Al-Risala · January 1987

Dr Wazir Singh

Al-Risala, January 1987, pp. 31–34

By Maulana Wahiduddin Khan

Head Dept. of Religious Studies Guru Gobind Singh Bhavan Patiala, Punjab 147 002 Office : 73261/88

۲۶ جون کی شام کو پہلی نشست ہوئی۔ اس نشست میں تعارف وغیرہ ہوا۔ باری باری ہر ایک شخص نے اپنا تعارف اور اپنے تجربات پیش کیے۔ اظہارِ خیال کی زبان صرف انگریزی تھی۔ متنوع تجربات نے اس مجلس کو کافی دل چسپ بنا دیا۔

ڈاکٹر راجن درورمانے بتایا کہ میں ایک مذہبی ہندو گھرانے میں پیدا ہوا۔ مگر تعلیم کے زمانہ میں غیر مذہبی قسم کا انسان بن گیا ۔ اس کے بعد دو بارہ جس چیز نے مجھے مذہب کی طرف لوٹایا وہ شاعری تھی۔ انھوں نے بتایا کہ میں مزید تعلیم کے لیے انگلینڈ گیا۔ وہاں میں نے ٹی ایس ایلیٹ کو پڑھا۔ ٹی ایس ایلیٹ ایک صوفی قسم کا شاعر ہے۔ وہ اپنے اشعار میں بار بار ویدانت کا حوالہ دیتا ہے ۔ ہندوستان میں ویدانت سے دور ہو چکا تھا مگر انگلینڈ میں ٹی ایس ایلیٹ نے مجھے دوبارہ ویدانت سے قریب کر دیا۔

میرا خیال ہے کہ یہی معاملہ ہر مذہب کا ہے ۔ اپنے مذہب کا اعتراف دوسروں کی زبان سے سننا ہر ایک کو بہت متاثر کرتا ہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ یہ دوسرا شخص ترقی یافتہ قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ مسلمانوں کی نسبت سے کرنے کا ایک اہم کام یہ ہے کہ غیر مسلموں نے اسلام کے اعتراف میں جو کچھ لکھا ہے ان کو جمع کر کے شائع کیا جائے ۔ یہ ایک نہایت قیمتی ذخیرہ ہے جو مختلف عالمی زبانوں میں موجود ہے ۔ اسی کے ساتھ نو مسلموں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے جو تاثرات لکھے ہیں وہ بھی بے حد قیمتی ہیں ۔ ان کو اگر جمع کر کے شائع کیا جاسکے تو دعوتی نقطۂ نظر سے نہایت جاندار لٹریچر تیار ہو جائے گا ۔

اس کانفرنس میں دو ملکوں کے پروفیسر صاحبان شریک تھے ۔ امریکہ اور ہندوستان ۔ امریکی پروفیسر مقابلہ زیادہ متحرک نظر آئے ۔ اس سلسلہ میں ایک دل چسپ واقعہ سنیے۔ کا انتظام اس طرح تھا کہ ایک بڑے ہال کے درمیان بہت سے میز چوکھٹے کی شکل میں بچھائے ان کے درمیان خالی جگہ تھی اور اس خالی جگہ کے بیچ میں کچھ گملے رکھے ہوئے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مائک کے تار سے ٹکرا کر ایک گملہ گر گیا ۔ اگلے لمحہ میں نے دیکھا ایک سفید فام امریکی گملے کے پاس موجود ہے اور اس کو دوبارہ سیدھا کر کے اپنی جگہ پر رکھ رہا ہے۔ سوچنے لگا کہ وہ کس طرح اندر داخل ہوا۔ کیوں کہ گملے کے چاروں طرف میزوں کی چو کور دیوار بنی

ہوئی تھی اور اس میں کہیں " دروازہ " نہ تھا۔ یہ راز اس وقت کھلا جب مذکورہ امریکی اپنا کام کر کے واپس ہوا۔ اس نے اپنی میز کے نیچے سے اکڑوں حالت میں اندر جانے کا راستہ نکالا تھا۔ قدیم طرز کے علماء کے اجتماع میں آپ شرکت کریں تو ہر شخص اس طرح بولے گا گویا اس کو حقیقت کا آخری علم حاصل ہے۔ مگر جدید طرز کے اہل علم کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے ان کے اجتماع میں ہر آدمی اپنے کو گھٹا کر پیش کرتا ہے۔ یہ دور جدید کا اسلوب ہے۔ یہاں بولنے والوں کی زبان سے بار بار اس طرح کے فقرے سننے میں آئے :

I may be wrong. I dont know whether I am correct. کانفرنس کا انتظام بہت اچھا تھا۔ اس کی تمام فنی تفصیلات امریکہ (نیویارک) میں طے کی گئی تھیں ۔ چنانچہ فنی اور عملی پہلوؤں کے اعتبار سے وہ معیاری حد تک منظم تھی۔ مگر کانفرنس میں چوں کہ ہندوستان کے لوگ بھی شریک تھے اس لیے بار بار اس میں " ہندوستانیت " کا اظہار ہوتا مثلاً اظہارِ خیال میں لوگ حدود کی پابندی بہت کم کرتے تھے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی شخص کو اظہار خیال کی دعوت دیتے ہوئے صدر کو یہ کہنا پڑتا تھا : Please be brief and pointed. براہِ کرم مختصر بولیے اور موضوع پر بولیے۔

اس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے تقریباً دو درجن افراد شریک ہوئے۔ ہر آدمی نے کسی متعین موضوع پر ایک مقالہ تیار کیا تھا۔ کارروائی کی صورت یہ تھی کہ ہر آدمی نے اولاً اپنا مقالہ کانفرنس کے امریکی دفتر میں بھیج دیا۔ وہاں منظور ہونے کے بعد مقالات کی فوٹو کاپی تیار کی گئی اور تمام شدہ کار کے نام ان کو پیشگی طور پر روانہ کر دیا گیا۔ ہر آدمی سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ تمام مقالات پڑھ کر آئے ۔

اجتماع میں صاحب مقالہ نے اپنا مقالہ پڑھ کر نہیں سنایا بلکہ ہر مقالہ کا ایک ریسپانڈنٹ کسی مقالہ کے بارہ میں سب سے پہلے یہی ریسپانڈنٹ بولتا تھا۔ انداز میں مقالہ پر تقریر کرتا تھا۔ ریسپانڈنٹ کی تقریر کے بعد عمومی تبادلہ خیال ہوتا تھا۔

میں مقالہ نگار تمام اعتراضات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتا تھا اور اعتراضات کا جواب

میرے مقالہ کے ریسپانڈنٹ ڈاکٹر آنند اسپنسر تھے ۔ اور خود مجھ کو ڈاکٹر راجندر ورما کے مقالہ کا ریسپانڈنٹ بنایا گیا تھا۔ اگلے صفحہ پر ایک فہرست دی جا رہی ہے ۔ اندازہ ہوگا کہ کانفرنس میں کتنے مقالہ نگار تھے اور کس شخص کو کس مقالہ نگار کا ریسپانڈنٹ بنایا گیا تھا۔

کانفرنس میں ایک صاحب نے گاندھی فلسفہ پر مقالہ پیش کیا ۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے گاندھی فلم کا ایک واقعہ بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس فلم کو پندرہ بار دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ گاندھیائی فلسفہ کو بہت خوبی کے ساتھ بتاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب دونوں طرف مار کاٹ ہورہی تھی۔ گاندھی جی نے برت رکھا ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جب تک مار کاٹ ختم نہیں ہوگی میں اپنا برت نہیں توڑوں گا۔ خواہ میں اسی حال میں مرجاؤں۔ اس دوران طرح طرح کے لوگ گاندھی جی سے ملنے کے لیے آئے ۔ ان میں سے ایک ہندو نوجوان بھی تھا۔ گاندھی جی کے برت نے اس کے ضمیر کو جگا دیا تھا۔ اس نے آکر کہا کہ باپوجی ، مجھے ایسا لگتا ہے میں نرک میں جاؤں گا۔ کیوں کہ میں نے ایک مسلمان بچہ کو مارا ہے۔ گاندھی جی نے جواب دیا کہ تم نرک میں جانے سے بچ سکتے ہو۔ تم ایسا کرو کہ ایک یتیم مسلمان بچہ کولے کر اس کی پرورش کرو اور اس کو ایک مسلمان کی حیثیت سے پال کر بڑا کرو ؛

Printed page