دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں
Al-Risala, July 1987, pp. 36–25
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ سگریٹ تقسیم کرتے تھے ۔ وہ سگریٹ کا ذخیرہ اپنے ساتھ لیے رہتے اور جہاں کوئی مجمع دیکھتے، بہت سارا سگریٹ ان کے درمیان پھینک دیتے۔ لوگ ان سگریٹوں کو لوٹتے" اور ان کو تماشہ کے طور پر پیتے ۔
یہ اس زمانہ کی باتیں ہیں جو اس ملک میں نصف صدی پہلے پایا جاتا تھا ۔ اس وقت لوگ نئی چیزوں سے آشنا نہ تھے ۔ وہ انھیں خریدنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ چنانچہ تاجر طبقہ انھیں نہایت معمولی قیمت پر لوگوں کو دیتا ، بلکہ اکثر اوقات مفت دیتا۔ آج جب لوگ عادی ہوگئے ہیں تو آج حالات بالکل مختلف ہیں ۔
مدرسہ سے نکلنے کے بعد میں نے مختلف علوم کا جو مطالعہ کیا، اس کا ایک زمانہ اعظم گڑھ میں گزرا ہے ۔ یہاں میں انگریزی کتب کے لیے مہتا لائبریری جایا کرتا تھا، اور عربی کتب کے لیے کتب خانہ دار المصنفین ۔ یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہا ۔ مجھے یاد ہے کہ مہتا لائبریری میں جو کتا بیں پڑھنے کے لیے نکالتا تھا ان پر اکثر گرد جمی ہوتی تھی ۔ کیوں کہ سالہا سال سے کسی نے ان علمی کتابوں کو چھوا نہیں یہاں زیادہ تر لوگ اخبار پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔ علمی مطالعہ کے لیے آنے والا شاید اکیلا میں ہی تھا ۔
دار المصنفین میں مطالعہ کا ایک تذکرہ میری کتاب (تعبیر کی غلطی ) میں درج ہے ۔ مذکورہ کتاب کے دیباچہ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
یکم مارچ کو دار المصنفین دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ علمی ادارہ ۱۹۱۵ء میں مولانا شبلی نعمانی نے قائم کیا تھا ۔ اعظم گڑھ میں قیام کے زمانہ میں میں نے اس کے کتب خانہ سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے ۔ اس زمانہ میں انگریزی کی معلومات میں نے مہتا لائبریری سے حاصل کی تھیں ، اور عربی کی معلومات دار المصنفین کے کتب خانہ سے ۔
دس سال کے بعد یہاں کئی نئی چیزیں نظر آئیں۔ انھیں میں سے ایک چیز میوزیم ہے ۔
کے اندر بہت سی نادر چیزیں رکھی ہوئی ہیں ۔ فارسی کی ایک کتاب (مخطوطہ) ہے جس کا نام مونس الارواح ہے ۔ یہ جہاں آرا بیگم کی تصنیف ہے اور ۱۰۶۸ ھ میں سونے کی رنگ کاری کے ساتھ نہایت اہتمام کے ساتھ لکھی گئی تھی ۔ یہاں سب سے نادر کتاب یہی ہے ۔ جہاں آرا بیگم کے استعمال میں رہ چکی ہے ۔ لندن کی نمائش ۱۹۱۱ میں یہ کتاب ۱۵ ہزار روپیہ میں انشورڈ کر کے بھیجی گئی تھی ۔
اس میوزیم میں مولانا شبلی نعمانی کا مصنوعی پاؤں بھی رکھا ہوا ہے ۔ بندوق چل جانے سے مولانا شبلی کا پاؤں زخمی ہو گیا تھا جو بعد کو کاٹ دیا گیا ۔ اس وقت نواب بھاول پور نے خاص اہتمام سے لکڑی کا پاؤں تیار کرا کے بھیجا جس کو وہ آخر تک استعمال کرتے رہے ۔ کے واقعہ پر شعراء نے حسن تعلیل کے انداز میں بہت سے اشعار کہے تھے ۔ ان میں سے ایک قطعہ یہ تھا: :
شکسته پائی مقدر تھی سر نوشت میں بھی نہ ہاتھ آئے گا اب کچھ بھی ہاتھ ملنے سے عدم کی دور ہے منزل نہ جا سکیں گے حضور چلے گا قوم کا کام آپ کے نہ چلنے سے ہماری قوم کے شاعروں نے شکستہ پائی میں حسنِ تعلیل کے نکتے پائیے ۔ مگر ہماری قوم کے قائدین ملت کی شکست میں فتح کا پہلو دریافت نہ کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی ایک صدی کی مدت چیخ پکار کی سیاست کی نذر ہو گئی ، اس مدت میں کوئی دور رس مثبت کام نہ کیا جا سکا ۔ دار المصنفین میں سید صباح الدین عبدالرحمن صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے دار المصنفین کی تازہ مطبوعہ کتاب اسلام اور مستشرقین (پانچ حصے) تحفہ میں دیئے ۔ ۱۹۱۱ میں جنیوا یونیورسٹی کے ایک عیسائی پروفیسر نے مختلف اسلامی موضوعات پر سات لکچر دیئے تھے ۔ یہ لکچر فرانسیسی زبان میں تھے ۔ ان کا عربی ترجمہ اسی زمانہ میں بیروت سے شائع ہوا تھا ۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ان میں سے ایک لکچر کا خلاصہ ایک عربی رسالہ سے لے کر معارف میں شائع کیا تھا ۔ اس خلاصہ کو مذکورہ کتاب کی پانچویں جلد میں نقل کیا گیا ہے ۔
اس لیکچر میں کہا گیا ہے کہ اسلام ابتدا میں جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر جس تیزی سے دنیا میں پھیلا ہے اور اپنی اشاعت میں اس نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ بہت ہی حیرت انگیز
اس کے اسباب کی تفصیل میں تمام مورخین سخت حیران ہیں۔
اس سلسلہ میں صاحب لکچر نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان جس ملک میں گیے وہاں انھوں نے عام ہر دلعزیزی حاصل کی۔ وہ اس ملک یا قوم کے مانوس رسوم و عادات سے سکوت کرتے ہیں ، وہ ان کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ غلط مذہبی تخیلات اور مذہبی تہواروں سے چشم پوشی کرلیتے ہیں۔ اس طرح اس قوم کے افراد کو اسلام بظاہر کوئی نیا مذہب نہیں معلوم ہوتا۔ اور وہ اس میں رفتہ رفتہ جذب ہو جاتے ہیں (صفحہ ۶۰) اسی طرح صاحب لکچر نے لکھا ہے کہ چین میں یہ مشاہدہ ہوا ہے کہ پرجوش مسلمانوں نے شانگ ٹونگ کے ہیبت ناک قحط کے زمانہ میں دس ہزار بچوں کو خرید لیا، اور اسلامی تعلیم و تربیت نے ان بچوں کو مسلمان گھرانوں میں بدل دیا ۔ ___________ موجودہ زمانہ کے مسلمان تہذیبی تفریق میں اپنی زندگی کا راز تلاش کر رہے ہیں، قدیم مسلمانوں نے تہذیبی یگانگت میں اپنی زندگی کا راز دریافت کیا تھا۔ گاؤں کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اس علاقہ کے دیہاتوں کے احوال انھوں نے کہا کہ "ہمارے دیہات اب شہر ہورہے ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں باہر چلے گیے ہیں اور کافی پیسہ کما رہے ہیں۔ وہ لوگ جن کا حال پہلے یہ تھا کہ جسم پر پورے کپڑے نہیں ہوتے تھے۔ پاؤں جوتے سے خالی ہوتے تھے۔ اب انھوں نے کئی منزل کے پختہ مکانات بنا لیے ہیں۔ ان کے دروازے پر کار اور ٹریکٹر کھڑے ہوئے ہیں۔
اس طرح کی تفصیلات سن کر مجھے ایک حدیث یاد آگئی۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ قیامت کی نشانیاں بتاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ قیامت کی ابتدائی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھو گے کہ بے لباس اور ننگے پاؤں والے لوگ ایک دوسرے سے بڑھ کر اونچی عمارتیں بنائیں گے (وترى العراة الحفاة يتطاولون في البنيان) موجودہ دنیا کے احوال پر جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت اب قریب آچکی ہے۔ بظاہر لوگ اس طرح زندگی گزار رہے ہیں جیسے کہ وہ ان سے بہت دور ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قیامت لوگوں سے بہت قریب ہے ۔ اور بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ ان کے اوپر اس طرح پھٹ پڑے گی کہ وہ نہ اس کو روک سکیں گے اور نہ ان کے لیے یہی ممکن ہوگا کہ اس سے
بھاگ کر کہیں پناہ لے سکیں۔
اس علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں باہر گئے ہیں اور باہر کی کمائی کے نتیجہ میں کافی خوشحال ہو گئے ہیں۔ ایک صاحب نے بنک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف ضلع اعظم گڑھ میں ہر مہینہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپیہ باہر سے آرہا ہے۔ مگر گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ بہت کم لوگ ہیں جو پیسہ کا صحیح استعمال کر رہے ہوں ۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی گفتگو پولیس کے ایک آدمی سے ہوئی، اس نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم نے فلاں گاؤں سے ایک سال کے اندر پانچ لاکھ روپے وصول کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس زیادہ پیسے آگئے ہیں وہ جھگڑے فساد میں مبتلا رہتے ہیں ۔ اس طرح پولیس کو موقع مل جاتا ہے کہ وہاں پہونچے اور لوگوں سے پیسے وصول کرے ۔
یہ ایک مسلم گاؤں کا قصہ ہے ۔ عام طور پر ہمارے لیڈر مسلمانوں پر غیر مسلموں کے معاشی ظلم کی شکایت کرتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اپنی نادانیوں کے نتیجہ میں ہر روز اپنا جو معاشی نقصان کر رہے ہیں وہ دوسروں کے نام نہاد معاشی ظلم سے سیکڑوں گنا زیادہ ہے ۔ ایک صاحب نے الرسالہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا : الرسالہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے سبق نکالے جاتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ کی تعریف ادھوری تعریف ہے۔ تصنیفی کرشمہ نہیں، وہ ایک تربیتی جدوجہد ہے۔ الرسالہ کا مقصد لوگوں کے اندر یہ ذہن بنا نا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے واقعات سے سبق لیتے ہوئے زندگی گزاریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ غلہ اور سبزی سے انسان کے جسم کو غذا ملتی ہے۔ اگر غلہ اور سبزی اور دوسری کھانے کی چیزیں نہ ہوں تو آدمی کے لیے جسمانی فاقہ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اسی طرح گرد و پیش کے واقعات سے نصیحت لینا انسان کی روح کی خوراک ہے ۔ اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو تو وہ روحانی فاقہ میں مبتلا ہو جائے گا۔ اور روحانی فاقہ بلاشبہ جسمانی فاقہ سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے مختلف مسلم اداروں کے احوال بتائے ۔ انھوں نے بتایا کہ اکثر مسلم اداروں میں باہمی جھگڑے ہورہے ہیں ۔ عہدوں کی لامتناہی جنگ جاری ہے ۔ اس کے نتیجہ میں
ادارے ایک قسم کے ذاتی اکھاڑے بن کر رہ گئے ہیں اور ان کا اصل مقصد اور ان کی ترقی کا کام پسِ پشت چلا گیا ہے ۔
اس گفتگو کو سن کر ایک صاحب نے یہ کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر روزہ اور نماز کے بارہ میں تو جواب دہی کا احساس موجود ہے۔ مگر دوسرے معاملات میں ان کے اندر سے جواب دہی کا احساس ختم ہوگیا ہے ۔ اگر چند لوگ اکٹھا ہوں اور نماز کا وقت آجائے تو کوئی آدمی امامت کے لیے آگے نہیں بڑھے گا، ہر آدمی چاہے گا کہ وہ پیچھے رہے اور دوسرا شخص آگے بڑھ کر نماز پڑھائے ۔ مگر یہی لوگ جب نماز سے فارغ ہو کر لوٹتے ہیں تو صدر اور سکریٹری کے عہدے حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز روزہ کے معاملات میں وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں ۔ مگر دوسرے معاملات میں ان کا خیال یہ ہے کہ وہ جو چاہیں کریں ، ان کے لیے وہ خدا کے یہاں پکڑے نہیں جائیں گے ۔
میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ جہاں لوگوں کا مفاد نہ ٹکراتا ہو وہاں وہ دیندار ہیں۔ مگر جہاں انھیں دیندار بننے کے لیے مفاد کی قربانی کی قیمت دینی پڑے وہاں انھیں دیندار بننے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اعظم گڑھ میں ایک حکیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کی پریکٹس بہت کامیاب ہے۔ دوسوسے زیادہ مریض ان کے یہاں آتے ہیں ۔ ان سے گفتگو کے بعد مجھے ایک خاص سبق ملا۔ کہا کہ دوا کی قیمت بہت کم رکھی۔ بلکہ بہت سے مریضوں کا مفت علاج کرنے لگے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے مریضوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ۔ نیز ان کے مریض زیادہ دیر دیر تک ان کے یہاں ٹھہرنے لگے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے طبی تجربہ کا میدان بہت وسیع ہو گیا۔ ان کے الفاظ میں " ان کو راستہ ملنے لگا " انھوں نے بہت سے مایوس مریضوں کا کامیاب علاج کیا ۔ اس طرح ان کی شہرت بڑھنے لگی۔ یہاں تک کہ اب ان کے یہاں روزانہ مریضوں کا میلا لگار ہتا ہے۔
بعض اوقات ایک معمولی تدبیر میں کامیابی کا راز چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ مگر اکثر لوگ کامیابی کو کسی بہت غیر معمولی تدبیر کا کرشمہ سمجھتے ہیں ۔ ہندی کا ایک مقولہ بہت با معنی ہے : سادہارن گنوں سے آسا دھارن منش بنتے ہیں ۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ سگریٹ کے عادی تھے۔ ایک روز وہ باتھ روم میں گئے
تو انھیں محسوس ہوا کہ ان کے لڑکے نے باتھ روم میں چھپ کر سگریٹ پیا ہے ۔ وہ خود سگریٹ کی عادت کی وجہ سے اپنی صحت خراب کر چکے تھے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے لڑکے کی صحت بھی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ ہو جائے ۔ انھوں نے اپنی بیوی کو بتایا تو وہ بھی بہت پریشان انھوں نے کہا کہ دیکھو ابھی میں لڑکے سے بات کرتا ہوں ، اور ابھی یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ وہ سگریٹ کو چھوڑے گا یا نہیں چھوڑے گا ۔ اگر اس نے اپنی غلطی مان لی تو وہ اس کو چھوڑ دے گا ، اور اگر اس نے غلطی نہیں مانی تو وہ کبھی نہیں چھوڑے گا ۔
انھوں نے لڑکے کو بلایا ۔ انھوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے باتھ روم میں سگریٹ پیا تم دیکھ رہے ہو کہ میری صحت اس سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہے ۔ اب اگر تم سگریٹ پینا چاہتے ہو تو پیو ۔ مگر چھپ کر نہ پیو ۔ لڑکا جھوٹ نہیں بولا ۔ اس نے اقرار کر لیا کہ ہاں میں نے باتھ روم میں سگریٹ پی ہے ، اور اب میں کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد لڑکے نے ہمیشہ کے لیے سگریٹ چھوڑ دی ۔
آدمی اگر صاف طور پر کہہ دے کہ میں نے غلطی کی تو اس کے بعد اس کے اندر یہ عزم جاگتا ہے کہ وہ آئندہ غلطی نہ کرے ۔ اور اگر وہ اپنی غلطی کو نہ مانے تو اپنے غلط ہونے کا احساس اس کے اندر نہیں جاگے گا ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بدستور اپنی غلطی میں مبتلا رہے گا ۔ ایک لیڈر صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ الرساله بزدلی سکھاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ الرساله بزدلی نہیں سکھاتا ۔ یہ در اصل آپ جیسے لیڈر ہیں جو مسلمانوں کو بزدل بنا رہے ہیں ۔ کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر سے وہ چیز ختم کر دی ہے جس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے ۔ چنانچہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک بے صبر قوم بنے ہوئے ہیں ۔ ایسی باتیں جن پر اعراض کرنا چاہیے ، وہ غیر ضروری طور پر ان سے لڑجاتے اس کے بعد جب پولیس آکر مار پیٹ کرتی ہے تو وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ بزبان حال اس کا اعلان ہوتا ہے کہ " ہم بزدل ہیں " ۔
انھوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ایسے مواقع پر ہمیشہ مسلمان ہی مارے جاتے ہیں ۔ مگر پھر بھی اس کا ایک فائدہ ہے ۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کا جو پروٹسٹ ہے وہ رجسٹر رہتا ہے ۔ میں نے کہا کہ اگر اس کا مقصد
پروٹسٹ کو رجسٹر کرنا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ خود لیڈر لوگ آگے بڑھ کر گولیاں کھائیں۔ اگر لیڈر لوگ گولی کھائیں گے اور مارے جائیں گے تو پروٹسٹ زیادہ نمایاں ہوگا اور زیادہ موٹے حرفوں کے ساتھ رجسٹر کیا جائے گا۔ ابھی تک تو وہ صرف بار یک حرفوں میں رجسٹر کیا جا رہا ہے ۔ اس پر وہ ہنس کر کہ خاموش ہوگئے ۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ لیڈر جو الفاظ بولنے میں بہادر ہوں اور عمل کرنے میں غیر بہادر۔
یہاں انگریزی اخبار پائیر (The Pioneer) پڑھنے کو ملا۔ وہ یہاں کا علاقائی اخبار ہے جو ۱۲۳ سال سے نکل رہا ہے ۔ پہلے وہ صرف لکھنؤ سے چھپتا تھا۔ اب وہ لکھنؤ اور بنارس دونوں مقام سے چھپتا یہ و اخبار ہے جس کے متعلق اکبر الٰہ آبادی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا : بات وہ ہے جو پائیز میں چھپے اس شعر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۸۷۲ سے پہلے انگریزی اقتدار کے زمانہ میں مسلمان انگریزی چیزوں کو کتنی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ غالباً یہی مزاج وہ سب سے بڑا سبب ہے کہ قدیم زمانہ میں مسلمان انگریزی زبان اور انگریزی تہذیب کے بارہ میں حقیقت پسندانہ موقف اختیار نہ کرسکے ۔ صحافت اور جدید قوتوں کے حصول کے معاملہ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہی ہو گئے ۔ تہذیب کو حقیر سمجھنے کا مزاج مسلمانوں میں اتنا بڑھا کہ مفید چیزوں کا بھی مذاق اڑایا جانے لگا۔ مثلاً اکبر الہ آبادی کا ایک شعر ہے :
حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پانی پینا پڑا ہے پائپ کا یکم مارچ کو جناب علی حماد عباسی (پیدائش ۱۹۳۱) سے ملاقات ہوئی۔ وہ شبلی نیشنل کالج کے پرنسپل ہیں۔ انھوں نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔
انھوں نے بتایا کہ شبلی کالج میں طالب علمی کے زمانہ میں ان کے جو ساتھی تھے ، ان میں سے ایک عبد القيوم صاحب تھے ۔ بی اے کرنے کے بعد انھیں ملازمت کی فکر ہوئی اور وہ بمبئی چلے گئے ۔ ایک روز وہ بمبئی کے ایک پارک میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک آدمی وہاں ٹہلتے ہوئے آئے اور ان کے قریب بیٹھ گئے ۔ عبد القیوم صاحب اپنی بے روزگاری کی وجہ سے کافی پریشان تھے ۔ نووارد ان کے چہرہ پر پریشانی کے آثار دیکھ کر ان سے ہم کلام ہوا۔ دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا
خلاصہ یہ تھا :
What are you worried about? Nothing sir. I want a job, but I can't get it. Because I am a Muslim. What do you mean by it? If you have talent I will give you a job. Come and see me in my office tomorrow. یہ نووارد مہاراشٹر کا چیف الیکشن کمشنر تھا۔ عبد القيوم صاحب اگلے دن بتائے ہوئے پتہ پر چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ تم ٹائپ کرنا جانتے ہو، انھوں نے کہا کہ ہاں، انھوں نے معمولی ٹسٹ لیا اور اسی وقت ان کو اپنے دفتر میں ٹائپسٹ مقرر کر دیا ۔ اس وقت الیکشن کمیشن کے دفتر میں ، عورتیں ٹائپسٹ تھیں۔ عبد القيوم صاحب ۱۸ ویں شخص تھے جو وہاں ٹائپسٹ مقرر یہ واقعہ ۱۹۵۰ کا ہے۔
ڈاکٹر عبد القيوم صاحب کو مواقع ملے تو انھوں نے مزید تعلیم کی تدبیر شروع کی ۔ وہ پڑھتے رہے اور ترقی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ امریکہ کی پورٹ لینڈ یونیورسٹی میں پہو نچ گیے ۔ آج کل وہ وہاں کے ایک ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں ۔
اعظم گڑھ میں مولانا مجیب اللہ ندوی سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ندوہ کی طالب علمی کے زمانہ میں وہ کئی بار مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ملے تھے ۔ ایک بار وہ پندرہ دن تک مولانا مرحوم کے ساتھ دہلی میں تھے ۔ ان دنوں مولانا مرحوم کے خطوط کا جواب دینا ان کے انھوں نے بتایا کہ اس زمانہ میں جو منی آرڈر آتے تھے ، مولانا مرحوم اکثر منی آرڈر فارم پر یہ لکھوا کر اسے واپس کر دیتے کہ :