Al-Risala · July 1987

Islam and human brotherhood

Al-Risala, July 1987, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہیومن بردر ہڈ در اصل کچھ ہیومن ویلو ز (Human values) سے پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ہیومن ویلو ز تاریخ میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا ۔ مثلاً انسان کی آزادی اور مساوات کے اعلان کے سلسلہ میں اکثر روسو (۷۸ ، ۱-۱۲ ، ۱) کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ اس کی کتاب (سوشل کنٹریکٹ) کا پہلا جملہ یہ ہے : انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا

دیکھتا ہوں ۔ لیکن یہ جملہ در حقیقت اس قول کی نقل ہے جو روسو سے بارہ سو سال پہلے حضرت عمرؓ کی زبان سے اس وقت نکلا تھا جب کہ انھوں نے اس نظریہ کو واقعہ بنایا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میں مصر کے گورنر عمرو بن العاصؓ کے لڑکے نے مصر کے ایک قبطی کو مارا اور اس کی تحقیر کی۔ حضرت عمرؓ نے گورنر اور ان کے بیٹے کو مدینہ بلایا اور قبطی کے ہاتھ میں کوڑا دے کر کہا کہ جس نے تمہیں مارا ہے تم بھی اس کو مارو ۔ چنانچہ اس نے مارا ۔ آخر میں حضرت عمرؓ نے گورنر کو مخاطب کرنے ہوئے کہا: اسے عمرو، تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنا لیا حالاں کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا (یا عمرو، متی تعبدتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احراراً)

۲۶ فروری کو ۱۰ بجے ملاقات کی ایک نشست ہوئی۔ یہ نشست محبوب اسٹوڈیو کے اندر ہوئی۔ اس نشست میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک تھے۔ زیادہ تر گفتگو سوال و جواب کے انداز میں ہوئی۔ میں نے خصوصیت کے ساتھ یہ بات کہی کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل المیہ یہ ہے کہ ان کے اندر خارجی طرزِ فکر پیدا ہو گیا ہے۔ ہر آدمی کسی دوسرے کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف لکھنے اور بولنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ طرزِ فکر غیر عقلی بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر داخلی طرزِ فکر پیدا کیا جائے ۔ خارجی طرزِ فکر صرف شکایت اور احتجاج کا ذہن پیدا کرتا ہے جب کہ داخلی طرزِ فکر سے عمل کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ۔

ایک صاحب نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ایک بزنس منیجر کے اندر سب سے زیادہ جو چیز دیکھی جاتی ہے وہ یہ کہ اس کے اندر فیصلہ لینے (Decision making) کی صلاحیت ہو۔ یہ بلاشبہ بہت اہم بات ہے اور نہ صرف بزنس میں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی اہمیت ہے ۔

اس سلسلہ میں یہاں ایک واقعہ معلوم ہوا جو اس اصول کی بہت اچھی وضاحت کرتا ہے۔ کتابوں کی تجارت کی دنیا میں آج کل ایک طریقہ بہت رائج ہے ۔ وہ یہ کہ کسی مقبول کتاب کو لے کر اس کی نقل کو چھپوا لینا اور اس کو بازار میں فروخت کرنا۔ اس کو عام طور پر قراتی ایڈیشن (Pirate edition) کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ کتاب میں اپنا نام اور پتہ نہیں دیتے ، اس لیے ان کو پکڑنا بے حد مشکل ہوتا یہ طریقہ عام طور پر زیادہ چلنے والی ناولوں کے سلسلہ میں اختیار کیا جاتا ہے ۔ چند سال ہوئے امریکہ کے مشہور اشاعتی ادارہ پینگون کا چیرمین جاپان جاتے ہوئے بمبئی سے

وہ بمبئی کے تاج ہوٹل میں ٹرانزٹ مسافر کے طور پر ایک دن کے لیے رکا تھا۔ کتابوں کے بازار میں گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا چھپا ہوا ایک ناول بمبئی کے بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ یہ کتاب ابھی بالکل حال میں چھپی تھی اور ابھی تک وہ امریکہ سے یورپ کے بازار میں بھی نہیں مگر وہ بمبئی کے بازار میں بک رہی تھی۔ یہ دراصل کتاب کا قزاقی ایڈیشن تھا۔ امریکہ میں اس کی طباعت کے فوراً بعد اس کا ایک نسخہ حاصل کیا اور اس کا فوٹو لے کر چند دن کے اندر اس کو چھاپا اور اس کو بمبئی کے مارکیٹ میں پہونچا دیا ۔

یہ دیکھ کر پنگوئن کے چیرمین نے فوراً بمبئی میں اپنی اقامت بڑھائی۔ اس نے یہاں کے پبلشرز سے بات چیت کی۔ اس کے بعد ایک پبلشر سے معاہدہ کر لیا۔ اس نے یہ انتظام کیا کہ جو کتاب وہ امریکہ میں چھاپے اس کی کاپی فوراً وہ بمبئی کے پبلشر کو بھیج دے ۔ وہ اس کو فوراً چھاپ کر بمبئی کے بازار میں پہونچا دے۔ یہ طریقہ نہایت کامیاب رہا۔ امریکہ کے دوسرے پبلشروں نے بھی بعد کو اسی کو اختیار کیا۔ یہاں تک کہ قزاقی ایڈیشن چھاپنے والوں کی جڑ کٹ گئی ۔ بمبئی سے مجھ کو بنارس آنا تھا اور وہاں سے پھر اعظم گڑھ کا سفر کرنا تھا۔ بمبئی سے بنارس کا سفر ۲۶ فروری کو فلائٹ نمبر ۱۹۵ کے ذریعہ ہوا۔ درمیان میں موسم بہت خراب ہو گیا ، اعلان ہوا کہ تمام مسافر کرسی کی پیٹی باندھ لیں۔ اچانک مسافروں میں سنسنی پھیل گئی۔ کیوں کہ جہاز اس طرح نیچے اوپر ہونے لگا تھا جیسے ایک ایسی سڑک پر گاڑی دوڑ رہی ہو جس پر جگہ جگہ گہرے گڑھے کھود دیئے گیے ہوں۔ پر کوئی دوڑتی ہوئی کار اگر اتنا زیادہ نیچے اوپر ہو جتنا جہاز ایسے موقع پر نیچے اوپر ہوتا ہے تو کار الٹ جائے گی اور سفر کا جاری رکھنا نا ممکن ہو جائے گا۔ مگر ہوائی سفر میں بڑے بڑے " فضائی گڑھوں " کے با وجود سفر جاری رہتا ہے۔ یہ بھی ایک خدائی مصلحت ہے ۔ وہ انسان کو موت کے گڑھے میں ڈالتا ہے اور پھر اس سے نکال کر اسے موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے اور آئندہ کے لیے زیادہ عنایات کا مستحق ثابت ہو ۔

۲۶ فروری کی رات کو ہم اعظم گڑھ پہونچے۔ یہاں ۲ مارچ کی صبح تک ۹ بدرقہ ، اعظم گڑھ میں میرا قیام رہا۔ اعظم گڑھ اتر پر دیش کا ایک شہر ہے۔ اس کو ۱۶۶۵ میں راجہ اعظم خاں نے بسایا تھا۔ انھیں کے نام پر وہ اعظم گڑھ کہا جانے لگا۔ ۱۹۱۰ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۴۰ ہزار تھی۔

اب اس کی آبادی تقریبا دگنا ہو چکی ہے۔

۲۷فروری کو نماز جمعہ جامعۃ الرشاد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز جمعہ سے پہلے ایک مختصر تقریر کی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ایمان واسلام کی حقیقت کیا ہے۔ ۲۸ فروری کو دوبارہ جامعۃ الرشاد میں ایک یہ پروگرام عصر کی نماز کے بعد تھا۔ اس موقع پر میں نے اساتذہ اور طلبہ کے سامنے ایک اس تقریر میں زندگی کی تعمیر سے متعلق کچھ باتیں عرض کی گیں۔

۲۷ فروری کو نماز ظہر کے بعد بلریا گنج (اعظم گڑھ) میں ایک پروگرام تھا۔ یہاں جامعۃ الفلاح کے طلبہ اور اساتذہ کے اجتماع میں ایک تقریر کی ۔ اس تقریر کا موضوع تھا: اسلامی دعوت کے جدید اس تقریر میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس موضوع کی وضاحت کی گئی۔ ایک طالب علم نے آٹوگراف کی فرمائش کی۔ میں نے ان کی کاپی پر یہ فقرہ لکھ دیا :

Printed page