Al-Risala · June 1987

East Asia for Japan

Al-Risala, June 1987, pp. 9–12

By Maulana Wahiduddin Khan

جاپانی قوم کا یہ ذہن اس کی قدیم تاریخ میں اس کو تشدد بنائے ہوئے تھا۔ خاص طور پر ۱۹۳۷ سے لے کر ۱۹۱۴۵ء تک وہ اپنے اس خود ساخته حق کے لیے دوسری قوموں سے لڑتے رہے اس جنگ میں انھیں ابتدائ کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔ مثلاً ۱۹۴۲ میں انھوں نے منیلا پر قبضہ کر لیا اسی طرح سنگاپور، ندر لینڈ اور رنگون ان کے قبضہ میں آ گیا ۔ مگر آخر کار انھیں زبردست شکست ہوئی ۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ اور جاپان ایک دوسرے کے حریف تھے ۔ جاپان کے پاس سادہ بم تھے ۔ امریکہ نے اس کے مقابلہ میں جوہری بم تیار کر لیا ۔ اب دونوں کے درمیان طاقت کا توازن ٹوٹ گیا ۔ جولائی ۱۹۴۵ء میں امریکہ نے جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرائے ۔ جاپان کی فوجی طاقت تہس نہس ہو گئی ۔ امریکہ کو جیت ہوئی اور جاپان کے لیے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہ رہی کہ وہ اپنے لیے اس حیثیت کو قبول کرلے جس کو ایک مبصر نے ذلت آمیز ہتھیار ڈالنے (Humiliating surrender) سے تعبیر کیا ہے (ٹائم ۱۴ اپریل ۱۹۸۷ ، صفحه ۱۵) اب جاپان نے حقیقت پسندی کا ثبوت دیا۔ ۴ اگست ۱۹۴۵ء کو شاہ جاپان ہیرو ہیٹو نے قوم کے نام ایک ریڈیائی پیغام نشر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے عظیم امن کی بنیاد رکھیں ۔ اور اس مقصد کے لیے ناقابل برداشت کو برداشت کریں اور اس چیز کو سہیں جو سہنے کے قابل نہیں :

We have resolved to pave the way for a grand peace for all the generations to come by enduring the unendurable and suffering what

اس فیصلے کے مطابق جاپان نے ۲ ستمبر ۱۹۴۵ کو اپنی شکست کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔ اس نے جاپان کے اوپر امریکہ کی بالا دستی تسلیم کرلی۔

جاپان کے لیے یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ جاپانی قوم اب تک ذاتی برتری کے احساس پر کھڑی ہوئی تھی ۔ اب اس کو حقیقت پسندی کے احساس پر کھڑا ہونا تھا۔ اب تک وہ بیرونی مخالف جذبات (Anti-foreign sentiments) میں جی رہی تھی اب اس کو خود احتسابی کے جذبات میں اپنے لیے زندگی کا راز دریافت کرنا تھا۔ اس وقت جاپان کی صورت حال یہ تھی کہ اس کی صنعتیں برباد ہو چکی تھیں ۔ " جنگی مجرم " جنرل میکار تھر کو معاہدہ کے خلاف جاپان کے اوپر مسلط کر دیا گیا تھا۔ کوریا، برما، سنگاپور، تائیوان اور دوسرے بیرونی مقبوضات کے علاوہ خود اپنے ملک کے کئی علاقے اس نے کھو دیے تھے مثلاً جزیرہ کرافوٹو، اوکی ناواو غیرہ ۔ ۱۹۴۶ میں "میکارتھر کانسٹی ٹیوشن " جاپان میں نافذ کیا گیا جو " بیرونی طاقت کی طرف سے ایک مفتوح قوم کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں " رکھنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔

یہ سب چیزیں بلاشبہ ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کے ہم معنی تھیں ۔ کے بہت سے لوگ اس کو برداشت نہ کر سکے اور اس غم میں انھوں نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ فوجی انتہا پسندوں نے اس بات کی کوشش کی کہ قوم کے نام شاہ جاپان کے ریڈیائی پیغام کو نشر نہ ہونے دیں ، اور جب وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو متعدد قوم پرستوں اور فوجی افسروں نے بے عزتی کے احساس کے تحت خود کشی کرلی :

There were a number of suicides among the military officers and nationalists who felt themselves dishonoured (10/86). جاپان نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے لیے نمبر۲ کی حیثیت کو قبول کر لیا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسری حیثیت پر راضی ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ طاقتور فریق سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنے لیے تعمیر نو کا وقفہ حاصل کرنا۔ اس پالیسی کے تحت جاپان نے یہ کیا کہ اس نے سیاسی اور معاشی اعتبار سے امریکہ کی بالا دستی کو تسلیم کر لیا۔

اور اپنی تمام تو جہات سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں موڑ دیں۔ یہ عمل جاری رہا۔ کہ تیس سال میں تاریخ بدل گئی۔ فوجی اعتبار سے زیر دست جاپان نے اقتصادی اعتبار سے بالا دست جاپان کی حیثیت حاصل کرلی۔ جاپان نے الیکٹرانکس اور دوسرے شعبوں میں اتنی اعلیٰ درجہ کی مصنوعات تیار کیں کہ خود امریکہ کے لوگ اپنے ملک کی چیزیں چھوڑ کر جاپان کی چیزیں کیوں کہ وہ کوالٹی میں امریکہ سے بہتر تھیں اور قیمت میں امریکہ سے کم ۔ حال نے امریکی مد برین کو سخت پریشان کر دیا ہے۔ امریکہ کے ایک سیاسی مدبر مسٹر پیٹی ولسن (Pete Wilson) نے کہا کہ جاپان کے الیکٹرانک سامان ٹوکیو کے سواہر ایک کو برباد کر رہے ہیں : The Japanese semiconductor Godzilla is now destroying everything but Tokyo. دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان امریکہ کا مقروض ہو گیا تھا۔ اب خود امریکہ جاپان کا مقروض بننے لگا۔ ۱۹۸۶ میں امریکہ کا جو سامان جاپان میں آیا ان کی قیمت ۲۶ بلین ڈالر تھی ۔ اس کے مقابلہہ میں جاپان کا سامان جو امریکہ گیا ان کی قیمت ۸۵ بلین ڈالر ہے۔ اس طرح امریکہ اور جاپان کے درمیان تجارتی توازن ٹوٹ گیا۔ ۱۹۸۶ میں امریکہ کے مقابل میں جاپان کا ٹریڈ سر پلس ۸۵ بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گیا ۔ امریکہ آج دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے اور جاپان دنیا کا سب سے بڑا مہا جن ملک (ٹائم ۱۳ اپریل ، ۲۶ اپریل ، ۱۹۸۷) اس صورتِ حال پر آج کل کثرت سے کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے جاپان نمبر ایک (JAPAN-Number One) یہ کتاب اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بنی ہوئی ہے۔ ۱۹۴۵ میں جاپان نے امریکہ کے مقابلہ میں نمبر ۲ کی حیثیت منظور کر لی تھی ۔ ۴۰ سال بعد خود امریکہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ جاپان دوبارہ نمبر ایک کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔

جاپانیوں نے اپنے ہاتھ سے " جاپان نمبر ۲ " کی کتاب لکھی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دوسرے لوگ ان کے بارہ میں ایسی کتاب لکھیں جس کا نام " جاپان نمبر ایک " ہو۔ دنیا کا قانون ہے ۔ یہاں جو لوگ ہار مان لیں وہی جیتے ہیں : یہاں جو لوگ پیچھے ہٹے پر راضی

ہو جائیں ۔ ہم ہی دوبارہ اگلی صف میں جگہ پاتے ہیں ۔ اس راز کو چودہ سو سال پہلے مسلمانوں نے " صلح حدیبیہ " کی صورت میں دریافت کیا تھا ، موجودہ زمانہ میں جاپانیوں نے اسی کو اپنے حالات کے لحاظ سے اپنی زندگی میں دہرایا ہے ۔

اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے ۔ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے ، یہاں ہر ایک دوسروں سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے ۔ یہی مقابلہ انسانی ترقیوں کا زینہ ہے ۔ تاریخ کی تمام ترقیاں اسی مقابلہ آرائی کے بطن سے ظاہر ہوئی ہیں ۔ امریکہ کی قیادت کی کوشش کے ذریعہ انسان جوہری طاقت تک پہنچا ۔ جاپان کے دوبارہ اٹھنے کی کوشش نے الیکٹرانک دور پیدا کر دیا ، وغیرہ ۔

اس دوڑ یا مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بار بار ایک قوم دوسری قوم سے پچھڑ جاتی ہے ۔ بار بار کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں پیچھے رہ جانے والا اگر ۔ شکایت اور احتجاج میں لگ جائے تو وہ صرف اپنا وقت ضائع کرے گا ۔ اس کے لیے واحد راستہ صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ دوسرے اس سے آگے بڑھ گئے اور وہ دوسرے سے پیچھے رہ گیا ۔

یہ اعتراف اس کی کوششوں کو صحیح رُخ پر لگا دے گا ۔ وہ اس کو موقع دے گا کہ آگے بڑھنے والے سے بے فائدہ ٹکراؤ کیے بغیر وہ اپنی تعمیر ثانی کا کام شروع کر دے ۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ آئے جب کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لے ۔

اپنے پیچھے ہونے کا احساس آدمی کو دوبارہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ جانے والا شخص اگر اپنے پیچھے ہونے کا اقرار نہ کرے تو وہ ہمیشہ پیچھے ہی پڑا رہے گا ، دوبارہ ۔ آگے بڑھنا اس کے لیے مقدر نہیں ۔

Printed page