احترام انسانیت
Al-Risala, July 1987, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں حضرت عمروبن العاص مصر کے گورنر تھے ۔ انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی۔ اس دوڑ میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا۔ مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا۔ مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایسا جملہ کہا جو گورنر کے صاحبزادے (محمد بن عمروبن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا، مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا : خذھا وانا ابن الاکرمین (یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں) حضرت انس بن مالک اس قصہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مصری (غیر مسلم) مصر سے چل کہ مدینہ پہنچا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمروبن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمر و جس حال میں ہوں اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گیے۔ وہ مدینہ پہنچے تو حضرت عمر نے فرمایا : این المصری ، دونك الدرة فاضرب بها ابن الاکرمین (مصری کہاں ہے۔ یہ کوڑالو اور اس سے شریف زادہ کو مارو)
اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحبزادے کو مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا، یہاں تک کہ ان کو زخمی کر دیا۔ حضرت عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو جب وہ خوب مار چکا تو حضرت عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد عمروبن العاص کے سر پر بھی مارو ،
کیوں کہ خدا کی قسم ان کے بیٹے نے صرف اپنے باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا تھا۔ ابنه الا بفضل سلطانه)
مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین، جس نے مجھے کو مارا تھا اس کو میں نے مار لیا۔ اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: خدا کی قسم اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو۔ پھر آپ نے عمرو بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: یا عمر و، متی تعبدتم الناس و قد ولدتم امهاتهم احراراً (اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالاں کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا)
یہ واقعہ انسانی احترام اور انسانی برابری کی آخری اعلیٰ مثال ہے۔ اس واقعہ نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہر قسم کے فرق کو عملاً ختم کر دیا۔ اس نے انسانی عدل و انصاف کی ایسی نظیر قائم کر دی جس کے آگے انسانی عدل و انصاف کا کوئی اور درجہ نہیں ۔