Al-Risala · July 1987

عدل وانصاف

Al-Risala, July 1987, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عمر بن عبد العزیز (۱۰۱ - ۶۲ ھ) پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا: تمھارے خلیفہ کا بھی رو ز کا کھانا یہی ہے۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لئے ایک سو سپاہی مقرر تھے ، جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسرے سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا : میری حفاظت کے لئے قضا قدر ہی کافی ہے۔ یہ اس شخص کا حال تھا جس کی سلطنت کے حدود سندھ سے لے کر فرانس پھیلے ہوئے تھے۔ آپ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ سمرقند کے باشندوں کا ایک وفد آیا ۔ اس نے ایک فوجی سردار قتیبہ بن مسلم باہلی کے بارے میں یہ شکایت کی کہ اسلامی قاعدہ کے مطابق انھوں نے ہم کو پیشگی تنبیہ نہیں کی اور ہمارے شہر میں اچانک اپنی فوجیں داخل کردیں ۔ لہذا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبد العزیز سے پہلے ہوئی تھی ۔ اور اب اس پر سات سال گزر چکے تھے۔ مگر آپ نے انصاف کے

تقاضے کو پورا کرنا ضروری سمجھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عراق کے حاکم کو لکھا کہ سمر قند کے لوگوں کے مقدمہ کی سماعت کے لئے ایک خصوصی قاضی مقرر کریں۔ عراق کے حاکم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جمیع بن حاضر الباہلی کو اس کا قاضی مقرر کیا ۔ ان کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ دونوں فریق نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے دلائل پیش کئے ۔ آخر میں قاضی نے سمر قند والوں کی شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ۔ مسلمانوں کی فوج سمر قند کو چھوڑ کر باہر آ جائے اور اہل سمر قند کو ان کا قلعہ اور تمام دوسری چیزیں واپس کر دی جائیں۔ اس کے بعد اسلامی قاعدہ کے مطابق مسلمانوں کا فوجی سردار ان کے سامنے ضروری شرطیں پیش کرے ۔ اگر وہ تمام شرطوں کو ماننے سے انکار کر دیں تو پھر اس کے بعد ان سے جنگ کی جائے ۔ اسلامی فوج اس وقت فاتحانہ حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے چین جیسے ملک کے بادشاہوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر جب قاضی نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسلامی فوج کے سردار نے کسی بحث کے بغیر اس کو مان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ پوری فوج سمر قند چھوڑ کر نکل آئے۔ تا ہم اس پر عمل در آمد کی نوبت نہیں سمر قند کے لوگوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس قدر با اصول اور انصاف پسند ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ سے پہلے انھوں نے کبھی ایسے بے لاگ انصاف کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مسلم فوج کا آنا ان کے لئے رحمت کا آنا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے مسلم حکومت کو قبول کر لیا۔ وہ کہہ اٹھے: خوش آمدید ہم آپ کے مطیع و فرماں بردار ہیں (مرحبا سمعنا و اطعنا، فتوح البلدان للبلاذری) یہ واقعہ عدل و انصاف کا جو نمونہ پیش کر رہا ہے ۔ اس کی مثال ساری تاریخ میں مشکل سے اس واقعہ میں عدل و انصاف کا اصول اپنے آخری اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے ۔ بلاشبہ انسانی زندگی کی بلند ترین قدر ہے ، اور یہ واقعہ اس قدر کے اعتراف کی بلند ترین عملی مثال ۔

تذکیر القرآن جلد دوم ( سوره کهف - سوره ناس ) صفحات ۸۰۰

Printed page