ کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ گنہگاروں کی سزا بے گناہوں کو دی جائے ۔ فضائی قزاقی سے نمٹنا ایک بے حد نازک کام ہے۔ کسی ملک کی مسلح پولیس ہوائی جہاز کے اندر داخل ہو کر ان کو چند منٹ میں ہلاک کر سکتی ہے۔ مگر نہ اکت یہ ہے کہ فضائی مسلح قزاقوں کے ہاتھ میں خطرناک ہتھیار ہوتے ہیں۔ جب ان پر وار کیا جائے گا تو وہ بھی ضرور اپنا ہتھیار استعمال کریں گے

اور اس دو طرفہ جنگ میں یہ گناہ مسافر مارے جائیں گے ، جیسا کراچی کے ہوائی اڈہ پر پان ایم کے جہاز کے ساتھ عملاً پیش آیا ۔ اس جہاز میں چار سو مسافر تھے ان میں سے ڈیڑھ درجن آدمی مرگئے اور تقریباً ڈیڑھ سو آدمی زخمی ہوئے ۔ (ٹائم میگزین ۱۵ ستمبر ۱۹۸۶) چنانچہ فضائی قزاقی سے نمٹنے کے لیے کچھ مسلمہ اصول (Accepted rules) ہیں۔ خلاصہ ان مختصر الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے ___ گفت و شنید کرو، گفت و شنید کرو، گفت و شنید کرو، وقت حاصل کرو، وقت حاصل کرو، وقت حاصل کرو:

Negotiate, negotiate, negotiate, negotiate. Buy time, buy time, buy time, buy time. مسئلہ جتنا زیادہ نازک ہو، اتنا ہی زیادہ حکمت کے ساتھ اس سے نپٹنا پڑتا ہے ۔ اگر چہ نادان آدمی نازک مسئلہ اور غیر نازک مسئلہ کے فرق کو نہیں سمجھتا۔ وہ دونوں سے یکساں انداز سے نپٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا ہے، وہ کسی درجہ میں بھی مسئلہ کو کم نہیں کرتا۔

کراچی کے ہوٹل میں کھانے کے وقت ایک بار ایک پٹھان ہماری میز کے دوسری طرف آکر بیٹھ گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرحد کے رہنے والے ہیں ۔ اور ابوظبی سے آ رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ آپ ابوظبی میں کیا کام کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ”مزدوری “۔ اس کے بعد انھوں نے میرے بارہ میں سوالات پوچھنا شروع کیے ۔ جب میں نے بتایا کہ میں ہندوستان کا رہنے والا ہوں اور افریقہ جارہا ہوں، تو انھوں نے کہا :

افریقہ میں کیا کرتے ہو، کیا وہاں مزدوری کرتے ہو ۔

اس سوال پر میں خاموش رہا اور ان کو کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے سوچا کہ آدمی جس طبقہ کا ہو، اسی طبقہ کے مطابق اس کا فکر بھی بنتا ہے ۔ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا نہایت نادر خصوصیت ہے۔ حتی کہ خواص بھی اس معاملہ میں اتنا ہی پیچھے ہیں جتنا کہ عوام ۔ ہوائی جہاز کا سفر بے حد نازک سفر ہے ۔ کسی بھی لمحہ کوئی ہنگامی صورت پیش آسکتی ہے جو واقعات کے رخ کو تبدیل کر دے ۔ ہم کہ کراچی سے روانہ ہوئے ۔ ابتداء یہ نہایت ہموار پرواز تھی ۔

کی مسلسل اُڑان کے بعد ہم کو منزل پر پہنچنا تھا۔ مگر چند گھنٹے کے بعد خطرے کا الارم بجنے لگا۔ ہوا کہ بعض " ٹیکنیکل سبب " کے تحت جہاز درمیان میں اتار ا جار ہا ہے۔ دوران پرواز پائلٹ نے عمان ایرپورٹ سے رابطہ قائم کیا اور اس سے اجازت لے کر جہاز کو نیچے اتارنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ عمان کے ہوائی اڈہ پر اُتر گیا ۔ جیسے ہی جہاز کے پہیے نے زمین کو چُھوا، مسافروں نے خوشی کے اظہار کے طور پر تالیاں بجائیں ۔ کیوں کہ یہ بھی ممکن تھا کہ جہاز ہوائی اڈہ پر اُترنے کے بجائے کسی کھڈ میں جاگرے ۔

عمان (اردن) میں ہم ساڑھے سات گھنٹہ تک رکے رہے ۔ جہاز کے ایک انجن نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ انجینیروں نے مسلسل محنت کر کے اس کو درست کیا ، اس کے بعد جہاز دوبارہ آگے کے لیے روانہ ہوا۔

تقریباً دو سو مسافر عمان کے ہوائی اڈہ پر پہنچا دیے گئے ۔ عمان کا ہوائی اڈہ چھوٹا مگر یہاں ہم نے دو نمازیں پڑھیں ، ایک ظہر کی اور دوسری عصر کی ۔ میں نے دیکھا کہ مسافروں کی اکثریت یا تو باتیں کر رہی ہے یا سگریٹ کا دھواں اُڑانے میں مشغول ہے۔ کی دنیا میں مشغول ہونے والا نظر نہ آیا۔ جن لوگوں کے پاس اپنے آپ سے باتیں کرنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ بیرونی کلام میں مشغول ہوتے ہیں۔ جن کو اپنے اندر سفر کرنے کے لیے راستہ نہ ملے، وہ باہر کے راستوں پر دوڑتے ہیں۔

عمان کے ساڑھے سات گھنٹے بڑے سخت گزرے ۔ بظاہر وہاں کوئی تکلیف نہ تھی۔ پینے کا انتظام بھی موجود تھا۔ آرام دہ نشستیں تھیں جن پر کوئی بیٹھا تھا اور کوئی لیٹا ہوا تھا۔ ضروریات کا تمام سامان مہیا تھا۔ مگر مجھ پر الانتظار اشد من الموت کی کیفیت طاری تھی۔ کہا: خدايا ، عاجز انسان خیالی تکلیف کو بھی برداشت نہیں کر سکتا ، پھر آخرت میں وہ حقیقی تکلیف کو کس طرح برداشت کرے گا۔

عمان کے ہوائی اڈہ پر بڑے بڑے فریموں میں تاریخی آثار (الکرک، جرش، عقبہ، موتہ وغیرہ) کی تصویریں کثرت سے لگی ہوئی تھیں۔ موجودہ اردن کی تجارتی یا تمدنی اعتبار سے کوئی اہمیت مگر تاریخی اعتبار سے وہ زبردست اہمیت رکھتا ہے ۔ یہاں سیاح کثرت سے تاریخی آثار

کو دیکھنے کے لیے آتے رہتے ہیں۔

عمان اردن کی راجدھانی ہے ۔ جون ، ۱۹۶۷ میں عرب - اسرائیل جنگ ہوئی تھی ۔ میں اسرائیل نے دوسرے علاقوں کے علاوہ ، دریائے اردن کا مغربی حصہ اور یروشلم کا اردنی سیکٹر اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ اسرائیل کے اس زیرِ قبضہ علاقہ کا رقبہ ۲۰ ۲۲ مربع میل ہے ، یعنی اردن کے پورے رقبہ کا ۷ فی صد ۔ اس مقبوضہ علاقہ میں اردن کا تتعریباً نصف قابل زراعت حصہ شامل ہے ۔ اردن میں ۳۰۰ سال قبل مسیح کے آثار پائے جاتے ہیں ۔

۴ ستمبر کی شام کو ہم طرابلس پہونچے ۔ یہاں کے وقت اور ہندوستان کے وقت میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق ہے ۔ طرابلس کا لفظ ٹریپولی (Tripoli) کی قریب ہے ۔ اور ٹریپولی ٹرائی پولس (Tripolis) سے بنا ہے۔ یہ نام اس کو ابتداً فینقیوں نے دیا تھا۔ Tri کا مطلب یونانی اور لاطینی میں تین ہوتا ہے ۔ ٹرائی پولس کے معنی تین شہر کے ہیں ۔ یہی لفظ بعد کو انگریزی میں ٹریپولی یہ شہر ساتویں صدی قبل مسیح میں فینقیوں (Phoenicians) نے بسایا تھا۔ اس کے بعد وہ رومیوں کے قبضہ میں آیا۔ انھوں نے بھی یہ نام باقی رکھا۔ فینقیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ شہر کو تین حصے کی صورت میں آباد کرتے تھے ، اور اس بنا پر اس کا نام تین شہر ٹرائی پولس رکھتے تھے ۔ یہاں میرا قیام فندق باب البحر (کمرہ نمبر ۵۱۹) میں تھا۔ یہ ہوٹل سمندر میڈیٹرینین) کے عین کنارے بنایا گیا ہے۔ کمرہ کے ایک طرف سمندر کی لہریں حدِ نظر تک پھیلی ہوئی نظر آتی تھیں ۔ قدرت کی اٹھا نہ خاموشی کو صرف وہ مشینیں توڑتی تھیں جو صبح سویرے سے اپنے کام میں لگ جاتی تھیں ۔ ان کا کام تھا ، سمندر کے ساحلی حصہ کو پاٹ کر خشک زمین میں تبدیل کرنا تاکہ وہاں تعمیرات کھڑی کی جاسکیں ۔

قدیم ترین زمانے میں آدمی خشکی پر سفر کرتا تھا ، پھر اس نے کشتی اور جہاز بنائے اور سمندروں کے ذریعہ زیادہ آسانی کے ساتھ دور دور کا سفر کیا جانے لگا ۔ اب انسان فضا میں مزید تیز رفتاری کے ساتھ ہوائی جہازوں کے ذریعہ سفر کرتا ہے ۔

ان چیزوں کو مورخین انسانی ترقی کے عنوان کے تحت بیان کرتے ہیں۔ مگر ان کو آثار اللہ کے عنوان کے تحت بیان کیا جانا چاہیے۔ یہ دراصل خدا ہے جو انسان کو سفر کر اتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور

فضا کو اللہ تعالیٰ نے مخصوص قوانین کا پابند بنایا ہے۔ اگر یہ قوانین نہ ہوں یا وہ انسان کے ساتھ موافقت نہ کریں تو انسان خشکی میں بھی سفر نہیں کر سکتا، کجا کہ وہ سمندروں میں تیرے اور فضاؤں میں اڑے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : سُبْحَانَ الذِیْ سَخّرلَناَہذاوَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَ ۔ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر خدا کی عظمت کا بڑا پر رعب احساس ہوتا ہے۔ پانی کا اتھاہ خزانہ ، ساحل سے ٹکراتی ہوئی موجیں ، حد نظر تک پھیلا ہوا آسمان ۔ یہ چیزیں آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ اس پر عظمت منظر کو دیکھتے ہوئے میری زبان سے نکلا ؛ بنانے والے نے کیسی عجیب دنیا بنائی ، ایک ایسی دنیا جو دہشت ناک حد تک عجیب ہے۔ ایک وسیع ہال میں باجماعت نماز کا انتظام تھا ۔ بعض باتیں ایسی ہیں کہ ایک مانوس ماحول میں بار بار اس کو سنا جائے تو آدمی اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ مگر وہی بات ایک غیر مانوس ماحول میں سننے کو ملے تو وہ آدمی کو غیر معمولی طور پر متاثر کرتی ہے۔ یہ ہال جس کے ایک طرف سمندر کا منظر تھا اور دوسری طرف نمازیوں کے چہرے ۔ اس ماحول میں ایک شخص نے کھڑے ہو کر عربی لہجہ میں فجر کی اذان دی : اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ، اَشهدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَشهدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْلُ اللہِ، حَیَّ عَلَى الصَّلٰوةِ حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، یہ فجر کا اول وقت تھا۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ایسے ماحول میں جب یہ پر شکوہ الفاظ گونجے تو دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے مؤذن کی آواز کائنات کی ہم نوا ہو گئی ہے ، جیسے مؤذن عالم گیر سناٹے کو توڑتے ہوئے اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے جس کے اعلان کے لیے سارے زمین و آسمان بے قرار ہو رہے تھے۔ کانفرنس میں ایک مقرر نے نماز سے متعلق حضرت عمرؓ کا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد اس نے نہایت پرجوش انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہوٹل میں ایک ہال کو مسجد کے طور پر مخصوص کیا گیا ہے۔ وہاں روزانہ اذان ہوتی ہے ، مگر میں دیکھتا ہوں کہ جب اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو بہت کم لوگ ہیں جو مسجد کی طرف دوڑ کر جاتے ہوں، مگر خود مقرر صاحب

کا یہ حال تھا کہ پروگرام کے تحت ہونے والی نمازوں (مثلاً مغرب) میں تو وہ مسجد میں نظر آتے تھے۔ کے بعد ان کو مسجد میں پانا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ کبھی فجر کی جماعت میں شریک ہوئے ہوں، یہاں مغرب کی جماعت میں سب سے زیادہ آدمی ہوتے تھے اور فجر کی جماعت میں سب سے کم ۔

اس کانفرنس میں تقریباً ۸۵ ملکوں کے ۴۰۰ علما اور دانشور شریک ہوئے ۔ افتتاح کرتے ہوئے صدر جلسہ نے کہا :

نحن هنا من كل انحاء العالم الاسلامی بل من كل انحاء العالم یہ کانفرنس دعوت اسلامی کے موضوع پر تھی۔ یہی ایک جذبہ لے کر ہر شخص اس میں شریک ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت کو از سر نو زندہ اور غالب کیا جائے ۔ مگر یہاں اور دوسرے مواقع پر گفتگو کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں مسلمان ایک ہی قسم کے ذہنی انتشار سے دوچار ہیں۔ اور وہ یہ کہ وہ دعوت اسلام اور دفاع اسلام کو الگ الگ کرکے دیکھ نہیں پاتے۔ کے عنوان پر بولنا شروع کرتے ہیں اور اس کے بعد جلد ہی دفاع کے موضوع پر بہہ پہنچ جاتے ہیں اور پھر تقریر کی پوری ٹرین دفاع کے موضوع پر چلتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں کئی ایسے لوگ ملے جو الرساله (انگریزی) کے قاری تھے ۔ ہر ایک نے غیر معمولی الفاظ میں اس کی زبان و بیان کی خوبیوں کا اعتراف کیا۔ ایک امریکی نو مسلم سے میں نے الرساله (انگریزی) کے بارہ میں ان کا تاثر پوچھا تو وہ بار بار ممتاز ممتاز (Excellent, Excellent) کہتے رہے۔ افریقہ میں جو لوگ الرساله (انگریزی) کا افریقی ایڈیشن نکال رہے ہیں، ان میں سے ایک صاحب یہاں آئے ہوئے تھے ۔ ان سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ میں الرساله (انگریزی) کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔ لوگ بہت شوق سے اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میرا مقالہ ۱۶ ستمبر ۱۹۸۶ء کی نشست میں تھا۔ یہ مقالہ عربی میں تھا اور اس میں دکھایا گیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پھٹے پرن کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے آج کے دور میں اپنی نفع بخشی خدا کا قانون اس دنیا کے لیے یہ ہے کہ جو شخص یا گر وہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو عزت اور استحکام ملے۔ مسلمان جب تک اپنے آپ اس قانون کا مصداق ثابت

نہ کریں وہ بلند مقام حاصل نہیں کر سکتے ۔ یہ مقالہ ( اسلام دورِ جدید میں ) انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ یہ مقالہ کانفرنس کی طرف سے تین زبانوں میں تقسیم کیا گیا ۔ انگریزی ، فرانسیسی ۔

یہ عالمی موتمر ۱۵ ستمبر سے ۲۰ ستمبر تک جاری رہی ۔ موتمر کی صورت یہ تھی کہ مختلف اہلِ علم کو پیشگی طور پر متعین موضوعات بھیج دیے گئے تھے ۔ میرے محاضرہ کا عنوان تھا : حاجة المسلمين الى الاخذ باسباب التقدم العلمي والتقنى ہر نشست میں ضروری رسمی کارروائیوں کے بعد محاضر اپنا محاضرہ پیش کرتا ۔ اس کے بعد لوگوں کو اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ۔ آخر میں محاضر لوگوں کے سوالات کا جواب دیتا ۔ محاضرہ میں ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ توحید اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے ۔ ماننے ہی کے نتیجہ میں ہمارے اسلاف نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیے ۔ ترکی کے ایک پروفیسر نے سوال کیا کہ توحید میں اور سائنسی ترقیوں میں کیا تعلق ہے ۔ میں نے کہا کہ توحید محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ، وہ ایک ذہنی و فکری انقلاب ہے ، بلکہ سب سے بڑا فکری انقلاب ہے ۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام علمی ترقیاں ذہنی انقلاب ہی کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں ۔ ذہنی انقلاب آدمی کی پوری شخصیت کو جگا دیتا ہے ۔ تمام سوئی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار آ جاتی ہیں اور اسی کے نتیجہ کا نام عملی ترقی ہے ۔ کے لیے توحید ایک عظیم ذہنی انقلاب تھی ، اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ اس قابل بنے کہ ہر قسم کی اعلیٰ ترین ترقیاں حاصل کریں ۔ مسلمانوں کی موجودہ نسل کے لیے توحید محض ایک رسمی عقیدہ ہے اس لیے وہ جدید دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ بھی انجام نہ دے سکے ۔

محاضرات کے علاوہ دعوت اور احوالِ مسلمین کے بارے میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں۔ مختلف ملکوں میں اسلامی دعوت کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ۔ اور اس کی روشنی میں پروگرام بنائے گیے ۔

۱۸ ستمبر ۱۹۸۶ء کی نشست میں راقم الحروف کو صدر ( رئیس الجلسہ ) بنایا گیا۔ مجلے نے میرا تفصیلی انٹرویو لیا جو اس کی اگلی اشاعت میں شائع ہوگا ۔ بعض اور جرائد انٹرویو

لینا چاہتے تھے، مگر میں اس کے لیے وقت نہ نکال سکا۔ ٹیلی وژن پر مجھ سے انٹرویو دینے کے لیے کہا گیا، مگر میں ان کی اس فرمائش کو بھی پورا نہ کر سکا۔

مسائل کے مطالعہ میں ایک عام غلطی یہ کی جاتی ہے کہ حقیقی باتوں اور غیر حقیقی باتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کے نتیجہ میں پورا مطالعہ غلط ہو جاتا ہے۔ کی خاتون (زینب) نے اپنی پرجوش انگریزی تقریر میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر سخت احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے عورتوں کو گھر میں رکھنے کا ذکر کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عورتوں کا ختنہ کیا جاتا ہے جو عورتوں کے اوپر سراسر ظلم ہے۔ باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ گھر کا معاملہ عورتوں کے سپرد کرنا ایک صحیح اسلامی تعلیم ہے اور اس کی حکمت تقسیم کار ہے۔ جب کہ عورتوں کا ختنہ سراسر ایک جاہلانہ رواج ہے جو افریقہ کے بعض قبائل میں پایا جاتا ہے، مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

اسی طرح ایک صاحب ساؤتھ افریقہ سے آئے تھے۔ انھوں نے حج کے "مراسم" پر تبصرہ کرنا شروع کیا۔ انھوں نے حج کے واقعی اور ثابت شدہ مراسم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسی میں یہ بات بھی شامل کر دی کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حجر اسود پہلے سفید تھا۔ مگر وہ انسانوں کے گناہ سے کالا ہو گیا۔ مگر یہ دونوں باتیں ایک دوسرے مختلف ہیں۔ حج کے ثابت شدہ مراسم فی الواقع حج کے اجزاء ہیں۔ جب کہ حجر اسود کا سفید سے کالا ہو جانا ایک بے بنیاد کہانی ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔

میں ۱۹۵۷ء سے ۱۹۶۳ء تک جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا۔ وقت سے لے کر اب تک مجھے بہت سی جماعتوں اور تنظیموں کے اجلاس میں شرکت کا اتفاق ہوا ہے۔ میں نے مشترک طور پر ہر جگہ یہ بات پائی ہے کہ لوگ الفاظ پر اس قدر بحث کرتے ہیں جیسے کہ ان کے یہی الفاظ تاریخ بننے والے ہیں۔ جو لفظ وہ اجتماع گاہ میں کاغذ پر لکھ دیں گے وہی باہر کی دنیا میں پہونچ کر واقعہ بن جائیں گے۔

مثلاً اس موتمر کے آخری اجلاس میں ایک تجویز پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک شخص نے تجویز پیش کی کہ ایران۔ عراق جنگ کے بارہ میں ایک تجویز پاس ہو اور اس کو دونوں ملکوں کے ذمہ داروں

کے نام روانہ کیا جائے ۔ تجویز یہ تھی کہ دونوں ممالک شہروں میں جنگ کو بند کر دیں ۔ اس تجویز میں ابتداء ایقاف الحرب فی المدن (شہروں میں جنگ نہ کرنے ) کا لفظ تھا ۔ نے پرجوش طور پر کہنا شروع کیا کہ نہیں ، بلکہ ضرورت ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر بند ہو، اس لیے تجویز میں ایقاف الحرب نہائی کا لفظ لکھا جائے ۔ اب اس پر بحث چل پڑی کہ یہ لفظ لکھا جائے کہ وہ لفظ لکھا جائے ۔ اور کافی دیر تک اس پر تکرار ہوتی رہی ۔ یہ طے شدہ ہے کہ اس تجویز کے نتیجہ میں نہ شہروں کی جنگ رکنے والی ہے اور نہ یہ ہونے والا ہے کہ اس کے ایران اور عراق کو پہنچتے ہی جنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے ۔ اس قسم کے واقعات حقائق کے زور پر ایک یا دوسری صورت میں فیصل ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ کے زور پر ۔ سوڈان کے ایک عالم اسٹیج پر آئے ۔ ان کو ایک محاضر پر اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ اس محاضرہ میں بہت سی غلطیاں کی گئی ہیں ۔ میں ان کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں ۔ پروگرام کے مطابق چوں کہ بہت کم وقت دیا گیا ہے ، اس لیے میں محاضرہ کو اس کی صرف ایک غلطی کی طرف متوجہ کروں گا ۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ محاضر نے اپنے لکچر میں قرآن کی آیت انی جاعل فی الارض خلیفة کا ذکر کیا ہے اور اس کی تشریح یہ کی ہے کہ قوم يخلف بعضهم بعضا ۔ انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ خلیفہ کا یہ مفہوم غریب مفہوم ہے ۔ تفسیر کی جتنی کتابیں دیکھی ہیں ان میں سے کسی کتاب میں یہ معنی مذکور نہیں : لم يرد هذا المعنى فى اي كتاب من كتب التفسير اطلعت عليه یہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ اکثر لوگ اپنی بے خبری کو یقین کا قائم مقام بنا لیتے حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیفہ کا مذکورہ مفہوم واضح طور پر تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے ترکی کے نمائندہ استاد او غلونے عربی زبان کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامی کانفرنسوں میں میں نے دیکھا ہے کہ عربی زبان کے بعد جو دوسری زبانیں استعمال ہوتی ہیں وہ انگریزی اور فرانسیسی زبانیں ہیں ۔ میری تجویز یہ ہے کہ اس صورت حال کو بدلا جائے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ مسلم نسلوں کو ترکی اور اردو زبانیں پڑھائی جائیں جو کہ دونوں مسلمانوں کی زبانیں ہیں ۔ ترکی اور اردو دھیرے دھیرے عربی کے بعد استعمال ہونے والی زبانیں بن جائیں گی ۔

بظاہر یہ ایک بہت اچھی تجویز معلوم ہوتی ہے ۔ مگر یہ صرف ایک تمنا ہے جو عملاً ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مادری زبان کے بعد دوسری زبانیں جو آدمی سیکھتا ہے وہ ہمیشہ مادی عوامل کے تحت سیکھتا ہے۔ انگریزی یا فرانسیسی اسلامی کانفرنسوں کی سیکنڈ لنگویج اس لیے بنی ہوئی ہے کہ لوگوں کے مادی مصالح انھیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان زبانوں کو سیکھیں ۔ جب تک کوئی ایسا انقلاب نہ آئے جو ترکی اور اردو جیسی زبانوں کو وہی مقام دیدے جو انگریزی زبان کو یا فرانسیسی زبان کو عالمی سطح پر حاصل ہے، اس وقت تک اس قسم کی کسی تجویز کا واقعہ بننا ممکن نہیں ۔

مفتی شام (حلب) نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنے پچاس سال کے تجربات (تجارب حسین سنۃ) کی روشنی میں کہتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی تحریکوں کی ناکامی کی اصل وجہ اسلامی داعیوں کا عنف (شدت) ہے۔ انھوں نے ہر ملک میں غیر ضروری طور پر مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ کیا۔ اس کے نتیجہ میں اسلامی داعیوں اور مسلم حکمرا نوں کے درمیان لامتناہی جنگ چھڑ گئی۔ اگر اسلامی داعیوں نے مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہ کی ہوتی تو آج اسلامی دعوت کی تاریخ دوسری تاریخ ہوتی ۔ یہی بات جمہوریہ یوگنڈا کے نائب صدر الحاج ۔ موسیٰ شکا نگونے دوسرے انداز سے کہی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں اسلامی دعوت کو ترقی دینا ہے تو ہم کو کبھی بھی مذہب کے ساتھ سیاست کو نہیں ملانا چاہیے ۔

دوسری مسلم کانفرنسوں کی طرح یہاں بھی میں نے کسی مقرر کی آواز میں درد کی جھلک نہیں اس میں میرے احساس کے مطابق صرف ایک استثناء تھا۔ اور وہ ڈاکٹر محمود ایوب (لبنان) کا تھا۔ وہ دونوں آنکھ سے محروم تھے اور سہارا دے کر اسٹیج پر لائے گیے تھے۔ نابینا مقرر کی آواز میں مجھے درد اور سوز محسوس ہوا مگر بینا مقررین میں سے کسی کی آواز میں میں نے درد اور سوز کی کیفیت نہیں پائی۔ یہ درد جو ایک شخص کے اندر حیاتیاتی صدمہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا ، کاش یہی دردامت کے رہنماؤں کے اندر امت پر گزرنے والے صدمہ کی بنا پر پیدا ہو جائے تو سارا نقشہ اپنے آپ بدل جائے ۔

ڈاکٹر محمود ایوب (لبنان) نے عربی میں بولتے ہوئے ایک شخص کے سوال کا حوالہ

دیا جس نے انگریزی زبان میں اپنا سوال پیش کیا تھا، اور پھر اچانک وہ انگریزی میں بولنے لگے۔ زمانہ میں بہت لوگ ہیں جو بیک وقت کئی کئی زبانوں میں بول سکتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسا عجیب و غریب دماغ دیا ہے۔ جس طرح ریڈیو میں ایک بٹن دبا کر آپ ایک زبان کی نشریات سنتے ہیں اور دوسرا بٹن دبائیں تو دوسری زبان کی نشریات آنے لگیں گی، اور تیسرا بٹن دبائیں تو تیسری زبان کی۔ یہی حال زیادہ عجیب تر شکل میں انسانی دماغ کا کیسا عظیم ہوگا وہ خالق جس نے ایسے انسانی دماغ کو بنایا۔

یہ سوچتے ہوئے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے کہا کہ خدایا ، مجھے ان لوگوں میں لکھ لیجیے جنھوں نے آپ کی عظمت کا اعتراف کیا، اس وقت جب کہ انھوں نے اس کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، اس وقت جب کہ وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور نہیں ہوئے تھے۔ ہر آدمی چیزوں کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال نائجیریا کی ایک مسلم خاتون (زینب) کی تقریر میں سامنے آئی۔ ان دنوں ٹیلی وزن پر عمر مختار کی مشہور فلم دکھائی گئی تھی۔ خاتون نے کہا کہ میں نے پچھلی رات کو ٹیلی وزن پر عمر مختار فلم دیکھی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ فلم نہایت شاندار ہے۔ مگر طویل فلم میں سارا کردار صرف مرد ادا کرتے ہیں۔ واحد موقع جب کہ اس فلم میں عورت کو دکھایا گیا ہے ، وہ موقع وہ ہے جب کہ عمر مختار کی بیوی کو اطالویوں نے گھر سے نکال کر سولی پر چڑھا دیا۔

اس تاریخی فلم کا ایک حصہ راقم الحروف کے سامنے سے بھی گزر رہا تھا۔ خاتون کی بات بطور واقعہ تاہم میرے ذہن میں اس قسم کا خیال بھی نہیں آیا۔ مگر جب ایک آزادی پسند خاتون نے اس کو دیکھا تو اس کو پوری فلم میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ بات جو نظر آئی وہ یہ تھی کہ اس میں عورت کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

فلم عمر مختار اور فلم گاندھی کا موضوع اس اعتبار سے مشترک ہے کہ دونوں ایک ایک ملک کی آزادی کی جد و جہد کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ مگر اس کو دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ "گاندھی" کے مقابلہ میں "عمر مختار" زیادہ عظیم ہے۔ اس کی وجہ فن کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ خود کہانی کا فرق "گاندھی" ایک ایسے لیڈر کی کہانی کو مصور کرتی ہے جس نے "امن" کی طاقت سے ہندوستان

کو آزاد کرایا۔ اس کے مقابلہ میں ”عمر مختار“ نے اطالویوں کا مقابلہ مسلح انداز سے کیا۔ میں اگر ”پر امن مارچ“ کے مناظر ہیں تو عمر مختار فلم میں دہشت اور خونخواری کے مناظر۔ یہی وہ فرق ہے جس نے ”گاندھی“ کے مقابلہ میں ”عمر مختار“ کو دیکھنے والوں کے لیے زیادہ پر شوکت بنا دیا ہے۔

آدمی خواہ بزدل ہو مگر وہ جنگ اور جہاد کی باتوں کو پسند کرتا ہے۔ ”عمر مختار“ میں اگر چہ فنی کمال بھی اپنے انتہائی درجہ پر ہے، تاہم اس میں اگر عمر مختار کی ماں یا ان کی بیوی کا وہ کردار دکھایا جاتا جب کہ انھوں نے گھر کو سنبھالا اور بچوں کی پرورش کی، تو اس قسم کے مناظر باعتبار حقیقت عظیم ہونے کے باوجود دیکھنے والوں کو عظیم نظر نہ آتے۔ مگر موجودہ شکل میں وہ مار دھاڑ کی ایک فلم ہے، اور اسی چیز نے اس کو عظیم بنا دیا ہے۔ جنگی مشینوں کی گڑگڑاہٹ گولوں کے دھماکے، آگ اور خون کے ہولناک مناظر ، میدانِ جنگ کا پر ہول نقشہ، فتح و شکست کے جذباتی لمحات اس قسم کی چیزیں اس میں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ اور یہی اس کی کامیابی کا اصل راز ہے ۔

ایک عرب نوجوان جو برلن (جرمنی) سے آئے تھے، انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم بحیثیت مسلمان امن کو پسند کرتے ہیں ۔ مگر ہم کسی کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ؛ انّا كمسلمين نحب السَّلام ولكننا نرفض الاستسلام بظاہر یہ ایک بڑی اچھی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف ایک پر جوش کلمہ ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پر امن وہی شخص رہ سکتا ہے جو اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات اس دنیا میں امن پسندی نام ہے بے امنی کے باوجود پر امن رہنے کا۔ مذکورہ قسم کے پر جوش مقررین اس راز سے واقف نہیں ۔

کانفرنس میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی حالت کے بارے میں کتابچے اور رپورٹیں تقسیم کیں ۔ ان میں کافی معلومات اور تجربات درج تھے جن کی تفصیل سفر نامہ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔

سری نام کے وفد نے تین صفحہ کی ایک رپورٹ تقسیم کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت

سرینام کی مجموعی آبادی میں بیس فی صد مسلمان ہیں۔ اور پورے ملک میں ایک سو سے زیادہ باقاعدہ مسجدیں رپورٹ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے :

The immigration of Muslims in Surinam occurred in the 17th century when the African slaves were brought by the European slave traders to work in the fields. Many of these Africans were Muslims and when they arrived, they tried the utmost to keep their faith alive. سرینام میں مسلمانوں کی مہاجرت ۱۷ ویں صدی عیسوی میں ہوئی ۔ جب کہ یورپ کے بردہ فروش افریقی غلاموں کو لے آئے تاکہ وہ یہاں کے کھیتوں میں کام کر سکیں ۔ ان افریقیوں میں اکثر مسلمان تھے اور جب وہ یہاں آئے تو انھوں نے پوری کوشش کی کہ وہ اپنی دینی حیثیت کو باقی رکھ سکیں ۔ یہ واقعہ جس کا ذکر یہاں سرینام کے ذیل میں کیا گیا ہے ، یہی موجودہ زمانہ میں تمام دنیا میں موجودہ زمانہ میں جب مغربی قومیں ابھریں اور انھوں نے تمام دنیا کو زیر کر لیا تو وہ اپنے مقبوضہ ملکوں (ہندوستان ، افریقہ وغیرہ) سے لاکھوں انسانوں کو لے گیے تاکہ انھیں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں بطور مزدور استعمال کر سکیں۔ اس طرح مسلمان اچانک ساری دنیا میں پھیل گیے۔ نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں آسٹریلیا سے لے کر باربیڈوز تک ہر جگہ مسلمانوں کی آبا دیاں پائی جاتی ہیں ۔

یہی واقعہ اس سے پہلے تاتاریوں کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔ تاتاریوں نے فتح کے بعد کثیر تعداد میں مسلمان عورتوں اور مسلمان مردوں کو غلام بنایا ۔ تاہم اس وقت لوگوں کے اندر اسلام زندہ تھا ۔ یہ مسلمان مرد اور عورت جہاں پہنچے وہاں انھوں نے تاتاریوں کے درمیان خاموش تبلیغ شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو نسل کے اندر بیشتر تاتاری مسلمان ہو کر اسلام کے پاسبان بن گیے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اگر دعوتی ذہن ہوتا تو وہی واقعہ دوبارہ نئی شکل میں پیش آتا، جو تاتاریوں کے زمانے میں پیش آیا۔ جن مغربی قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر ہم ان کے خلاف بے معنی احتجاج میں مشغول ہیں ، وہ قومیں آج اسلام کے دائرہ میں داخل ہو کر اسلام کی پاسبان بن چکی ہوتیں ۔

۸ ستمبر کی شام کو ایک ہندوستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ لندن سے روانہ ہو کر یہاں انھوں نے بتایا کہ دہلی میں دوبارہ فساد ہو گیا ہے ۔ اور اس فساد کا رخ مسلمانوں کی طرف اگر چہ بعد کی تحقیق نے بتایا کہ یہ خبر صحیح نہ تھی ۔

ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا سارا غصہ ہمیشہ " فسادیوں " کے خلاف مگر ذاتی طور پر میں ان فسادات کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھتا ہوں ۔ اس لیے میرے تمام احساسات کا رخ صرف مسلمانوں کی طرف رہتا ہے۔ مجھے مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ حقائق کی دنیا میں حقائق سے بالکل بے پروا ہو کر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

ان فسادات کی جڑ میرے نزدیک یہ ہے کہ مسلمانوں نے ملک کو تقسیم کر لیا ، مگر وہ تقسیم کے نتائج قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ملک کو ”ہندو انڈیا “ اور ”مسلم انڈیا “ میں تقسیم کرنے کا لازمی مطلب یہ تھا کہ مسلمان ” ہندو انڈیا “ میں اپنے لیے نمبر ۲ کی حیثیت قبول کرنے پر راضی ہیں۔ اگر مسلمانوں نے خود اپنے عمل کے اس نتیجہ کو ۱۹۴۷ء کے بعد قبول کر لیا ہوتا تو حالات معمول پر آجاتے اور ملک کی تاریخ فرقہ وارانہ فساد کے بجائے فرقہ وارانہ تعمیر کی تاریخ ہوتی۔ (واضح ہو کہ نمبر ۲ کی حیثیت کا مطلب مسلمانوں کا درجہ گرانا نہیں ، بلکہ صرف حقیقت واقعہہ کا اعتراف کرنا ہے۔ مگر ملک کی جدید تاریخ کا یہ عجیب حادثہ ہے کہ پاکستان کے ایک کم درجے سے زیادہ ہندوؤں نے پاکستان میں اپنے لیے عین اسی حیثیت کو قبول کر لیا جو نئے حالات کا تقاضا تھا ، حالاں کہ انھوں نے تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا تھا ۔ مگر ہندوستان کے مسلمان ہندوستان میں اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے ، اگر چہ یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے یک طرفہ طور پر تقسیم کی تحریک چلائی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان تقسیم سے پہلے جن خود ساختہ مسائل سے دوچار تھے ، تقسیم کے بعد بھی وہ انھیں خود ساختہ مسائل میں مبتلا ہیں۔ کا اعتراف اس دنیا میں آدمی کے لیے زندگی کے دروازے کھولتا ہے ۔ ہندوستانی مسلمان حقیقت واقعہ کے اعتراف کے لیے تیار نہیں ، اس لیے زندگی کے دروازے بھی اب تک ان کے لیے نہیں کھلے۔ مسلمانوں نے اس ملک میں چالیس قیمتی سال کھو دیے ہیں ۔ اگر وہ اپنے مزاج کو نہ بدلیں تو وہ اگلے چالیس سال بھی کھو دیں گے۔ موجودہ مزاج کے ساتھ مسلمانوں کے لیے اپنے مستقبل کی

کامیاب تعمیر ممکن نہیں ۔

بنگلہ دیش کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا : مسلم ممالک کا المیہ یہ ہے کہ اس وقت کسی بھی مسلم ملک میں کوئی طاقت ور قائد ان کے الفاظ میں اسٹرانگ لیڈر ) نہیں ۔ میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تو شیخ مجیب الرحمن کمی شکل میں ایک طاقت ور قائد پھر اس طاقت ور قائد نے اپنے ملک کو کیا دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، وہ طاقت ور قائد تھے مگر انھوں نے ملک کو برباد کیا۔ میں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوا کہ قومی تعمیر کے لیے صرف " طاقت ور قائد " کافی نہیں ۔ پھر میں نے کہا کہ آج اصل کی قائد قومی کی نہیں ، اصل کمی قائدِ حکیم کی ہے ۔ آج ہر مسلم ملک میں ایسے افراد موجود ہیں جن کے پاس طاقت ہے ، جن کے پاس مگر وہ چیز ان کے پاس نہیں جس کو دانش کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں دانش کی کمی نے مسلم ملکوں کو برباد کیا ہے نہ کہ طاقت کی کمی نے ۔ ایک بار کھانے کے وقت میری میز کے قریب چند باریش بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اردو زبان اور موضوع گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں اور " دیو بندی مکتب فکر " سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک بزرگ نے پرجوش طور پر کہا کہ " ہندوستان میں صرف ۱۰ دن کے اندر پچپن ہزار علماء شہید کر دیے گئے " میں نے پوچھا کہ حضرت ، اسلام میں شہادت برائے شہادت ہے کہ شہادت کا کوئی مقصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہادت کا مقصد بالکل واضح ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا : اعلاء کلمۃ اللہ ۔ میں نے کہا کہ دورِ اول میں ۵۵ سو سے بھی کم آدمیوں نے شہادت پائی اور اللہ کا کلمہ بلند ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں ۵۵ ہزار بزرگ شہید ہو گئے اور اب تک اللہ کا کلمہ بلند نہ ہو سکا۔ اس پر وہ بگڑ گئے ۔ میں نے آگے کلام کو جاری رکھنا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔

پاکستان کی پوری آبادی ساڑھے نو کروڑ ہے ۔ ان میں مہاجرین کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ غیر مسلم ایک کروڑ اور کچھ لاکھ ہیں ۔ کراچی شہر کی آبادی ۷ لاکھ ہے ۔ اس میں مہاجرین کی تعداد تقریباً ۴۰ لاکھ ہے ۔

ایک صاحب رواندا (وسط افریقہ) سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ رواندا میں مسلمان

تقریباً ۳۰ فی صد ہیں۔ اسلام وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ ہر روز کچھ نہ کچھ لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ وہاں کی حکومت سیکولر ہے اور وہ مذہبی تبلیغ کی مکمل آزادی دیے ہوئے ہے۔ البتہ اکثر افریقی ملکوں کی طرح وہاں بھی یہ مسئلہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی سماجی کام نہیں۔ وہاں کی مسیحی تنظیموں نے کثیر تعداد میں اسکول کالج اور اسپتال کھول رکھے ہیں۔ حتی کہ وہ نہریں نکالنے اور زراعت کو ترقی دینے میں عوام کی مدد کرتے دوسری طرف مسلمان سماجی خدمات کے ان میدانوں میں بالکل صفر کے درجہ میں ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے ان کو عزت کا مرتبہ حاصل نہیں ۔ ایک آدمی اگر کوئی کام نہ کرے تو وہ حقیر سمجھ لیا جاتا ہے :

Printed page