Al-Risala · June 1987

امکان ختم نہیں ہوتا

Al-Risala, June 1987, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک امریکی نوجوان ڈیوٹ ویلس (DeWitt Wallace) نے ارادہ کیا کہ وہ ایک ماہانہ ڈائجسٹ نکالے۔ اپنے والد سے اس نے ابتدائی سرمایے کے طور پر ۳۰ ڈالر مانگا۔ والد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ڈیوٹ پیسہ کو استعمال کرنا نہیں جانتا، وہ اسے ضائع کر دے بمشکل اس نے اپنے بھائی سے کچھ رقم حاصل کی اور جنوری ۱۹۲۰ میں نمونہ کا شمارہ چھاپا جو چند سو نسخوں سے زیادہ نہ تھا۔

اب ڈیوٹ کے سامنے دوسرا مسئلہ تھا۔ اس نے اپنا میگزین نیو یارک کے پبلشنگ اداروں کو دکھایا اور کہا کہ اس کو فروخت کرنے میں وہ اس کا تعاون کریں۔ مگر تمام اداروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ میگزین بہت زیادہ سنجیدہ (Too serious) ہے اور اتنے زیادہ سنجیدہ پرچہ کے لیے مارکیٹ موجود نہیں ۔

یہ بڑا نازک مسئلہ تھا۔ کیوں کہ اخبارات و رسائل پبلشنگ اداروں ہی کے ذریعہ عوام تک بہو نچتے ہیں۔ اور پبلشنگ اداروں نے ڈیوٹ کو تعاون دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم ایک امکان بدستور ابھی ڈیوٹ کے لیے باقی تھا۔ وہ یہ کہ وہ خریداروں تک براہِ راست اس نے بہت سے پتے حاصل کر کے لوگوں کو براہ راست خطوط لکھے۔ اسی کے ساتھ اس نے اخبارات میں اشتہار شائع کیا۔ عام حالات میں ایک نئے اور غیر معروف میگزین کے لیے اس طرح خریدار حاصل کرنا بظاہر ناممکن تھا۔ مگر ڈیویٹ کی ایک تدبیر نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اس نے اپنے خطوط اور اپنے اشتہارات میں جو باتیں لکھیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی :

The subscription could be cancelled and all money refunded if the reader wasn't satisfied (p. 163). قاری اگر میگزین کو پڑھنے کے بعد اس سے مطمئن نہ ہو تو خریدار ی ختم کر دی جائے گی اور اس کی پوری رقم اسے واپس کر دی جائے گی۔

اس پیش کش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈیوٹ کے پاس خریداری کی فرمائش اور منی آرڈر آنا شروع پہلے ہی مرحلہ میں اس نے اتنی رقم حاصل کرلی جس سے دو ماہ کا شمارہ بہ آسانی چھاپا

ڈیوٹ کا منصوبہ کامیاب رہا ۔ کسی ایک شخص نے بھی اپنی خریداری ختم نہیں کی ۔ نے بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس نے عام خریداروں تک پہونچنے کی کوشش کو تیز تر فروری ۱۹۲۲ میں اس کا میگزین پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ برابر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ ۱۹۷۸ء میں وہ ۲۸ ملین سے زیادہ تعداد میں دنیا کی پندرہ زبانوں میں ۳۹ ایڈیشن شائع کر رہا ہے ۔ یہ وہی ماہانہ میگزین ہے جو آج ساری دنیا میں ریڈرز ڈائجسٹ (Reader's Digest) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اب وہ دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا میگزین بن چکا ہے ۔ ۱۹۸۰ء میں ڈیوٹ اور اس کی بیوی پچاس ہزار ملین ڈالر کے مالک تھے۔ ڈیوٹ نے اپنے میگزین کے لیے اس طرح خریدار فراہم کیے کہ اس نے اپنے میگزین کو خریداروں کے لیے ”مفت“ بنا دیا ۔ ہر آدمی پیسہ ڈوب جانے کے اندیشہ کے بغیر اس کا خریدار بن سکتا تھا ۔ تاہم خود اس تدبیر کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے ایک اور تدبیر ضروری تھی۔ اگر یہ دوسری تدبیر موجود نہ ہوتی تو صرف پہلی تدبیر اس کی ناکامی میں اضافہ کے سوا اسے کچھ اور دینے والی ثابت نہ ہوتی ۔

یہ دوسری تدبیر وہی تھی جس کو اعلیٰ معیار کہا جاتا ہے ۔ یعنی میگزین کو معیار کے اعتبار سے ایسا بنا دینا کہ پڑھنے کے بعد قاری کو وہ واقعہ پڑھنے کی چیز نظر آئے ۔ وہ اس کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھے کہ اس کی خریداری کے لیے جو رقم اس نے بھیجی ہے وہ صحیح بھیجی ہے ، اور اس کو اپنی خریداری جاری رکھنا چاہیے۔

اپنے میگزین میں یہ دوسری صفت پیدا کرنے کے لیے ڈیوٹ کو غیر معمولی محنت کرنی اس کا ماہنامہ ایک ڈائجسٹ تھا ۔ یعنی مختلف مطبوعہ مضامین کا انتخاب ۔ منتخب مضامین حاصل کرنے کے لیے روزانہ چالیس سے زیادہ میگزین پڑھتا تھا ۔ کچھ خرید کر اور کچھ مختلف لائبریریوں میں جاکر ۔ اس پر مشقت عمل کے لیے ڈیوٹ کو طعن و طنز بھی سننے پڑتے

Printed page