Al-Risala · July 1987

معبود کی یکتائی

Al-Risala, July 1987, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۶۳ سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت لوگوں کے اوپر عجیب دیوانگی کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ آپ کا انتقال ہو سکتا

ہے یا انتقال ہو گیا ہے ۔ حضرت عمر فاروق اس معاملہ میں سب سے آگے تھے ۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے میں اس تلوار سے اس کی گردن مار دوں گا ۔

مسجد نبوی میں زبردست خلفشار جاری تھا ۔ لوگ سخت مبہوت نظر آ رہے تھے ۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے ۔ انھوں نے صورت حال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مسجد کے ایک طرف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ اپنی تقریر میں انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا : من كان يعبد محمدآ فان محمدا قدمات ومن كان يعبد الله فان الله حي لا يموت ( جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے ۔ اس پر کبھی موت آنے والی نہیں )

اس واقعہ میں انسان معرفت الہی کے آخری درجہ پر نظر آتا ہے ۔ انسان انسان ہے اور خدا خدا اس حقیقت کو جاننا ہی اصل علم ہے ۔ اور یہ واقعہ اس اصل علم کی آخری شاندار مثال ہے ۔ حق کے آگے ڈھ پڑنا اوپر جو واقعہ نقل کیا گیا اس موقع پر حضرت عمر فاروق کا کردار ابتداء ابے حد انتہا پسندانہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیغمبر اسلام کا جسم بولتے بولتے خاموش ہو گیا ۔ مگر انھیں یقین نہیں آیا کہ یہ آپ کی وفات کا واقعہ ہے ۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ ایک قسم کی روحانی معراج کا واقعہ ہے آپ اپنے رب کے پاس گیے ہیں اور جلد ہی دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے۔

وہ اس معاملہ میں کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر صدیق کی بھی نہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے مسجد نبوی میں داخل ہو کر ان کو چپ ہونے کے لیے کہا۔ مگر وہ چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔ ان کا ہاتھ تلوار کے دستہ پر تھا اور ان کی زبان بے تکان بولے چلی جا رہی تھی۔ لمحہ تھا جب کہ حضرت ابو بکر صدیق مسجد نبوی میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے ۔ انھوں نے حضرت عمر فاروق کی آواز پر اپنی آواز کو تیز کرتے ہوئے اپنی تقریر شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق تقریر کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچے : وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل انامات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي

الله الشاکرین - (محمد تو صرف ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے تھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ۔ مر جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۔ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو ضرور بدلہ دے گا ۔

قرآن کی اس آیت کا سننا تھا کہ فوراً حضرت عمر فاروق ٹھنڈے ہو گئے ۔ بعد کے زمانہ میں انھوں نے اپنا اس وقت کا حال بتاتے ہوئے کہا : وقعت علی الارض وما تحملنی رجلای (میں زمین پر گر پڑا، میرے پاؤں میرا بوجھ نہ سنبھال سکے)

اس واقعہ میں انسان عبدیت کے آخری مقام پر نظر آتا ہے ۔ عبدیت یہ ہے کہ انسان خدا کے آگے حضرت عمر فاروق یہی انسان ثابت ہوئے ۔ وہ خدا کا کلام سن کر بالکل لفظی طور پر زمین پر گر پڑے ۔ اپنی رائے کو انھوں نے اپنے دماغ سے اس طرح نکال دیا جیسے کہ وہ اللہ کے دماغ میں کبھی بھی ہی نہیں ۔

Printed page