Al-Risala · June 1987

Alvin Toffler, Future Shock, New York, 1971

Al-Risala, June 1987, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر امت مسلمہ محفوظ آسمانی کتاب کی حامل ہے ۔ اس نسبت سے وہ خود بھی ایک محفوظ امت ہے۔ اس محفوظیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں مواقع بظاہر ختم ہو جائیں وہاں بھی اس کے لیے ایک نیا موقع موجود رہتا ہے۔ خدا نے انسانیت کے لیے عام طور پر اور امت مسلمہ کے لیے خاص طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ڈس ایڈوانٹیج کے ساتھ اس کے لیے ایک ایڈوانٹیج ہمیشہ موجود رہے ۔ یہی وہ ابدی حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے :

فَإِنَّ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ پر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ العُسْرِ يُسْرًا (الانشراح) مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت موجودہ زمانہ میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے ۔ سائنس اپنی ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر ایک ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار ہے جس کا خود اس کے پاس کوئی حل نہیں ۔ نہ سائنسی طبقہ سے باہر کوئی گروہ ایسا موجود ہے جو اس مسئلے کا حل اسے دے سکے ۔ مسلمان ہیں جو محفوظ آسمانی کتاب کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں ہیں کہ سائنسی طبقہ کو نیز پوری انسانیت کو اس مسئلے کے حل کا تحفہ پیش کر سکیں ۔

اس معاملہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے یہاں میں انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا(۱۹۸۴) کا ایک پیرا گراف نقل کروں گا ۔ اس کے تاریخ سائنس (History of Science) کے مقالہ نگار نے اس سلسلہ میں لکھا ہے :

Untill recently, the history of science was a story of success. The triumphs of science represented a cumulative process of increasing knowledge and a sequence of victories over ignorance and super- stition; and from science flowed a stream of inventions for the improvement of human life. The recent realization of deep moral problems within science, of external forces and constraints on its development, and of dangers in uncontrolled technological change has challenged historians to a critical reassessment of this earlier simple ابھی حالی تک سائنس کی تاریخ کامیابیوں کی کہانی تھی۔ سائنس کی فتوحات میں یہ شمار ہوتا تھا کہ اس نے انسانی معلومات میں اضافہ کیا ہے اور جہالت اور تو ہم پرستی پر فتح حاصل کی ہے۔ سائنس سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا ہے جس نے انسانی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دو چار ہے۔ بے قید ٹیکنالوجی کے خطرات کی وجہ سے اس کی ترقی پر روک لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ یہ صورتِ حال مو رخین کو چیلنج کر رہی ہے کہ وہ ان خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں جو ابتداء میں سادہ طور پر تسلیم کر لیے گیے تھے۔

جدید دنیا کا یہی وہ خلا ہے جہاں مسلمان اپنے نفع بخش ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں ، اور اس طرح دوبارہ اپنے لیے سرفرازی کا وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو انھوں نے دنیا میں کھو دیا ہے۔ سائنس کی ابتدائی فتوحات نے بہت سے لوگوں کو اتنا زیادہ متاثر کیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں سائنس کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ سائنس ہماری تمام ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔ سلسلہ میں بے شمار کتا بیں لکھی گئیں ۔ جولین ہکسلے (۱۹۷۵-۱۸۸۷) نے اس نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا ۔ انسان تنہا کھڑا ہو تا ہے : Man Stands Alone اس کے جواب میں کریں مارلین (۱۹۲۶-۱۸۸۳) نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام با معنی طور پر یہ تھا ۔ انسان تنہا کھڑا نہیں ہو سکتا :

Printed page