روحانی تسکین
Al-Risala, June 1987, pp. 39–44
By Maulana Wahiduddin Khan
جو سائنس خارجی دنیا کا علم دینے سے عاجز تھی وہ اس باطنی دنیا کا علم کیا دیتی جس کے بارہ میں اس نے گیلیلیو ہی کے زمانہ میں عملی طور پر اپنی نارسائی کا اعلان کر دیا تھا ۔ آدمی کو وہ جھوٹا اطمینان بھی نہ دے سکی جو مادی سطح پر بظاہر ہر ایک انسان کو حاصل ہوتا ہے ۔ ذہنی اور روحانی سطح کا اطمینان تو نہ اس کے بس میں تھا اور نہ کبھی اس نے اس کو دینے کا دعویٰ کیا ۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : الا بذكر الله تطمئن القلوب (سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے) یہی بات بائبل میں ان لفظوں میں آئی ہے : انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے منہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے (استثنا ۸ : ۳) حضرت مسیح نے اسی بات کو ان لفظوں میں فرمایا : لکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے (متی ۴:۴) انسان اپنے ساتھ ایک مخصوص نفسیات رکھتا ہے ۔ اس نفسیات سے وہ اپنے آپ کو جدا نہیں کر سکتا ۔ یہ نفسیات ایک برتر تسکین کی طالب ہے ۔ انسان کو مادی ساز و سامان کے ساتھ ایک عقیدہ اور ایک اصولِ حیات بھی درکار ہے۔ سائنس نے انسان کو جو کچھ دیا وہ اپنی آخری صورت میں بھی صرف مادی ساز و سامان تھا۔ سائنس انسان کو ایک قابلِ اعتماد عقیدہ نہ دے سکی۔
یہی وہ کمی ہے جس نے جدید دنیا کے بے شمار لوگوں کو غیر مطمئن کر رکھا ہے۔ باہر سے دیکھنے والوں کو ان کی زندگیاں پر رونق نظر آتی ہیں۔ مگر اندر سے ان کی روح بالکل ویران ہو چکی ہے ۔ اقدار کا مسئلہ یہ مسئلہ جس سے آج کا انسان دوچار ہے، فلسفیانہ لفظ میں اس کو اقدار کا مسئلہ (Problem of values) کہا جا سکتا ہے ۔ جدید تعلیم یافتہ انسان ایک دہری مشکل سے دوچار وہ جانتا ہے مگر نہیں جانتا۔ معلومات کے ڈھیر کے درمیان وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کم سے کم اُس پوزیشن میں ہوتا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو بُرا سمجھے ۔ وہ اس تمیز کو کسی بھی طرح اپنے آپ سے جدا نہیں کر سکتا۔ مگر جب اپنی عقل یا اپنے علم کے ذریعہ وہ اس کو متعین کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کو متعین نہیں کر پاتا ۔
جوزف وڈکرچ نے اپنی کتاب ” دورِ جدید کا مزاج “ میں اس مسئلہ پر عقلی بحث کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان اگر چہ باعتبار فطرت یہ یقین کرنے کی طرف مائل ہے کہ زندگی کا ایک مقصد ہے اور اچھائی اور بُرائی کا ایک معیار ہے ۔ مگر سائنس اس کا کوئی حتمی جواب نہیں دیتی۔ کی ترقی اس کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کرتی جارہی ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں اقدار اپنا کوئی موضوعی مقام (Objective status) نہیں رکھتیں ۔ انسانِ اخلاقِ : روئی کی ضرورت محسوس کرتا ہے جس کے مطابق وہ زندگی گزارے ۔ وہ وجدانی سر پر پر اس کی مستقل تلاش میں ہے ۔ مگر سائنس کی دریافت کردہ دنیا میں خیر و شر کے تصورات کی کوئی جگہ نہیں ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک اخلاقی جانور ہے جو ایک ایسی کائنات میں ہے جہاں اخلاقی عنصر کا کوئی وجود نہیں :
Man is an ethical animal, universe which contains no ethical Joseph Wood Krutch, The Modern Temper, New York, 1929, p. 16 انسان چیزوں کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف چیزوں کے ڈھانچہ کا
علم دیتی ہے۔ انسان دنیا کے آغاز و انجام کو جاننا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف درمیانی مرحلہ کے بارہ میں کچھ باتیں بتاتی ہے۔ انسان چیزوں کی معنویت کو دریافت کرنا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف اس کی ظاہری ہیئت کا پتہ دیتی ہے۔ انسان پھول کی مہک کو سمجھنا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف پھول کی کیمسٹری سے آگاہ کرتی ہے۔ انسان ذہن اور روح کی گہرائی میں اترنا چاہتا ہے مگر سائنس صرف جسم کے مادی اجزاء کا تجزیہ اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ انسان "خالق" کے بارہ میں جاننا چاہتا ہے اور سائنس اس کو صرف "مخلوق" کے بارہ میں بتاکر خاموش ہو جاتی ہے۔
یہی بات ہے جس کو ایک مغربی مفکر نے حسرت کے ساتھ اس فقرہ میں بیان کیا ہے ـــــ جو اہم ہے وہ ناقابل دریافت ہے ، اور جو قابل دریافت ہے وہ اہم نہیں : The important is unknowable, and the knowable is unimportant. اعلیٰ ذریعہ علم یہی بے اطمینانی جدید دور کے تمام باشعور انسانوں کا پیچھا کیے ہوئے ہے۔ ان کی اکثریت اگر چہ مذہب کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے مگر انھوں نے یہ بات مان لی ہے کہ جس سائنسی ترقی کو انھوں نے انسانیت کے مسئلہ کا حل سمجھ لیا تھا وہ انسانیت کے مسئلہ کا حل نہ تھا۔ برٹرینڈ رسل نے مغربی فکر و فلسفہ پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کے آخر میں ہم اس کے اعتراف کے حسب ذیل کلمات پاتے ہیں :
(Western philosophers) confess frankly that the human intellect is unable to find conclusive answers to many questions of profound importance to mankind, but they refuse to believe that there is some 'higher' way of knowledge, by which we can discover truths hidden from science and the intellect. Bertrand Russell, A History of Western Philosophy, 1979, p. 789 مغربی فلسفی کھلے طور پر اقرار کرتے ہیں کہ انسانی عقل کے بس سے باہر ہے کہ وہ ان بہت سے سوالات کا قطعی جواب پاسکے جو انسانیت کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر وہ اس کو ماننے سے
انکار کرتے ہیں کہ سائنس کے علاوہ علم کا کوئی اور بلند تر طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان سچائیوں کو دریافت کر سکیں جو سائنس اور عقل کی دسترس میں نہیں آتیں۔
آج کے انسان کو یہی بتانا اس کو سب سے بڑی چیز دینا ہے کہ ہاں ، یہاں ایک ایسا بلند تر طریقہ موجود ہے جس کے ذریعہ نا معلوم کو معلوم کیا جا سکے ۔ اور وہ الہام خداوندی ہے ۔ یہ الہام خداوندی جہاں اپنی محفوظ شکل میں موجود ہے وہ قرآن ہے ۔
قرآن پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے اور تقریباً ڈیڑھ ہزار برس سے مسلسل اپنی صداقت کو ثابت کر رہا ہے ، اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنی کتاب " عظمت قرآن " اور دوسری کتابوں میں گفتگو کی ہے ۔ اس کی تفصیل ان کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ اخلاقی یا مذہبی احساس انسان کے اندر بے حد طاقت ور ہے ۔ ماضی سے لے کر حال تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ احساس کسی طرح انسان کے اندر سے ختم نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ یہ خالص انسانی خصوصیت ہے ۔ کسی بھی نوع کے جانور میں اب تک اخلاقی یا مذہبی شعور کا ہونا ثابت نہ کیا جا سکا۔ الفرڈ رسل ویلیس (۱۹۱۳- ۱۸۲۳) مشہور ارتقا پسند عالم ہے ۔ تاہم وہ ڈارون کی طرح اس کا قائل نہ تھا کہ ذہن انسانی کی اعلیٰ اور نادر خصوصیات محض انتخاب طبیعی (Natural Selection) کا نتیجہ ہو سکتی ہیں ۔
اسی طرح اس نے لکھا ہے کہ افادیت کا مفروضہ جو کہ در اصل ذہن پر انتخاب طبیعی کے نظریہ کا انطباق ہے ، وہ انسان کے اندر اخلاقی شعور کی پیدائش کی تشریح کے لیے ناکافی معلوم ہوتا ہے ۔ اخلاقی شعور کو اس دنیا میں بے حد مشکلات کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے ۔ کے استثنائی حالات پیش آتے ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اخلاقی شعور کے تحت عمل کرنے والا موت سے دوچار ہوتا ہے یا بر باد ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ہم کیوں کر یقین کر سکتے ہیں کہ افادیت کا لحاظ ایک شخص کے اندر ایک اعلیٰ نیکی کے لیے اتنا پر اسرار تقدس پیدا کر سکتا ہے ۔ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کر سکتی ہے کہ وہ سچائی کو بذات خود مقصود و مطلوب سمجھے اور نتائج کا لحاظ کیے بغیر اس پر عمل کرے :
"ذہین کائنات" نامی کتاب کا مصنف فریڈ ہائل اپنے قیمتی مطالعہ کا خاتمہ ان الفاظ پر کرتا ہے کہ اگر زمین کو کسی مزید اہمیت کا حامل بننا ہے، اور انسان کو کائنات کی اسکیم میں کوئی جگہ پانی ہے تو ضرورت ہوگی کہ ہم افادیت کے نظریہ کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ اگرچہ میرا خیال ہے کہ قدیم طرز کے مذہبی نظریات کی طرف واپسی کچھ مفید نہ ہوگی، مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ویلس کے تشریح کے مطابق پر اسرار تقدس ہمارے اندر موجود رہتا ہے اور فردوسی دنیا کی طرف ہمیں اشارہ کرتا ہے کہ کیا ہم اس کی پیروی کریں گے :
حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ مذہب کے بغیر نہیں آج کا انسان بھی اتنا ہی زیادہ مذہب کا ضرورت مند ہے جتنا قدیم زمانہ کا انسان تھا۔ مزید یہ کہ سائنس کی طرف سے مایوسی نے اس کو مزید شدت کے ساتھ مذہب کا مشتاق بنا دیا مگر جدید انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ مذہب کے نام سے جس چیز کو جانتا ہے وہ صرف بگڑے ہوئے مذاہب ہیں۔ اور بگڑے ہوئے مذاہب کے ساتھ انسانی فطرت کو مطابقت نہیں۔ جدید انسان جب اندرونی تقاضے سے مجبور ہو کر مذہب کے بارہ میں سوچتا ہے تو اسی بگڑے ہوئے مذہب کی تصویر اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ وہ مذہب سے قریب ہو کر دوبارہ مذہب
سے دور ہو جاتا ہے ۔
اسلام ایک محفوظ مذہب ہے ۔ وہ ان خرابیوں سے یکسر پاک ہے جو انسانی ملاوٹ کے نتیجہ میں دوسرے مذہبوں میں پیدا ہو گئی ہیں ۔ انسان کی فطرت جس مذہب کو تلاش کر رہی ہے وہ حقیقتاً اسلام ہی ہے ۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اسلام کو اپنے خود ساختہ جھگڑوں کا عنوان بنائے ہوئے ہیں ۔ انھوں نے اسلام کو دنیا کے سامنے پیش ہی نہیں کیا ، اور اگر پیش کیا تو بگڑی ہوئی خود ساختہ صورت میں ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو اسلام اور دوسرے مذہبوں میں بظا ہر کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ اسلام کو اگر اس کی اصل صورت میں آج کے انسان کے سامنے پیش کر دیا جائے تو وہ یقیناً اس کو اپنی طلب کا جواب پائے گا اور اس کی طرف دوڑ پڑے گا ۔ مسلمان سائنس کے میدان میں دوسروں سے پچھڑ گئے ہیں مگر عقیدہ (نظریہ حیات) کے معاملہ میں وہ آج بھی دوسروں سے آگے ہیں ۔ وہ جدید دنیا کو وہ چیز دے سکتے ہیں جس کی آج اسے سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ یعنی خدا کی طرف سے آیا ہوا سچا دین ، وہ دین جس کے اوپر آدمی اپنے لیے ایک پُر اعتماد زندگی کی تعمیر کر سکے ۔ یہ مقام آج مسلمانوں کے لیے خالی ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وہ اہل عالم کے لیے نفع بخش بن سکتے ہیں ۔ اور دوبارہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر سکتے ہیں کہ قدرت کا یہ قانون ان کے حق میں پورا ہو ۔ واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض ۔
از : مولانا وحید الدین خاں صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۵ روپے