Al-Risala · January 1987

ایک سفر

Al-Risala, January 1987, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

بنگلور جنوبی ہن میں واقع ہے اور وہ ہندوستان کا چھٹا سب سے بڑا شہر ہے ۔ وہ ۱۸۳۰ سے کرناٹک کا انتظامی مرکز ہے ۔ یہاں کا موسم ہمیشہ معتدل رہتا ہے ۔ شہر کی آبادی تقریباً ۳۰ لاکھ ہے جس میں دس فی صد سے کچھ کم مسلمان ہیں ۔

بنگلور کے لیے میرا پہلا سفر غالباً ۱۹۵۰ میں ہوا تھا۔ اس وقت میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں صاحب کے کارخانہ لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ د قائم شدہ ۱۹۴۴) سے وابستہ تھا۔ اور کارخانہ کی ضرورت کے تحت اعظم گڑھ سے بنگلور گیا تھا۔ بنگلور میں میرا قیام 'باسط سرائے' میں تھا ۔ یہ ایک نہایت صاف ستھرا مسافر خانہ تھا جو رعایتی کرایوں پر مسافروں کو ٹھہرنے کے لیے کمرہ دیا کرتا تھا ۔

اس سفر کا ایک واقعہ مجھے اب تک یاد ہے ۔ میرا ایک مزاج یہ ہے کہ میں ہر بات کو خود جاننا چاہتا ہوں۔ کسی بات کو میں اسی وقت مانتا ہوں جب کہ وہ میری ذاتی دریافت بن چکی ہو۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے میں نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں اور بہت زیادہ مصیبتیں برداشت کی ہیں ۔

اس لمبے سفر کے دوران میرے اندر ایک ایسا تجربہ کرنے کا خیال پیدا ہوا جس کو میں اپنے گھر پر رہ کر نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ یہ کہ میں اس بات کا اندازہ کروں کہ میں زیادہ سے زیادہ کتنی دیر تک بھوکا رہ سکتا ہوں ۔ چنانچہ سفر کی حالت میں میں نے اس پر عمل شروع کیا ۔ پر رکتی ۔ لوگ پلیٹ فارم پر اتر کر کھاتے پیتے ۔ میں نہایت اطمینان کے ساتھ انھیں دیکھتا مگر خود کچھ نہ کھاتا ۔ واضح ہو کہ میرا یہ فاقہ سراسر اختیاری تھا ۔ کیوں کہ اس وقت بھی میری جیب میں کافی روپیہ موجود تھا ۔

ایک وقت گزرا ، دوسرا وقت گزرا ، تیسرا وقت گزرا ۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی وقت گزرتے رہے ۔ اور میں نے کھانے کی قسم کی کوئی چیز اپنے منہ میں نہ ڈالی ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ مجھے بے حد کمزوری محسوس ہونے لگی ۔ ایک بڑے اسٹیشن پر گاڑی رکی ۔

کچھ لوگ ریلوے اسٹیشن کے کینٹین کی طرف جارہے تھے۔ میں بھی اس طرف چل پڑا۔ اور کینٹین کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کا صحیح علم مجھے اس وقت ہوا جب کہ میں بنگلور پہنچ چکا تھا۔

بنگلور میں کسی سڑک پر چل رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے مخاطب کیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ میرے لیے ایک اجنبی شخص تھا۔ میری حیرت کو دور کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو اس وقت دیکھا تھا جب کہ آپ فلاں ریلوے اسٹیشن کے کینٹین میں تھے ۔ میں بھی اسی ٹرین سے سفر کر رہا تھا اور اس وقت اس کینٹین میں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ آپ جب کینٹین کے اندر داخل ہوئے تو آپ ڈگمگا رہے تھے، اور بھری ہوئی کرسیوں پر لوگوں کے اوپر بیٹھ رہے تھے۔ آخر کار ایک شخص نے آپ کو پکڑ کر ایک خالی کرسی پر بٹھایا ۔ اس کے بعد آپ کی میز پر کھانا رکھا گیا تو آپ نے کچھ کھایا اور کچھ چھوڑا اور پھر کوئی بڑا نوٹ دے کر واپس جانے لگے۔ اس وقت کینٹین والے نے روک کر آپ کو بقیہ پیسے ادا کیے۔

یہ قصہ بتانے کے بعد مذکورہ آدمی مسکرایا۔ اس نے کہا کہ "ہم لوگ اس وقت یہ سمجھے کہ آپ پئے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے ہوش میں نہیں ہیں" میں نے اس آدمی سے کچھ نہیں کہا مگر میں جانتا تھا کہ اصل وجہ کیا ہے۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ مسلسل فاقہ کی وجہ سے مجھے چکر آ گیا تھا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا بنگلور کے لیے میرا دوسرا سفر فروری ۱۹۷۰ء میں ہوا۔ اس وقت مجھے "دینی تعلیمی سمینار" میں صدر کی حیثیت سے بلایا گیا تھا ۔ اس موقع پر بنگلور میں میری کئی تقریریں ہوئی تھیں۔ اس سفر کی تفصیلی روداد اسی زمانہ میں ہفت روزہ (الجمعیتہ دہلی) ۸ مارچ ، ۲۰ مارچ ، ۲۷ مارچ ۱۹۷۰ء میں شائع ہوئی تھی ۔ ایک تقریر میں میں نے کہا تھا:

جنوبی ہند کا علاقہ ابھی تک اس فرقہ وارانہ تشدد سے محفوظ ہے جو شمالی ہند کے علاقہ میں عام طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ قدرت نے جنوبی ہند کے رہنے والوں کے لیے ایک امکان مقدر کیا تھا جس کو انھوں نے اب تک استعمال نہیں کیا۔ مجھے ایسا محسوس

ہوتا ہے کہ جس طرح ، ۱۹۴۷ سے پہلے آزادی کی لڑائی میں قائدانہ رول شمالی ہند کے لیے مقدر تھا اسی طرح ، ۱۹۴۷ کے بعد ملک کی نئی تعمیر کے سلسلہ میں قائدانہ رول جنوبی ہند والوں کے لیے کیوں کہ اپنے حقیقت پسندانہ مزاج اور غیر اختلافی روایات کی بنا پر وہی اس طرح کے تعمیری کام کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ جس طرح اس علاقہ کے غیر مسلم اپنی مخصوص حیثیت کا شعور نہیں رکھتے اسی طرح اس علاقہ کے مسلمان بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں آپ کو جو مواقع حاصل ہیں ان سے فائدہ اٹھا کر آپ پورے ملک کے لیے روشنی کا مینار بن سکتے ہیں۔ جنوبی ہند کے مسلمانوں کو وہ چیز حاصل ہے جس سے شمالی ہند کے مسلمان اپنے کو محروم محسوس کرتے ہیں۔ اور وہ احساسِ تحفظ (Sense of security) ہے۔ یہ چیز جو یہاں آپ کو حاصل ہے اس کو جانیے اور اس کو اس طرح آپ پورے ملک کے مسلمانوں کو نیا حوصلہ دینے کا ذریعہ بن (الجمعیتہ ویکلی ۶ مارچ ۱۹۷۰)

بنگلور کے لیے میرا تیسرا سفر ستمبر ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ سفر حلقہ الرسالہ کی دعوت پر اس سفر کی رپورٹ ماہنامہ الرسالہ مارچ ۱۹۸۴ میں شائع ہو چکی ہے۔ میرا چوتھا سفر عالمی مذہبی کونسل (Council for the World's Religions) کی دعوت پر ہوا۔ یہ مختلف مذاہب کی ایک بین اقوامی کونسل ہے جس کا صدر دفتر نیویارک (امریکہ) میں ہے۔ اس کے تحت بنگلور میں ایک کانفرنس ہوئی ۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے ۔ اس کانفرنس کا موضوعِ بحث یہ تھا :

Printed page