تمام علوم محنت کی درس گاہ میں پڑھائے جاتے ہیں
Al-Risala, July 1987, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح مختلف طالب علموں کی نوٹ بک پر مختلف فقرے تحریر کیے۔ ایک طالب علم کی نوٹ بک پر حسب ذیل فقرہ لکھا :
سب سے مشکل کام اپنے آپ کو جاننا ہے اور سب سے آسان کام دوسروں کو جاننا اعظم گڑھ کے دو روزہ (۲۷۔ ۲۸ فروری) قیام میں بہت سی پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ہمارا آبائی وطن اگرچہ قریب کے ایک گاؤں میں تھا ۔ مگر بعد کو ہمارے خاندان کے لوگ شہر منتقل ہو گئے۔ سب سے پہلے میرے چچازاد بھائی اقبال احمد سہیل اعظم گڑھ شہر میں آئے۔ وہ یہاں کے کامیاب ترین وکیل تھے ۔ ۱۹۴۰ کے لگ بھگ زمانہ میں انھوں نے فورڈ موٹر کار منگوائی تو یہ شہر میں دوسری موٹر کار تھی۔ پہلی کار راجہ ہرکھ چند کی تھی اور دوسری کار ہمارے بھائی صاحب کی۔ یہ فورڈ کا ماڈل ۴۳ ۱۹ میں میرے بھائی عبد العزیز خاں صاحب نے اعظم گڑھ میں کاروبار شروع مگر اعظم گڑھ ابھی تک "چھوٹی لائن" پر ہے۔ اس لیے یہاں تجارتی ترقی کے مواقع نسبتاً کم چنانچہ ۷۹ ۱۹ میں وہ الہ آباد منتقل ہو گئے۔
۴۰ ۱۹ میں غالباً پہلی بار میں اعظم گڑھ آیا۔ اس وقت کے بعض واقعات اب تک مجھے یاد میں نے دیکھا کہ شہر کے چوراہہر پر کچھ لوگ چائے فروخت کر رہے ہیں۔ وہ ایک پیسہ میں پانچ پیالی
پائے پلاتے اور اسی کے ساتھ چائے کی پتی کا ایک چھوٹا سا پیکٹ مفت دیتے تھے ۔ اسی طرح میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ دیا سلائی فروخت کر رہے ہیں اور یہ آواز لگا رہے ہیں :