ایک اقتباس
Al-Risala, July 1987, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے چند سال ہوئے اندور میں ٹیگور ہال میں پیام انسانیت پر تقریر کی۔ اس موقع پر آرایس ایس کے لوگ اور دوسری جماعتوں کے لوگ موجود تھے ۔ اگلے دن ایک دفعہ میری قیام گاہ مجھے معلوم ہوا کہ اس میں آرایس ایس کے لیڈر اور اس کے ذمہ دار ہیں۔ اور مجھ سے باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ " کل آپ کی تقریر سن کر ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ آپ کو اس ملک کی ہم سے زیادہ فکر ہے ۔ " میں اس تاثر اور شہادت کو اپنے ہی لیے نہیں پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک بڑا اعتراف اور قابل فخر نہیں تو قابل شکر سند سمجھتا ہوں ۔ کہ آپ کی ہر بات سے اس کا اظہار ہو اور یہاں کے شہری یہ سمجھیں کہ آپ کو اس ملک کی اُن سے زیادہ فکر ہے ۔ آپ کو دولت سے زیادہ ملک عزیز ہے ۔ آپ کو یہ معاشرہ عزیز ہے۔ کا عزت کے ساتھ ، سکون کے ساتھ ، امن وامان کے ساتھ رہنا آپ کو دولت کمانے سے زیادہ عزیز ہے ۔ یہ وہ جو ہر ہے جو مفقود ہوتا جا رہا ہے ۔ اب یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ لوگوں میں بھی یہ بات نہیں رہی۔ وہ بے تکلف اپنی دولت میں اضافہ کرنے کے لیے اس سطح پر آجاتے ہیں ، اور وہ کام کر لیتے ہیں جس سے ملک خطرہ میں پڑ جاتا ہے ۔ طرح زوال کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ اور پوری پوری کمیونٹی بلکہ ملک کی اس عظیم آبادی میں اس صورتِ حال سے حقیقی طور پر مضطرب و بے چین ہونے والا ، اور اپنی کمیونٹی ، پارٹی فرقہ اور جماعت کی ملامت و تنقید یا مدح و تعریف سے بے پروا و بے نیاز ہو کر تنقید واحتساب کا فرض ادا کرنے والا اور خطرہ کا بگُل بجانے والا دور دور نظر نہیں آتا۔ (مولانا سید ابو الحسن علی ندوی)