Man Does Not Stand Alone
Al-Risala, June 1987, pp. 36–39
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی کے نصف اول تک انسان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس کی سائنس اس کے لیے کافی رسالہ جون ۱۹۷۰ء
مگر اسی صدی کے نصف ثانی میں انسان کو اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑا ۔ اس سے پہلے جو بات کر لیسی مارلین جیسے چند مستثنیٰ افراد کہتے تھے ، اب وہ عام طور پر لوگوں کی زبانوں سے کہی جارہی یہی وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مذکورہ اقتباس میں کیا گیا
جدید انسان کی ذہنی حالت کیا ہے ، اس کا ایک نمونہ لارڈ بر ٹر ینڈ رسل ( ۱۹۷۰ - ۱۸۷۲) وہ انگلینڈ کے ایک دولت مند خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی ۔ کو نوبل انعام ملا جو آج کی دنیا میں سب سے بڑا علمی اعزاز سمجھا جاتا ہے ۔ اس نے مذہب کو چھوڑ دیا اور مادی سائنس میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ مگر بھر پور عمر گزرنے کے باوجود اس کو وہ چیز نہیں ملی جس کو سکون کہا جاتا ہے ۔ برٹینڈ رسل کی طویل خود نوشت سوانح عمری کے کے آخر میں ہم اس کے ہاتھ سے یہ الفاظ لکھے ہوئے پاتے ہیں :
The inner failure has made my men- tal life a perpetual battle (p. 727). اندرونی ناکامی نے میری ذہنی زندگی کو ایک مستقل جنگ میں مبتلا رکھا ۔ گلیلیو اور سائنس آپ سائنس کی تاریخ کی کسی کتاب میں گلیلیو (۱۶۴۲ - ۱۵۶۴) کا باب کھول کر دیکھیں تو وہاں آپ کو اس قسم کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے :
His use of observation, experiment and mathe- matics helped lay foundation of modern science. گلیلیو نے مشاہدہ اور تجربہ اور ریاضی کو جس طرح استعمال کیا اس نے جدید سائنس کی بنیاد رکھنے میں مدد دی ۔
گلیلیو کا خاص کارنامہ کیا ہے۔ گلیلیو کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اس نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو ، جو ابعاد (Dimensions) اور وزن (Weight) پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے ، ان کو ان ثانوی صفات سے الگ کر دیا جو شکل ، رنگ اور بو وغیرہ سے
تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ ایک لفظ میں یہ کہ اس نے کمیت کو کیفیت سے جدا کر دیا۔ گلیلیو کے اس فعل نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آدمی میٹر کو استعمال کرسکے۔ بغیر اس کے کہ اس نے میٹر کے بارہ میں ضروری معلومات حاصل کی ہوں ۔ اس طرح فطرت کو کام میں لانے کا دروازہ ٹکنالوجی کو ترقی ہوئی اور بے شمار نئی نئی چیزیں بننے لگیں جو انسان کے لیے مفید ثابت ہوئیں مگر زیادہ مدت نہیں گزری کہ انسان کا عدم اطمینان ظاہر ہو گیا ۔ معلوم ہوا کہ اس معاملے میں سائنس داں یا انجینئر کا معاملہ اس جاہل بڑھئی سے کچھ بھی مختلف نہیں جو لکڑی کو کاٹ کر فرنیچر بناتا ہے، اگرچہ وہ لکڑی کی کیمسٹری کے بارہ میں کچھ نہیں جانتا۔
بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ گلیلیو نے چیزوں کے جس ظاہری پہلو کو الگ کرکے اس کو سائنس کے مطالعہ کا موضوع بنایا تھا، اس کے بارہ میں بھی انسان کی معلومات حد درجہ ناقص ہیں۔ نہ صرف پھول کی ’’خوشبو‘‘ سے بے خبر ہے، بلکہ پھول کی ’’کیمسٹری‘‘ بھی بہت کم اس کے علم میں ایک چیز جس کو متمدن دنیا کا انسان تین سو سال تک علم سمجھتا رہا وہ بھی آخر کار بے علمی برٹرینڈ رسل نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے :
فلسفہ کا قائل تھا جس نے مجھے اس قابل بنائے رکھا کہ میں خارجی دنیا میں حسن کو دیکھ سکوں ۔ اور ستاروں نے مجھے اس وقت تسکین دی جب کہ انسانی دنیا آسائش سے خالی نظر آتی تھی ۔ میرے فلسفہ میں تبدیلی نے اس قسم کی تسکین کو مجھ سے چھین لیا ۔ خودی نے مجھ کو بالکل مضمحل کر دیا ۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ میں نے طبیعیات کی ان تشریحوں کو پڑھا جو ایڈنگٹن جیسے لوگوں نے کی مجھ کو نظر آیا کہ جس چیز کو ہم نے فطرت کے قوانین سمجھا تھا وہ محض الفاظ کا معاملہ تھا ۔ طبیعیات حقیقت کسی خارجی دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ میں اس کو پوری طرح مانتا ہوں ۔ مگر یہ میرے لیے ایک کا بوس بن گیا جو میرا پیچھا کر رہا تھا ۔ وہ میرے تخیلات پر برابر حملہ کر رہا تھا ۔