Al-Risala · July 1987

دورِ جدید کی تحریکیں

Al-Risala, July 1987, pp. 16–25

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مختلف مسلم ملکوں میں بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں جو اپنے دعوے کے مطابق تجدید کی تحریکیں تھیں۔ مزید یہ کہ ان تحریکوں کو بہت بڑی مقدار میں ساتھ دینے والے افراد بھی ملے اور مادی وسائل بھی، حتیٰ کہ اس سے بھی زیادہ جتنا قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو ملے اس کے باوجود یہ تحریکیں عملی طور پر سراسر بے نتیجہ رہیں۔ وہ اُس منزل پر پہنچنے میں ناکام رہیں جس کو انھوں نے اپنا نشانہ بنایا تھا۔

ان تحریکوں کے معتقدین نے بطورِ خود اگرچہ بہت بڑے بڑے الفاظ پالئے ہیں جو وہ اپنی تحریک یا اپنی شخصیتوں کے بارہ میں بول سکیں۔ مگر یہ محض الفاظ ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مثلاً سید ابو الاعلیٰ مودودی کے معتقدین موجودہ عہد کو "سید مودودی کا عہد" کہتے ہیں۔ اس کی حقیقت لفظی بازیگری سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ میں نے ان حضرات سے کئی بار پوچھا کہ جس چیز کو آپ سید مودودی کا عہد کہتے ہیں وہ کہاں ہے تاکہ میں بھی وہاں جاکرہ اسے دیکھوں۔ وہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کے اپنے مکان میں ہے۔ کیا وہ اس شہر میں یا اس ملک میں ہے جہاں وہ رہتے تھے۔ کیا وہ اس جماعت میں ہے جس کو انھوں نے قائم کیا اور چلایا۔ اس کا جواب ان حضرات کے پاس کچھ نہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے اس محبوب تخیل (سید مودودی کا عہد) کو بدستور لکھے اور چھاپے چلے جارہے ہیں۔ یہ مردہ قوم کی مخصوص علامت ہے کہ جس چیز کو وہ حقیقت میں نہ پائے اس کو وہ الفاظ میں پاکر کامیابی کا جشن مناتی ہے۔ موجودہ زمانہ کی تجدیدی تحریکوں کی ناکامی کی وجہ کیا تھی، اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ یہ تحریکیں تجدیدی تحریکیں تھیں ہی نہیں۔ تجدیدِ دین، ابدیت کی بنیاد پر اٹھنے کا نام ہے، جب کہ ان مسلم مفکرین کے پاس آخری سرمایہ صرف یہ تھا کہ وہ وقتی مسائل سے متاثر ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے یہ تحریکیں دراصل ردعمل کی تحریکیں تھیں جن کو خوش خیال مفکرین نے بطور خود تجدیدی تحریک کا نام دے دیا۔

یہاں ہم اس سلسلہ میں صرف ایک مثال دیں گے۔ اسی مثال پر دوسرے مسلم مفکرین کو

قیاس کیا جاسکتا ہے۔ یہ مثال مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ہے ۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

”مارچ ۱۹۳۷ میں جب میں دہلی گیا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سیاسی حالات کے تغیر سے مسلمانوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس قدر بھی طاقت خدا نے مجھے دی ہے اس کو اسی انقلاب کے مقابلہ میں صرف کروں ۔ چنانچہ میں نے دہلی سے حیدر آباد پہونچتے ہی اس نئی مہم کی ابتدا ترجمان القرآن کے مضامین (مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش) سے کر دی۔ آج کل میرے خیالات میں ایک ہلچل رہا ہے جس نے مجھے پرسکون تفکر کے قابل نہیں رکھا ۔ دہلی سے ایک آگ اپنے سینہ میں لایا ہوں اور ہر لمحہ یہ فکر دامن گیر ہے کہ اب کیا کروں ۔ جو طوفان ہمارے سر پر آگیا ہے کیا وہ ہمیں اتنی فرصت دینے کے لیے تیار ہے کہ ہم اس طرح اطمینان سے بیٹھے ہوئے اپنی ٹوٹی ہوئی کشتی کو از سر نو تیار کریں۔ ایک منظم طاقت ہے جو نیشنلزم اور ڈیموکریسی کے مجموعہ کو پراونشل اٹانومی کے زبردست وسائل سے ہندوستان جدید کی تعمیر اس نقشہ پر شروع کر چکی ہے جس میں مسلمان قوم کے لیے بحیثیت مسلمان ہونے کے کوئی جگہ نہیں۔ دوسری طرف مسلمان ایک ریوڑ کی طرح ہندوستان کے طول و عرض میں بھٹک رہے ہیں“ (ملخصاً) حکمت قرآن (لاہور) ستمبر اکتوبر ۱۹۸۴ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات واضح طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی حقیقہ " واقعات انسانی " سے متاثر ہوکر اٹھنے نہ کہ " واقعات خداوندی " سے اور اسی کا نام ردعمل کی نفسیات کے تحت اٹھنا ہے ۔ یہی معاملہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلم رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے ۔

موجودہ زمانہ میں جو مسلم تحریکیں اٹھیں ان کی دو قسمیں کی جاسکتی ہیں۔ ان کی پہلی قسم وہ ہے جو انیسویں صدی کے نصف ثانی میں ظاہر ہوئی ۔ اور دوسری قسم وہ ہے جو بیسویں صدی کے نصف اول میں پیدا ہوئی اور پھیلی۔

موجودہ زمانہ میں مغربی قو میں جدید قوتوں سے مسلح ہوکر ابھریں اور انھوں نے پوری دنیا کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مغلوب کر لیا۔ اس کی زد سب سے زیادہ مسلمانوں پر

کیں کہ مسلمان ہی اس وقت سب سے بڑی عالمی قوت کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس عمل کی انتہا انیسویں صدی میں ہوئی۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو متاثر کیا۔ ہر مسلم ملک میں ایسے لوگ ابھرے جو ماضی کی عظمت کو دوبارہ واپس لانے کا پیغام دیتے تھے۔

سید جمال الدین افغانی (۱۸۳۹ء - ۱۸۳۸ء) اور محمد علی جوہر (۱۹۳۱ء - ۱۸۷۸ء) کو اس دور کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھیے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جس نے انھیں ابھارا اور عمل کے میدان میں کھڑا کیا وہ مغربی قوموں کا اسلامی ممالک پر ان قوموں نے نہ صرف مسلم ملکوں کو سیاسی طور پر مغلوب کیا تھا بلکہ اسلامی آثار اور اسلامی امتیازات کو مٹانے کی ایک مسلسل مہم جاری کر دی تھی، اس صورت حال نے سید جمال الدین افغانی اور محمد علی جوہر جیسے لوگوں کو تڑپا یا اور وہ مغربی قوموں سے لڑنے کے لیے کھڑے باعتبارِ محرک وہ جوابی ذہن کے تحت ابھرے تھے نہ کہ مثبت ذہن کے تحت۔ دوسرے مرحلہ کی تحریکیں وہ ہیں جن کی نمائندگی سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۷۹ء - ۱۹۰۳ء) اور سید قطب شہید (۱۹۶۶ء - ۱۹۰۶ء) جیسے لوگوں نے کی۔ اس دوسرے مرحلہ کے افراد کے حالات زندگی کو پڑھیے تو دوبارہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی سیاسی اور تہذیبی المیہ سے متاثر ہو کر ابھرے جس سے متاثر ہو کر پہلے مرحلہ کے لوگ ابھرے تھے۔ دونوں ہی یقینی طور پر رد عمل کی پیداوار تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مرحلہ کے افراد نے اپنے رد عمل کو سادہ طور پر صرف رد عمل کے انداز میں پیش کیا اور دوسرے مرحلہ کے افراد نے اپنے رد عمل کے ساتھ وہ معاملہ کیا جس کو انگریزی میں "فيلوسوفائز" کرنا کہتے ہیں۔ یعنی انھوں نے اپنے رد عمل کو فکر اور فلسفہ بنا کر پیش کیا۔ انھوں نے اس کو ایک مستقل تعبیر کی حیثیت دے دی۔ پہلے مرحلہ کے لوگوں کا عمل اگر سیاسی دفاع تھا تو دوسرے مرحلہ کے افراد کا عمل سیاسی تعبیر۔ رد عمل کی نفسیات کے تحت اٹھنے والے آدمی کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہمیشہ پیش نظر مسئلہ کو دیکھتا ہے نہ کہ اصل حقیقت و واقعہ کو۔ اس کی نظر وقتی صورت حال پر ہوتی ہے نہ کہ ابدی صورت حال پر۔ یہی موجودہ زمانہ کےمسلم رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا۔ ان کی رد عمل کی نفسیات نے ان سے مثبت طرز فکر کو چھین لیا۔ ان کی پوری سوچ منفی سوچ بن گئی۔ جس کا نتیجہ یہ

ہوا کہ ان کی تفکیر بھی صراط مستقیم سے ہٹ گئی اور ان کی عملی منصوبہ بندی بھی۔ یہاں ہم اس معاملہ کے چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے ۔

1- ایک حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

الا ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح آگاہ ، جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔ الجسد كله واذا فسدت فسد الجسد درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ كله الا وهي القلب ۔ (متفق علیہ) جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے ۔ آگاہ، اور وہ

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اصلاحی عمل کا مقام آغاز قلب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام آغاز انسان کا دل ہے۔ قلب ( یا ذہن ) کی اصلاح سے اعمال کی اصلاح ہوتی ہے۔ لوگوں کے اندر عمل کی کمی نظر آئے تو اس قول رسول کے مطابق ہمیں پیشگی طور پر یہ یقین کرنا چاہیے کہ اس کا سبب انسان کے قلب میں ہو گا ۔ عمل کا بگاڑ قلب کے بگاڑ کا نتیجہ ہے اور عمل کی اصلاح قلب کی اصلاح کا نتیجہ ۔

یہ نکتہ مخصوص نفسیات کی بنا پر ہمارے رہنماؤں سے اوجھل ہو گیا ۔ وہ اس راز کو سمجھنے میں ناکام رہے جو قرآن وحدیث میں اور رسول اللہ کی سیرت میں واضح طور پر موجود تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنے تجدیدی کام کا آغاز تجدید نظام سے کیا۔ کام کا صحیح آغاز یہ تھا کہ اس کو تجدید روح سے شروع کیا جاتا۔

دور زوال میں ہمیشہ قوموں سے جو چیز غائب ہوتی ہے وہ اسلامی روح ہے اس لیے اسلامی روح کو ازسر نو زندہ کرنا ہی تجدید دین کا پہلا کام ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے ذہن پر چوں کہ سیاسی نظام کے ٹوٹنے کا غم سمایا ہوا تھا اس لیے اپنی نفسیات کے تقاضے کے تحت انھوں نے یہ سمجھا کہ اس وقت کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی ساری کوششیں تجدید نظام کے محاذ پر وقف کر دیں۔ مگر یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک ٹوٹے ہوئے گھر کو دوبارہ بنانے کے لیے یہ کیا جائے کہ اس کو بنیادوں اور دیواروں کے بغیر چھت کی طرف سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ظاہر ہے کہ

ایسی چھت کبھی کھڑی نہیں ہوتی اور نہ ایسا مکان کبھی وجود میں آتا۔ چنانچہ بے پناہ قربانیوں کے با وجود ان رہنماؤں کا تجدید نظام کا منصوبہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔

یہ مسلم رہنما اپنے رد عمل کی نفسیات کی بنا پر یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ "نظامِ اسلام" ہمیشہ روحِ اسلام کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں نظامِ اسلام کی بربادی اسی لیے ہوئی کہ مسلمانوں میں روحِ اسلام کمزور ہو گئی تھی۔ یہ رہنما اگر رد عمل کی نفسیات کا شکار نہ ہوتے تو ان کے لیے اس حقیقت کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ اور اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے تو وہ اپنے کام کا آغاز تجدید روح سے کرتے نہ کہ تجدید نظام سے، جس کا موجودہ اسباب کی دنیا میں کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی نتیجہ نکلا۔

قرآن میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لائے گا جو تمہارے جیسے نہ ہوں گے (فان تتولوا يستبدل قوماً غيركم ثم لا يكونوا امثالکم)، اس آیت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ مسلمانوں پر جب زوال طاری ہو تو ان کو دوبارہ زندہ اور فعال بنانے کی ایک ضروری تدبیر یہ ہے کہ ان کے اندر نئی قومیں داخل کی جائیں۔ کے لیے وہ چیز فراہم کی جائے جس کو آج کل کی زبان میں نیا خون (New blood) کہا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک عالم گیر قانون ہے کہ ہر چیز پر تنزل طاری ہوتا ہے۔ ہر چیز ایک مدت گزرنے کے بعد اپنی ابتدائی قوت کھو دیتی ہے۔ یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ بھی آخر کار زوال آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا معاملہ بھی یہی تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان حقیقتاً ایک زوال یافتہ قوم تھے۔ وہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ تنہا اپنی قوت سے اسلام کے حامل بن سکیں۔ ایسی حالت میں کرنے کا کام یہ تھا کہ مسلمانوں کی داخلی اصلاح کرتے ہوئے یکساں قوت کے ساتھ غیر مسلم اقوام میں اسلام کی دعوت پہنچائی جائے تاکہ ان کے اندر سے اسلام کی حمایت کے لیے نیا خون مل سکے۔

مگر یہاں دوبارہ مسلم رہنماؤں کی رد عمل کی نفسیات حائل ہوگئیں۔ وہ غیر مسلم اقوام کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا تھے۔ دعوتی عمل کی لازمی شرط مدعو کے حق میں محبت ہے مگر مسلمانوں کی رد عمل کی نفسیات نے ان کے لیے مدعو کو نفرت اور حقارت کا

موضوع بنا دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ساری دل چسپیاں صرف مسلمانوں کی اصلاح کے دائرہ میں محدود ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے دور زوال کو پہنچ کر بالکل بے جان ہو چکے تھے مگر مسلم رہنماؤں کی خوش فہمی نے انھیں برعکس طور پر یہ دکھا یا کہ : نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی مسلمانوں کے بارہ میں اس اندازہ کی غلطی اس واقعہ سے ثابت ہو چکی ہے کہ پچھلے سو برس کے اندر بے شمار اعاظم واکابر (بشمول اقبال) اس "مٹی" کو نم کرنے کی کوشش انھوں نے اس کو صرف "ذرا نم " نہیں کیا بلکہ اس کو جل تھلکر دیا۔ کے اندر سے وہ جاندار گروہ نہ ابھر سکا جو جدید تاریخ میں اسلام کو اس کا واقعی مقام دلانے والا حتی کہ خود اقبال کو آخر میں یہ کہنا پڑا :

تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوتے تو یقیناً وہ اس راز کو سمجھ لیتے کہ موجودہ زمانہ میں تجدید دین اور احیارِ اسلام کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کو غیر مسلم اقوام تک پہنچایا جائے تاکہ ان کی صفوں سے ایسے افراد حاصل ہوں جو نو مسلمانہ جوش کے ساتھ اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ مگر غیر مسلم اقوام میں دعوتی کام کرنے کے لیے ان کے حق میں محبت اور خیر خواہی کا جذبہ درکار تھا اور ہمارے رہنما رد عمل کی نفسیات کے نتیجہ میں پہلے ہی اس کو کھو چکے تھے۔ پھر وہ غیر مسلم اقوام کے درمیان خدا کے دین رحمت کے داعی بن کر اٹھتے تو کیسے اٹھتے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر بھیجے، سب ان کی قوموں کی زبان میں بھیجے (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ) اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دعوتی کام کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ مدعو کی اپنی زبان اور اس کے قابل فہم اسلوب میں ہو۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جس طرح دوسری چیزوں میں انقلاب آیا ہے اسی طرح زبان وادب میں بھی زبردست انقلاب آیا ہے۔ زیر اثر موجودہ زمانہ میں بالکل ایک نیا انداز بیان وجود میں آیا ہے۔ آج کا انسان اسی بات

کو اہمیت دیتا ہے جو جدید سائنسی اسلوب میں ڈھال کر اس کے سامنے پیش کی جائے۔ اور جو چیز سائنسی اسلوب میں ڈھلی ہوئی نہ ہو وہ جدید انسان کو اپیل نہیں کرتی، وہ اس کے دل ودماغ میں اپنی جگہ نہیں بناتی۔

اس صورتِ حال کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانہ میں جدید اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ جو وقت کے علمی اور ادبی اسلوب کے مطابق ہو۔ اس کی اہمیت غیر مسلم قوموں کے لیے بھی تھی اور خود مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے بھی۔ مگر یہاں دوبارہ مسلمانوں کی ردِ عمل کی نفسیات رکاوٹ بن گئی۔ جدید علمی انداز یا نیا ادبی اسلوب پیدا کرنے والی قومیں عین وہی تھیں جن سے ہمارے مسلم رہنما نفرت میں مبتلا تھے۔ اور جن کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ان کی اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ توجہ اور دل جمعی کے ساتھ جدید اسلوب کو سمجھنے کی کوشش نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ وہ جدید اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔ دورِ جدید میں اسلام کے احیاء اور تجدید کے کام کی یہ ایک بنیادی ضرورت تھی۔ کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود یہ ضرورت ابھی تک غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی حتیٰ کہ لوگوں کے اندر اس کا شعور تک موجود نہیں۔ میری ملاقات ایک مشہور حلقہ کے ایک صاحب سے ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمان ابھی تک یہ نہ کر سکے کہ وہ وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی لٹریچر تیار کریں۔ انھوں نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ فلاں عظیم شخصیت نے یہ کام انجام دیدیا ہے۔ ان کی کتابیں وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر رہی میں نے کہا کہ آپ مذکورہ شخصیت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ان سے چند سطر میں صرف یہ لکھوا کر بھیج دیجیے کہ "وقت کا فکری مستویٰ" کیا ہے اور اس سے کیا مراد ہے۔ مگر آج تک ان کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔

میں اردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس پورے دور میں مسلمانوں کا دینی طبقہ کوئی ایک بھی ایسی قابلِ ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکا جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ شخصیتوں سے عقیدت رکھنے والے کسی خوش فہم دماغ میں ایسی کتابوں کا وجود ہو سکتا

ہے ، مگر حقیقی دنیا میں ایسے لٹریچر کا وجود نہیں ۔ اور اگر بالفرض کسی صاحب کو اصرار ہو کہ ایسی کتابیں موجود ہیں تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی صرف ایک کتاب راقم الحروف کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔ اس کے بعد انشاء اللہ میں بتاؤں گا کہ اس کی حقیقت جدید اسلوب اور سائنٹفک طرز تحریر کے اعتبار سے کیا ہے، بشرطیکہ یہ کتاب کسی ذمہ دار شخص کی طرف سے ان کی اپنی تحریر کے ساتھ بھیجی گئی ہو ۔

۱۹۸۰ میں میری ملاقات امریکہ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص مسٹر اسٹیو اسکلر (Steve Sklar) سے ہوئی ۔ وہ فلوریڈا کے ایک عیسائی خاندان میں ۱۹۴۷ میں پیدا ہوئے ان کو تقابلی مطالعہ کا شوق ہوا ، اور انہوں نے تمام بڑے بڑے مذاہب سے متعلق کتا بیں پڑھ ڈالیں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں نے ان مسلم مصنفوں کی کتابوں کے انگریزی ترجمے پڑھے ہیں جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بڑے مفکر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ کتابیں میرے نزدیک بالکل کوڑا (Rubbish) ہیں۔ مغربی ملکوں میں ان کے ذریعہ سے اسلام کے تعارف کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ یہ انگریزی ترجمے زبان کے اعتبار سے ناقص ہیں۔ ان کی زبان جاندار تاہم اس سے قطع نظر مضمون کے اعتبار سے بھی ان کتابوں میں ایسی کمیاں ہیں کہ وہ مغربی انسان پر کوئی گہرا اثر نہیں چھوڑ سکتیں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے چند باتیں بتائیں انھوں نے کہا کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا لکھنے والا مغرب کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا ہے۔ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ان کے اس مزاج کی وجہ سے ان کی کتابیں غیر سائنٹفک ہو کر رہ گئی ہیں ۔ کی کتابوں میں اپنے مخاطب کے لیے محبت کا جذبہ ملتا ہے مگر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین کی کتابوں میں کم از کم مغربی مخاطب کے لیے نفرت اور حقارت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ چنانچہ ان کتابوں کی ایک کمی یہ ہے کہ ان میں غلط قسم کی تعمیم (Generalisation) پائی جاتی یہ لوگ مغربی سوسائٹی سے کوئی منفرد اور استثنائی واقعہ لیں گے اور اس کو اس طرح بیان کریں گے گویا کہ یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت ہے ۔ مثلاً ایک مسلم مصنف نے اپنی کتاب

میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص ایک مغربی خاتون کے گھر پر اس سے ملنے کے لیے گیا۔ گھنٹی بجائی ، اس وقت مغربی خاتون غسل خانہ میں نہارہی تھی۔ وہ گھنٹی کی آواز سن کر بالکل ننگی باہر نکل آئی۔ اس قسم کا واقعہ کوئی استثنائی واقعہ ہوسکتا ہے مگر یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت نہیں۔ ان مصنفین کا حال یہ ہے کہ وہ مغربی سوسائٹی کا کوئی بُرا واقعہ لیں گے اور اس کو مغربی سوسائٹی کی عام حالت بتائیں گے۔ دوسری طرف یہی لوگ اسلام کے بارہ میں یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا ایک نہایت اچھا واقعہ منتخب کرتے ہیں اور اس کو اسلامی سوسائٹی کی عام حالت بتاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تقابل علمی اعتبار سے صحیح نہیں ۔ اسی طرح ان کتابوں میں ایک عام کمی یہ پائی جاتی ہے کہ اس میں آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً اسلام کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے وہ خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ نقل کریں گے اور مغرب کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے ساؤتھ افریقہ کی مثال حالاں کہ یہ تقابل سراسر غلط ہے۔ ان کو چاہیے کہ آئیڈیل کا تقابل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے کریں۔ مثلاً پیغمبر کے حجۃ الوداع کی تقریر کا تقابل انھیں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر سے کرنا چاہیے نہ کہ ساؤتھ افریقہ کی عملی صورت حال سے۔ و غیرہ ۔

مسٹر اسٹیو اسکلر کی مذکورہ نشاندہی بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید قومیں ہمارے مسلم رہنماؤں کے لیے نفرت اور حقارت کا موضوع بن گئیں ۔ یہ ذہن اتنا عام ہوا کہ مسلمانوں کی غیر سیاسی شخصیتیں بھی اس نفسیات سے محفوظ نہیں رہیں۔ اس کی ایک عبرت ناک مثال وہ ہے جس کو مولانا سعید احمد اکبر آبادی (۱۹۸۵ - ۱۹۰۸) نے نقل کیا ہے۔ مولانا ابو البرکات عبد الرؤف دانا پوری نے سیرت نبوی پر اپنی کتاب " اصح السیر " کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ چوں کہ طبقات ابن سعد کو ایک عیسائی نے ایڈٹ کیا اور چھاپا ہے اور اس نے ضرور کتاب کے اصل مخطوطہ میں ردو بدل کیا ہوگا۔ اس لیے میرے نزدیک وہ معتبر اور قابلِ استناد اصح السیر میں یہ بات پڑھ کر مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کی طرف رجوع کیا جن کی نظر مخطوطات پر بڑی وسیع اور عمیق ہے۔ مولانا اعظمی نے جواب

میں تحریر فرمایا کہ طبقات ابن سعد کا ایڈیشن جس مخطوطہ پر مبنی ہے، اس کو میں نے دیکھا اور مطبوعہ ایڈیشن اور مخطوطہ دونوں کا حرفاً حرفاً مقابلہ کیا ہے اور کہیں ایک حرف کا فرق بھی نہیں پایا ہے (ماہنامہ برہان، دہلی جون ۱۹۸۲)

اس نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ جدید اسلوب یا جدید معیار ادب کو سمجھیں جن کو پیدا کرنے والی خود یہی قومیں تھیں۔ جدید قوموں سے نفرت مسلمانوں کے لیے اس میں مانع ہو گئی کہ وہ جدید اسلوب کو سمجھیں اور اس میں مہارت پیدا کر کے لسان قوم میں اسلامی لٹریچر فراہم کریں۔

Printed page