Al-Risala · June 1987

اسلام دورِ جدید میں

Al-Risala, June 1987, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

امیر شکیب ارسلان (۱۸۶۹ - ۱۹۴۶) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے : لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے اور ان کے سوا دوسرے کیوں آگے ہو گئے) یہ کتاب ۵۰ سال پہلے چھپی تھی۔ حال میں میں نے ایک عربی مجلہ رابطۃ العالم الاسلامی (اپریل ۱۹۸۵) میں ایک اس مضمون کا عنوان دوبارہ حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : لماذا تأخرنا وتقدم غيرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان پچھلی نصف صدی سے ایک سوال سے دوچار اور یہ سوال ہے کہ ہم جدید دور میں دوسری قوموں سے پیچھے کیوں ہو گئے ، اور دوسری قومیں ہم سے آگے کیوں نکل گئیں۔ مزید عجیب بات یہ ہے کہ اسی نصف صدی کے اندر جاپان ایٹمی بربادی کے کھنڈر سے ابھرا اور ترقی کی انتہا پر پہونچ گیا۔ چنانچہ حال ہی میں امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے جاپان نمبر ایک (JAPAN: Number One)۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ انجام کسی موہوم سبب کی بنا پر نہیں ہے ، بلکہ معلوم خدائی قانون کی بنا پر ہے ۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں ترقی اور استحکام نصیب ہو ، اور جو گروہ وہ نفع بخشی کی صلاحیت کھو دے اس کو ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیا جائے ۔ قدیم زمانہ کے مسلمان اہلِ عالم کے لیے نفع بخش بنے ہوئے تھے اس لیے قدیم زمانہ میں انھیں عظمت حاصل ہوئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بے نفع ہو گئے ۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں انھیں کوئی عظمت حاصل نہ ہوسکی ۔

عروج و زوال کا یہ اصول قرآن کی حسب ذیل آیت میں واضح طور پر موجود ہے :

انزل من السماء ماء فسالت او دية بقدر بها اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی مقدار فاحتمل السيل زبد اربياً ومما يوقدون کے موافق بہہ نکلے ۔ پھر سیلاب نے ابھرتے عليه في النار ابتغاء حلية اومتاع زبد جھاگ کو اٹھا لیا۔ اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں مثله كذلك يضرب الله الحق و میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب الباطل فاما الزبد فيذهب جفاء بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ واما ماينفع الناس فيمكث في الارض كذلك حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ يضرب الله الامثال ۔ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع (الرعد ١٧) پہنچنے والی ہے زمین میں ٹھہر جاتی ہے اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے ۔ وہ قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں بقار اور استحکام ملے ۔ اور جو گروہ وہ اپنی نفع بخشی کھو دے وہ یہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے ۔

اس عالمی قانون کو ایک طرف کتاب الہیٰ میں لفظی طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف مادی دنیا میں اس کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ سورہ رعد کی مذکورہ آیت میں اس نوعیت کی دو مثالیں دی ایک مثال بارش کی ہے ۔ بارش ہوتی ہے اور اس سے نالے بھرتے ہیں تو جھاگ اوپر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مگر جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ جھاگ اُڑ ہوا میں اڑ جاتا ہے اور جو چیز اس میں نفع بخش ہے وہ باقی رہتی ہے ، یعنی پانی ۔

دوسری مثال دھات کی ہے ۔ دھات کو تپانے کے لیے جب کٹھالی میں پگھلاتے ہیں تو اس میں ابتداً اس کا میل کچیل اوپر دکھائی دینے لگتا ہے ۔ مگر بہت جلد یہ وقتی منظر ختم ہو جاتا ہے اور جو اصل قیمتی دھات ہے وہ اپنی جگہ باقی رہ جاتی ہے ۔

Printed page