دورِ اول کی مثال
Al-Risala, June 1987, pp. 26–34
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ قدیم میں اسلام کو غیر معمولی عظمت ملی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام کو آباد دنیا کے قائد کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
کو یہ عظیم حیثیت اتفاقا نہیں ملی اور نہ مطالبات کے ذریعہ اس کو یہ حیثیت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ قدرت کا وہی ابدی قانون تھا جس کا اوپر ذکر ہوا ۔ یعنی نفع بخشی اور فیض رسانی ۔ دنیا کو اسلام سے جو کچھ ملا، اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسلام نے دنیا کو توہمات (Superstitions) کے دور سے نکالا اور اس کو پہلی بار سائنس کے دور میں داخل کیا۔ آج کی دنیا جس چیز کو اپنے لیے سب سے بڑی نعمت سمجھتی ہے وہ سائنس ہے۔ اور تمام محققین اور منصف مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دراصل اسلام ہے جس نے سائنس کے دور کو پیدا کیا۔ یہاں ہم صرف ایک مغربی مصنف مسٹر بر یفالٹ کا قول نقل کریں گے ۔ وہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر چہ یورپی ترقی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کی فعال اثر انگیزی دیکھی نہ جاسکتی ہو۔ سب سے زیادہ واضح اس قوت کی پیدائش میں ہے جو جدید دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ سائنس اور سائنسی اسپرٹ ۔ ہماری سائنس پر عربوں کا قرض انقلابی نظریات کی دریافت کی حد تک نہیں ہے ۔ سائنس اس سے کہیں زیادہ عرب تہذیب کی احسان مند ہے ، وہ خود اپنے وجود کے لیے اس کی مرہون منت ہے :
For although there is not a single aspect of European growth in which the decisive influence of Islamic culture is not traceable, nowhere is it so clear and momentous as in the genesis of that power which consti- tutes the permanent distinctive force of the modern world, and the supreme source of its victory—natural science and the scientific spirit. The debt of our science to that of the Arabs does not consist in startl- ing discoveries of revolutionary theories; science owes a great deal more to Arab culture, it owes its existence. Briffault, Making of Humanity, p. 190 یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم زمانہ میں تمام دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ بے شمار دیوتاؤں کو پوجتی تھیں ۔ ہندوستانی روایات کے مطابق ان کی تعداد ۳۳ کروڑ تک پہنچ گئی تھی انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں تعدد الہٰ کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ مذاہب میں عمومی طور پر یہ بات پائی گئی ہے کہ فطرت کی طاقتوں اور فطرت کے مظاہر کو خدا مان لیا جاتا ہے ۔ نہایت آسانی کے ساتھ ان کو تین قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے ــــ آسمانی ، فضائی اور زمینی ۔ یہی تقسیم بجائے خود ہند آریائی مذہب میں تسلیم کی گئی ہے۔ چنانچہ سورج ان کے یہاں آسمانی خدا ہے ۔ اندر فضائی خدا ہے جو
طوفان، بارش اور جنگ لانے والا ہے۔ اگنی (آگ دیوتا) زمینی واقعات کا سبب ہے : اسلام سے پہلے انسان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر چیز کو پوجتا تھا۔ وہ سورج اور چاند سے لے کر دریا اور پہاڑ تک ہر چیز کے آگے جھکتا تھا۔ درختوں میں اس نے درخت خدا (Plant deities) اور جانوروں میں اس نے جانور خدا (Animal deities) بنا رکھے تھے۔ دنیا کی تمام چیزیں معبود بنی ہوئی تھیں ۔ اور انسان ان کا عبادت گزار ۔ اس طرح انسان نے اپنی عظمت کھو دی تھی ۔ اسلام کے ذریعہ تاریخ میں جو انقلاب آیا اس نے پہلی بار انسان کو اس کی عظمت عطا کی ۔
شرک (بالفاظ دیگر مظاہر فطرت کی پرستش کا رواج قدیم زمانہ میں سائنسی ترقیوں میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ انسان فطرت کے مظاہر کو معبود سمجھ کر انھیں تقدس کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس لیے اس کے اندر یہ جذبہ ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ ان مظاہر کی تحقیق کرے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے ۔ استعمال کرے ۔ فطرت کے مظاہر جب پرستش کا موضوع بنے ہوئے ہوں تو اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع نہیں بن سکتے ۔ یہ بنیادی سبب تھا جو طبیعی سائنس کا دور شروع ہونے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا ۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار اس سبب کو ختم کیا، اس لیے اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو اکہ طبیعی سا ئنس کا دور شروع ہوا اور بالآخر اس حد کو پہونچا جس حد کو وہ آج پہونچا ہے ۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ یہ دراصل توحید (Monotheism) کا عقیدہ ہے جس نے جدید سائنس اور صنعتی دور کو پیدا کیا۔ کیوں کہ توحید کے انقلاب سے پہلے دنیا میں عملی طور پر شرک کا غلبہ شرک کے عقیدہ کے تحت آدمی فطرت (Nature) کو پوجنے کی چیز سمجھے ہوئے تھا۔ پھر وہ اس کو تحقیق و تسخیر کی چیز کیسے سمجھتا۔ جب کہ فطرت کو تحقیق اور تسخیر کی چیز سمجھنے کے بعد ہی اس علم کا آغاز ہوتا ہے جس کو طبیعی سائنس کہتے ہیں۔
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی نشانیوں (مظاہر فطرت) پر غور کرو۔ قرآن میں اس قسم کی سات سو آیتیں شمار کی گئی ہیں جن میں مظاہر فطرت پر غور کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر بالواسطہ آیتوں بھی شامل کیا جائے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔ یہ معلوم انسانی تاریخ میں بالکل نئی آواز تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مظاہر فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہر فطرت کو پوجنے کی چیز ہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہر فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت
اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کے اندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ اس نے اولاً عرب کے دل و دماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا ۔ نے عرب کے بت خانے ختم کردیے ایرانی اور رومی شہنشاہیتیں اس زمانہ میں شرک کی سب سے بڑی سرپرست تھیں، دونوں کو اسلام نے مغلوب کر لیا اور توحید کا غلبہ تقریباً پوری آباد دنیا میں قائم کر دیا۔ اسلام کی اس نفع بخشی کو تمام منصف مزاج مورخین نے تسلیم کیا ہے ۔ یہاں ہم انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا (۱۹۸۱ء) کا ایک پیراگراف نقل کرتے ہیں :
Islamic culture is the most relevant to European science. There was active cultural contact between Arabic-speaking lands and Latin Europe. Conquests by the Prophet's followers began in the 7th century, and, by the 10th, Arabic was the literate language of nations stretching from Persia to Spain. Arabic conquerors generally brought peace and prosperity to the countries they settled (16/368). اسلامی تہذیب کا تعلق یورپی سائنس سے بہت زیادہ ہے ۔ عربی زبان بولنے والے علاقوں اور لاطینی یورپ کے درمیان نہایت گہرا ربط قائم تھا۔ پیغمبر کے پیروؤں کی فتوحات ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں ۔ اور دسویں صدی تک یہ حال ہو گیا کہ عربی زبان ایران سے لے کر اسپین تک کی تمام قوموں کی علمی زبان بن گئی۔ عرب فاتحین جہاں گئے وہاں عام طور پر وہ امن اور خوش حالی
قرآن کے ذریعہ عالمی سطح پر جو فکری انقلاب آیا اس نے تاریخ میں پہلی بار نئی قسم کی سرگرمیاں
شروع کر دیں۔ انسان نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جو پو جنے کی چیز نہیں بلکہ برتنے کی چیز تھی، جس کا وہ تابع نہ تھا بلکہ وہ اس کے لیے مسخر کی گئی تھی کہ وہ اس کو اپنا تابع بنائے۔ اسلام کے عظیم الشان اعتقادی انقلاب کے ساتھ ایک عظیم الشان علمی اور ذہنی انقلاب بھی شروع اسلام کے ماننے والوں نے جب ایک قادر مطلق خدا کو پا لیا تو اسی کے ساتھ انھوں نے دوسری تمام چیزوں کو بھی پالیا۔ انھوں نے ہر میدان میں ترقیاں شروع کر دیں۔ ان سے دنیا کو وہ چیزیں ملنے لگیں جو ابھی تک اس کو نہیں ملی تھیں۔ چنانچہ اس دور میں پیدا ہونے والی جتنی بھی قابلِ ذکر ترقیاں ہیں ان کا مطالعہ کیجیے تو ہر ترقی کے پیچھے کسی نہ کسی مسلمان کا ہاتھ کام کرتا نظر آئے گا۔ چند تاریخی حوالے توحید اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ توحید کو اختیار کرنے کی وجہ سے دورِ اول کے مسلمانوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ دنیا والوں کے درمیان ایک ایسی برادری بن کر ابھریں جن کا ہر طرف استقبال کیا جائے اور جن کے ذریعہ سے دنیا والوں کو ہر قسم کا نفع حاصل ہو۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں چند مثالیں درج کریں گے۔
١- اسلامی انقلاب کے بعد کئی سوسال ایسے گزرے ہیں جب مسلمان ساری دنیا میں علم طب کے امام تھے ۔ دنیا کے بڑے بڑے لوگ مسلم اطبا سے رجوع کرتے تھے اور طب میں مسلمانوں کی تصنیفات ہر جگہ فن طب کا ماخذ بنی ہوئی تھیں ۔ یورپ کا سب سے پہلا میڈیکل کالج سدلرنو (اٹلی) میں قائم ہوا۔ یہ میڈیکل کالج گیارھویں صدی عیسوی میں قائم ہوا تھا۔ بڑی حد تک ان طبی کتابوں پر مشتمل تھا جو عربی زبان سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئی تھیں۔ پیڈیا برطانیکا (۱۹۸۲) نے اس کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ یورپ میں بارہویں صدی نے عربی سے لاطینی میں کتابوں کے ترجمہ کا ایک ہیروانہ پروگرام دیکھا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ یورپ کا ابتدائی طبی اسکول جو سدلرنو میں قائم ہوا اور دوسرا جو مانٹ پیلییر میں قائم ہوا۔ دونوں عربی اور یہودی ماخذوں سے بہت قریب تھے: The, 12th century saw a heroic program of translation of works from Arabic to Latin. It is significant that the earliest medical school in Europe was at Salerno and that it was later rivalled by Montpellier, also close to Arabic and Jewish sources (16/368).
پروفیسر ہٹی نے اس سلسلہ میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الزھراوی کی کتاب (التصریف لمن انجز عن التالیف) کا سرجری سے متعلق حصہ گیرار ڈ آف کریمونا نے عربی سے لاطینی میں ترجمہ کیا ۔ یورپ میں اس کے مختلف ایڈیشن چھپے ۔ وینس میں ۱۴۹۷ء میں ، بیسل میں ۱۵۴۱ میں ، آکسفورڈ میں ۱۷۷۸ء میں ۔ یہ ترجمہ صدیوں تک سلرنو اور مانٹ پیلیر اور دوسرے یورپی طبی اداروں میں نصاب تعلیم کا جزو بنارہا :
The surgical part (of Al-Zahrawi) was translated into Latin by Gerard of Cremona and various editions were published at Venice in 1497, at Basel in 1541 and at Oxford in 1778. It held its place for centuries as the manual of surgery in Salerno, Montpellier and other early schools P.K. Hitti, History of the Arabs, 1979, p. 577 آج آپ جدید طرز کے کسی اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز آپ کو مغربی تہذیب کا عطیہ نظر آئے گی ۔ مگر چند سو سال پہلے یہ حال تھا کہ آپ وقت کے کسی معیاری اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز اسلامی تہذیب کا عطیہ نظر آتی تھی ۔ یہ ہے وہ بنیادی فرق جو مسلمانوں کے ماضی اور ان کے حال میں پیدا ہو گیا ہے ۔ جغرافیہ ایک بے حد اہم سائنس ہے ۔ اس کا تعلق زندگی کے بے شمار شعبوں سے ہے۔ اول کے مسلمانوں نے اس فن میں بھی کمال پیدا کیا ۔ مثال کے طور پر الادریسی اپنے زمانہ میں دنیا کا سب سے بڑا جغرافی عالم تھا ۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں : The most distinguished geographer of the Middle Ages. یعنی قرون وسطیٰ کا سب سے زیادہ ممتاز جغرافیہ داں ۔ الادریسی کے زمانہ میں راجہ دوم سسلی کا بادشاہ اس کو ایک جغرافی نقشہ کی ضرورت ہوئی تو اس کو یہ نقشہ جس نے بنا کر دیا وہ یہی الادریسی تھا ۔ فلپ ہٹی نے مزید لکھا ہے :
The most brilliant geographical author and cartographer of the twelfth century, indeed of all medieval time, was al-Idrisi, a descendant of a royal Spanish Arab family who got his education in Spain. P.K. Hitti, History of the Arabs, 1979, p. 568
بارھویں صدی عیسوی کا سب سے زیادہ با کمال جغرافی مصنف اور نقشہ نویس، بلکہ پورے قرون وسطی کا سب سے بڑا جغرافی عالم بلا شبہ الادریسی تھا۔ وہ اسپین کے ایک عرب خاندان میں پیدا ہوا، اور اس کی تعلیم اسپین میں ہوئی۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ الادریسی نے ۱۱۵۴ء میں سسلی کے مسیحی حکمراں (راجردوم) کے لیے ایک عالمی نقشہ بنایا۔ اس میں ایشیائی علاقوں کی زیادہ بہتر معلومات دی گئی تھیں جو اس وقت تک ابھی انسان کو حاصل نہ ہوئی تھیں: Al-Idrisi constructed a world map in AD 1154 for the Christian king Roger of Sicily, showing better information on Asian areas than had been available theretofore (11/472). موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں مغرب کے ماہرین (Experts) بھرے ہوئے ہیں۔ مگر ایک وقت تھا جب کہ مسلمان ہر شعبہ کے ماہرین دنیا کو فراہم کر رہے تھے ۔ آج مسلمان دنیا والوں سے لے رہے ہیں، مگر چند سو سال پہلے یہ حال تھا کہ مسلمان دنیا کو دینے والے بنے ہوئے تھے۔ کیسا عجیب فرق ہے ماضی میں اور حال میں۔
۳- آج مسلم ملکوں کے نوٹ اور سکے مغربی ممالک تیار کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسلم ملک خود اپنا سکہ یا نوٹ تیار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی وہ مغربی ٹکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ مگر ایک وقت تھا کہ یہ مقام خود مسلمانوں کو عالمی سطح پر حاصل تھا۔
پروفیسر ایچ. ڈبلیو. سی. ڈیوس (H.W.C. Davis) نے اپنی کتاب قرون وسطیٰ کا انگلستان (Medieval England) میں انگلستان کے ایک قدیم سنہرے سکہ کی تصویر اس کے دونوں رخ سے چھاپی ہے۔ یہ سکہ برٹش میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ تصویر میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ سکہ کے ایک طرف عربی رسم الخط میں کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور دوسری طرف اس وقت کے انگلستان کے بادشاہ او فاریکس (Offa Rex) کا نام کندہ ہے۔ اسی کے ساتھ سکہ پر بغداد کے مسلمان سکےگر کا نام بھی درج ہے۔ سکہ کی تصویر کے نیچے پروفیسر ڈیوس نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: Anglo-Saxon gold coin imitating an Arab Dinar of the year 774. یعنی قدیم انگلستان کا سونے کا سکہ جو ۷۷۴ء میں ڈھالا گیا اور جس میں ایک عرب دینار کی نقل کی
یہ ایک تاریخی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان صنعتی ترقی کے اس مقام پر تھے کہ انگلستان کے نامور بادشاہ ادفار کس (وفات ۹۷۶ء) کو ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے مسلم ماہرین کو بلائے ۔ اس وقت انگلستان میں جو سکہ ڈھالا گیا وہ مسلم ممالک کے سکہ (دینار) کی نقل تھا۔ حتی کہ مسلم سکوں کی طرح اس پر کلمہ شہادت بھی عربی رسم الخط میں لکھا ہو ا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہزار برس پہلے کے دور میں اسلامی تہذیب ساری دنیا میں کس قدر غالب حیثیت رکھتی تھی ۔
واسکوڈی گاما (۱۵۲۴ء۔ ۱۴۶۹ء) ایک پرتگالی ملاح تھا ۔ اس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے ۱۴۹۸ میں ہندوستان اور یورپ کے درمیان سمندری راستہ دریافت کیا جو کیپ آف گڈ ہوپ ہو کر جاتا تھا۔ مگر یہ عظیم کامیابی اس کو ایک عرب ملاح احمد بن ماجد کے ذریعہ حاصل ہوئی اس کی بابت انسائیکلو پیڈیا برٹائنیکا (۱۹۸۲) سے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :
Vasco da Gama's Arab pilot, Ahmad ibn Majid (7/862). یعنی واسکوڈی گاما کا عرب جہاز راں احمد بن ماجد ۔ برٹائنیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ واسکوڈی گاما جب پرتگال سے چل کر افریقہ پہنچا تو وہاں موز نلیق کے سلطان نے واسکوڈی گاما کو دو مسلم ملاح دیئے ان میں سے ایک اس وقت بھاگ گیا جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ پرتگالی عیسٰی مذہب کے ہیں : The Sultan of Mozambique supplied da Gama two (Muslim) pilots. one of whom deserted when he discovered that the Portuguese were جس جہازراں نے واسکوڈی گاما کا ساتھ دیا اس کا نام احمد بن ماجد تھا ۔ وہ نہایت ماہر تھا اور سمندری جہاز رانی سے اتنی واقفیت رکھتا تھا کہ اس پر اس نے ایک اہم کتاب لکھی تھی جو مذکورہ سفر کے وقت اس کے ساتھ تھی ۔
پروفیسر فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ بحری جہاز رانی کے موضوع پر ایک خصوصی کتاب احمد بن ماجد کی ہے جس میں بحری جہاز رانی کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۴۹۷ء میں یہی احمد بن ماجد تھا جس نے افریقہ سے ہندوستان تک واسکوڈی گاما کی رہنمائی کی :
پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں جو دریافتیں ہوئیں ان میں سے ایک وہ دریافت ہے جس کو نئی دنیا (امریکہ) کی دریافت کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم دریافت عام طور پر کرسٹوفر کولمبس (۱۵۰۶-۱۴۵۱) کے نام کے ساتھ موسوم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اٹلی کا کولمبس ہی وہ شخص ہے جس نے اس مہم کی رہنمائی کی۔ مگر اس کو یہ تصور دینے والے مسلمان تھے کہ وہ اٹلانٹک سمندر میں اپنی کشتی اس امید میں داخل کرے کہ اس ناپیدا کنار سمندر کے دوسری طرف اس کو خشکی ملے گی جہاں وہ اتر سکے۔ پروفیسر ہٹی نے لکھا ہے کہ عربوں نے زمین کے گول ہونے کے قدیم نظریہ کو زندہ رکھا جس کے بغیر نئی دنیا کی دریافت ممکن نہ ہوتی۔ اس نظریہ کا ایک مبلغ ابو عبیدہ مسلم البلنسی تھا جس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا نصف اول ہے۔ زمین کے گول ہونے کا نظریہ عربی سے لاطینی میں ترجمہ ہو کر ۱۴۱۰ء میں یورپ میں شائع ہوا۔ اس کو پڑھ کر کولمبس نے اس نظریہ سے واقفیت حاصل کی۔ اس سے اُس نے سمجھا کہ زمین ایک ناشپاتی کی مانند ہے اور یہ کہ زمین کے مغربی نصف کرہ میں بھی ایسا ہی ابھار موجود ہے جیسا کہ اس کے مشرقی نصف کرہ میں نظر آتا ہے۔ پروفیسر ہٹی کے الفاظ یہ ہیں :