خلاصه
Al-Risala, July 1987, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر جو باتیں عرض کی گئیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان حریف اور رقیب کا رشتہ ختم کیا جائے اور ان کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کیا جائے۔ جس دن ایسا ہو گا کہ مسلمان اپنے آپ کو داعی اور دوسری قوموں کو مدعو سمجھنے لگیں، اسی دن مسلمانوں کے اندر وہ تمام اعلیٰ صفات پیدا ہو نا شروع ہو جائیں گی جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے احیاء کی جد وجہد کرنے کے لیے
اس سلسلہ میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ پر جوش تقریری الفاظ بول دینے کا نام نہیں ہے۔ یہ موجودہ دنیا میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کے لیے ہمیں دوسری قوموں سے اپنی تمام شکایتوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ دوسری قوموں سے محبت کی جائے خواہ وہ ہماری دشمن بنی ہوئی ہوں۔ دوسری قوموں کے لیے نیک دعائیں کی جائیں، خواہ وہ ہمارے خلاف سازش کر رہی ہوں۔ دوسری قوموں کو خیر خواہی کا موضوع بنایا جائے خواہ ہمارے نزدیک وہ ہماری بد خواہی میں مشغول ہوں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ وہ حق کے داعی بنیں اور حق کے داعی صرف وہ لوگ بنتے ہیں جو اپنے مدعو کو اپنے لیے محبت اور خیر خواہ ہی کا موضوع بنا چکے ہوں ۔