اَلْوَاحِدُ إِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرْ
Al-Risala, May 1987, pp. 37–42
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، جو برطانیہ سے آئے تھے ۔ وہ اصلاً ہندوستانی ہیں اور برطانیہ میں ۲۰ سال سے کسی مسجد کے امام ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے مسلمان پہلے نہایت سکون کے ساتھ رہ مگر جب سے وہاں علماءء کرام پہنچے ہیں، مسلمانوں کے آپس کے دینی جھگڑے بہت بڑھ گئے مسلمان گروہ ہوں گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر گروہ دوسرے گروہ کی کاٹ میں لگا رہتا ہے اور یہ سب ہمارے علما کرام کی دین ہے۔
انھوں نے اپنا قصہ بتایا کہ میری مسجد کے نمازیوں میں سے ایک پاکستانی نے میرے خلاف یہ پرو پیگنڈا شروع کیا کہ میں ہندوستان کا ایجنٹ ہوں ۔ وہ صاحب مسجد کمیٹی کے ممبر تھے ۔ ایک بار انھوں نے کمیٹی کے اجلاس کا اعلان کر دیا۔ ان کا ارادہ تھا کہ اس اجلاس میں میرے خلاف تجویز پاس کر کے مجھے مسجد کی امامت سے علیحدہ کر دیا جائے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کمیٹی کے اجلاس کی براہ راست مخالفت نہیں کی ۔ بس خاموشی کے ساتھ یہ کیا کہ کوشش کر کے اجلاس کی تاریخ آگے بڑھوا دی تاکہ مجھ کو اجلاس سے پہلے ایک جمعہ مل جائے ۔
کمیٹی کے ممبران میں پاکستانی افراد کی اکثریت تھی ۔ جب کہ نمازیوں میں تقریباً ۵۰ فی صد ہندوستانی تھے اور ۵۰ فی صد پاکستانی۔ جمعہ کے دن تمام لوگ جمع ہوئے تو میں نے مفصل تقریر کی اور اس تقریر میں ہندوستانی مسلمانوں کی وہ قربانیاں بتائیں جو انھوں نے پاکستان کے قیام کے لیے کی ہیں اور آج بھی وہ اس کی قیمت دیئے چلے جا رہے ہیں۔ ان باتوں کا زبردست اثر ہوا اور
پوری فضا مذکورہ پاکستانی کے خلاف ہو گئی۔ نہ صرف یہ کہ میرے خلاف تجویز ختم ہوگئی بلکہ مذکورہ پاکستانی ممبر کو کمیٹی سے علیحدہ کر دیا گیا۔
یہی حکمت مسائل کو حل کرنے کا واحد یقینی طریقہ ہے۔ مسئلہ خواہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان، وہ حکمت ہی کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے۔ غیر حکیمانہ طریقہ صرف مسئلہ کی شدت کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اس کو کم نہیں کرتا۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ زندگی کے اس راز کو لوگ صرف اپنے ذاتی معاملہ میں یا رکھتے ہیں، وہ قومی معاملہ میں ہمیشہ اس کو بھول جاتے ہیں ۔
جنوبی افریقہ کے ایک ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی ۔ وہ جنوبی افریقہ کے شہری ہیں ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے بارہ میں اکثر ظلم و فساد کی خبریں دوسرے ملکوں کے اخباروں میں چھپتی رہتی ہیں۔ ان کو ہمارے وہ رشتہ دار پڑھتے ہیں جو یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ہیں۔ وہ ہم کو لکھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کے حالات اتنے خراب ہیں، وہاں جان و مال محفوظ نہیں، پھر آپ وہاں کیوں پڑے ہوئے ہیں ۔ آپ جنوبی افریقہ کو چھوڑ کر ہمارے یہاں آجائیے ۔ ہم ان کو جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ اخباروں میں چھپتا ہے وہ اخباروں کی اپنی ایجاد ہے، ورنہ جنوبی افریقہ کے حالات ایسے نہیں ۔ معمولی کھٹ پٹ ضرور ہوتی ہے تو معمولی کھٹ پٹ کہاں نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ظلم کے واقعات زیادہ تر ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو حکمرانوں کے خلاف متشددانہ تحریک چلاتے ہیں، عام باشندوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
میں نے کہا کہ ٹھیک یہی ہندوستان کا معاملہ بھی ہے۔ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے۔ آبادی بہت زیادہ ہے۔ کہیں کوئی جھڑپ یا کھٹ پٹ ہو گئی تو باہر کے اخبار میں چھپتا ہے کہ ہندوستان میں فساد" ۔ حالاں کہ جو واقعہ ہوتا ہے وہ بھی ہندوستان کی لاکھوں بستیوں میں سے ایک بستی میں اور اکثر بستی کے ایک محلہ میں ہوتا ہے ۔ اور اخبار والے اس کا عنوان بنا دیتے ہیں "ہندوستان میں فساد" اس کی وجہ سے لوگ غیر ضروری طور پر تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ واقعات کے مطالعہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک واقعہ کو اسی نوعیت کے دوسرے واقعات سے ملا کر دیکھا جائے ۔ جو لوگ ہندوستان میں مسلمانوں پر غیر مسلموں کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں
انھیں مسلم ملکوں میں مسلمانوں کے مظالم کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ افریقہ کی کانفرنس میں سوڈان کے ایک اسلام پسند بزرگ نے جعفر نمیری کے مظالم بیان کیے اور اس کے لیے ”شیطان “ کا لفظ حالانکہ وہاں ظالم اور مظلوم دونوں مسلمان ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس لیے یہاں شکایت اور احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ آدمی صورت حال کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔
۲۱ ستمبر کی شام کو عربوں کی ایک مجلس کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ یہ تمام کے تمام عرب میرے سوا وہاں کوئی ایک بھی اردو جاننے والا نہ تھا، اس لیے پوری تقریر عربی میں ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ان لوگوں نے میری اس عربی تقریر کو دو کیسٹ پر ریکارڈ کیا۔ اس تقریر میں میں نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ایمان ایک اکتشاف ہے۔ اسی اکتشاف سے وہ چیز ابھرتی ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ عام مسلمانوں کے لیے تقلیدی ایمان بھی کافی ہوسکتا ہے مگر داعی وہی شخص بن سکتا ہے جس کو اکتشاف کے درجہ میں ایمان حاصل ہوا ہو۔
پھر میں نے موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کا ذکر کیا۔ جو اسلامی انقلاب کے نام پر اٹھیں میں نے مثالیں دے کر بتایا کہ یہ تمام تحریکیں ردعمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوئیں ان تحریکوں کے قائدین نے دیکھا کہ غیر مسلم اقوام نے ان سے ان کی عظمت چھین لی ہے ۔ اس احساس نے انھیں بھڑکایا اور وہ ان سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ حقیقی داعی وہ ہے جو احساس یا فت پر اٹھے۔ مگر یہ لوگ احساس زیاں پر اٹھے۔ اس دنیا میں ’’زیاں‘‘ کو بھولنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی آدمی کو ’’یافت‘‘ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ مگر ہمارے رہنما اس حوصلہ مندی کا ثبوت نہ دے سکے ۔ اس لیے وہ احساس محرومی سے اوپر اٹھنے میں کامیاب بھی نہیں ہوئے ۔
میری تقریر کا آخری خلاصہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ۔ جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین بے شمار قربانیوں کے باوجود کوئی انقلاب برپا نہ کر سکے۔ اس کا سبب در اصل وہ فرق ہے جو رسول اللہ اور ان مسلم مفکرین کے درمیان پایا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احساس یافت پر کھڑے ہوئے تھے۔
برعکس موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین احساس محرومی پر کھڑے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایمان ایک عظیم دریافت کے ہم معنی تھا۔ وہ ہر چیز سے زیادہ عظیم تھا۔ گویا کہ آپ لوگوں سے کہہ رہے تھے : اے لوگو، میرے پاس ایک بہت بڑی چیز ہے۔ میرے پاس آؤ تاکہ میں تم کو وہ چیز دوں۔ کے برعکس موجودہ مسلم مفکرین کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی بڑی چیز نہیں۔ گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں : اے لوگو، تم نے ہم سے تمام چیزیں چھین لی ہیں۔ تو تم چھینی ہوئی چیزوں کو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت دینے والے کی تھی اور ہمارے رہنماؤں کی حیثیت مانگنے والوں کی۔ اس فرق کے بعد کیسے ممکن تھا کہ ان کے ذریعہ سے وہ چیز ظہور میں آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ظہور میں آئی :
ان النبي صلى الله عليه وسلم حقق ثورة عظيمة، لا نظير لها في التاريخ الانساني والمفكرون المسلمون المعاصرون عجزوا عن تحقيق اى ثورة ولو بعد بذل لهم تضحيات عظيمة والسبب يرجع الى فرق جوهري بين عمل النبي صلى الله عليه وسلم وعمل هؤلاء المفكرين - فالنبي قام عمله على احساس الوجدان، وهم قد قام عملهم على احساس الخسارة والفقدان - ان ايمان الرسول صلى الله عليه وسلم كان له كاكتشاف عظيم، يفوق كل شي - فكانه كان في دعوته يقول : ايها الناس، عندی شي عظيـم - تعالوا الى مناعطيكم منه ـ وهؤلاء المفكرون ليس عند هم اى شئ - وكانهم يقولون - ايها الناس، انكم سلبتـم منا كل شئ فنردّ واعلينا الاشياء التي سلبتـموها منا- فالرسول صلى الله عليه وسلم كان ك الواهب او ك الحاطی وهم ك السائلين - فكيف يتأتى لهم ان يحققوا ما حققه الرسول صلى الله عليه وسلم ـ واپسی میں عجیب قصہ پیش آیا۔ کراچی سے ۲۲ ستمبر کی شام کو دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ سے دہلی کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ جہاز معمول کے مطابق ۱۰ ہزار میٹر کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ یہاں تک کہ ”کرسی کی پیٹی باندھ لیں“ کی علامت روشن ہوئی۔ بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ اب دہلی قریب آگیا ہے۔ مگر کچھ دیر کے بعد روشنیاں بجھ گئیں۔ اور جہاز بدستور اُڑتا رہا، یہاں تک کہ پرواز کی حالت میں دو گھنٹے سے زیادہ گزرگئے ۔ ہم اسی تشویش میں مبتلا تھے کہ جہاز کے
ذمہ داروں کی طرف سے اعلان ہوا کہ خراب موسم کی وجہ سے ہم دہلی کے ائیر پورٹ پر نہ اتر سکیں گے، اور اب ہم دوبارہ کراچی واپس جا رہے ہیں۔
تقریباً تین گھنٹہ فضا میں رہنے کے بعد جہاز دوبارہ کراچی کے ایر پورٹ پر اتر گیا۔ لاؤنج میں بٹھا دیئے گئے۔ کئی گھنٹے تک انتظار کی غیر یقینی حالت طاری رہی۔ اس کے بعد اعلان ہوا کہ جہاز دوبارہ دہلی کے لیے روانہ ہو رہا ہے چنانچہ تمام مسافر دوبارہ جہاز پر سوار ہوئے۔ وقت کے مطابق ہم ۵ بجے شام کو دہلی پہنچ جاتے۔ مگر اس افتاد کی وجہ سے ہم رات کو ۱۲ بجے دہلی پہنچے۔ جن ہوائی ’’حادثات‘‘ کا ذکر اس سے پہلے اخباروں میں پڑھا تھا وہ اس سفر میں کم از کم جزئی طور پر میرے ساتھ بھی پیش آ گیا۔
۲۳ ستمبر کو پی آئی اے کا جہاز جب درمیان سے واپس ہوا تو اس کو دوبارہ کراچی ایر پورٹ پر اترنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کیوں کہ وہ خود اپنے ملک میں اپنے ایر پورٹ پر اتر رہا تھا۔ مگر اس سے پہلے ۱۴ ستمبر کو جب ہمارے جہاز کا ایک انجن فیل ہو گیا تھا اور پائلٹ مجبور ہو گیا تھا کہ وہ اس کو زمین پر اتارے تو اس نے فضا سے وائرلیس کے ذریعہ قریب کے کئی ہوائی اڈوں سے رابطہ قائم کیا۔ مگر ہر ہوائی اڈہ اس کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا۔
آخر میں اس نے عمان ایر پورٹ سے بات کی۔ اس نے بھی ابتداء انکار کیا۔ گھنٹہ تک پائلٹ اور عمان ایر پورٹ کے ذمہ داروں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی۔ پائلٹ نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جہاز پر ۲۰۰ مسافر ہیں۔ آخر میں کیسے ایسا کروں گا کہ ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دوں کہ وہ کسی کھنڈ میں جا کر گر جائیں۔ اس گفتگو کے درمیان آدھ گھنٹہ تک جہاز عمان کے چاروں طرف اڑتا رہا۔ آخر کافی کہنے سننے کے بعد عمان ایر پورٹ نے جب ہمارا جہاز ڈگمگاتے ہوئے عمان ایر پورٹ پر اترا تو وہاں مسلح پولیس پورے ایر پورٹ کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھی۔
اس غیر معمولی سلوک کی وجہ فضائی متذاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں ایر پورٹ والے پہلا شبہ یہ کرتے ہیں کہ فضائی قزاقوں نے جہاز کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور اس کو کسی
غیر متعلق ائیرپورٹ پر اترنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ جب فضائی قذا فون کو ایسا کرنا ہوتا ہے تو وہ جہاز کے پائلٹ کو ہدایت کر دیتے ہیں کہ تم ہمارا نام ہر گز نہ لو، بلکہ یہ کہو کہ انجن کی خرابی یا کسی تکنیکل سبب سے ہم جہاز کو اتارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ائیر پورٹ نے ہمارے پائلٹ کے بیان پر یقین نہیں کیا اور اس کو اترنے کی اجازت دینے میں دیر لگائی۔ یہاں بظاہر مجھ کو ہر طرح کا آرام حاصل تھا ، مادی اعتبار سے کسی چیز کی کمی نہ تھی مگر میری روح ہر وقت تڑپتی رہتی تھی۔ اصل یہ ہے کہ دہلی میں اپنے روز مرہ کے کام کے ساتھ میں اتنا زیادہ وابستہ ہو گیا ہوں کہ اس سے باہر نکلتے ہی میرا سکون بالکل چھن جاتا ہے۔ میرا حال اس مچھلی کا سا ہو جاتا ہے جس کو پانی سے نکال کر خشکی میں ڈال دیا گیا ہو۔ چنانچہ بارہ دن کے اس سفر میں شاید ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جب کہ میں نے اپنے اندر سکون و اطمینان محسوس کیا ہو۔ مدت میں مسلسل میں شدید کرب میں مبتلا رہا۔ یہ کرب صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ میں ۲۲ ستمبر ۱۹۸۶ء کو اپنے دہلی کے ماحول میں دوبارہ واپس آگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑی چیز نفسیاتی سکون ہے نہ کہ مادی راحت۔ اگر آدمی نفسیاتی بے چینی میں مبتلا ہو تو مادی راحت کے سامان ہوں کے انبار کے درمیان بھی وہ اس طرح تڑپے گا جیسے وہ آگ کے انگاروں کے اوپر ڈال دیا گیا ہے ۔ نفسیاتی بے آرامی ہر مادی آرام کو بے معنی بنا دیتی ہے۔
زیر طبع مطبوعات تذکیر القرآن جلد دوم ( سورہ کهف - سوره ناس) صفحات ۸۰۰ تعبیر کی غلطی صفحات ۳۴۴