Al-Risala · July 1987

ابتدائی عمل

Al-Risala, July 1987, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کپڑے کی صنعت سے جو بے شمار کام متعلق ہیں ان میں سے ایک اہم کام کپڑے کی رنگائی مثلاً بہت سی ساڑیاں ابتدائر کپاس کے سادہ رنگ میں تیار کی جاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان پر رنگ چڑھا کر ان کو جاذب بنایا جاتا ہے ۔ رنگائی کا یہ کام اس طرح نہیں ہوتا کہ بنی ہوئی ساڑی کو لے کر رنگ کے حوض میں ڈال دیا۔ اگر ایسا کیا جائے تو کبھی اچھا رنگ نہیں آئے گا۔ کرنے سے پہلے سادہ ساڑی کو اس مقصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے ۔ تیاری کے اس عمل کی تکمیل کے بعد ہی کپڑا اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو رنگائی کے آخری مرحلہ میں داخل کیا جائے۔ اس پیشگی عمل کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً کپڑے کو نرم کرنا، داغ دھبہ مٹانا، اس کو سفید اس سے کپڑے کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ رنگ کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکے ۔ ان پیشگی تیاریوں کا بعد کی رنگائی اور چھپائی سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ یہ معلوم کیا گیا ہے کہ رنگے ہوئے کپڑوں کی ۷۰ فی صد خرابیوں کا سبب یہی ہوتا ہے کہ ابتدائی کپڑے کو ناقص طور پر تیار کیا گیا تھا :

کپاس اور کپڑے کا یہ مزاج براہِ راست خداوند عالم کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ یہ ایک عالمی قانون ہے جس سے موافقت کر کے انسان اپنی پسند کے کپڑے تیار کرتا ہے ۔ اس طرح گویا خدا نے ایک نشانی قائم کر دی ہے جو بتا رہی ہے کہ زندگی کی تعمیر کے لیے ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ زندگی کی تعمیر میں بھی ضروری ہے کہ پہلے تیاری کے مراحل طے کیے جائیں ۔ تیاری کی شرطیں پوری کرنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے جب کہ اگلے مرحلہ کی طرف پیش قدمی کی جائے اور وہ کامیابی حاصل کی جائے جو مطلوب ہے ۔ ابتدائی مراحل طے کیے بغیر کبھی آخری منزل نہیں آتی ۔

Printed page