ہم کو مال کی ضرورت نہیں ، ہم کو جان کی ضرورت ہے
Al-Risala, July 1987, pp. 25–45
By Maulana Wahiduddin Khan
بظاہر ایک آدمی سوچے گا کہ یہ نادانی ہے ۔ جان تو ملی نہیں ، اور جو چیز مل رہی تھی اس کو واپس کر دیا۔ مگر یہ نادانی نہیں، یہ سب سے اونچی دانش مندی ہے۔ بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا مرحوم نے مال کو واپس کیا تو ان کو مال اور جان دونوں ملے ۔ اور جو لوگ مال واپس کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ، وہ مال اور جان دونوں سے محروم رہتے ہیں ۔
مولانا مجیب اللہ ندوی نے خدمت خلق کی اہمیت بتاتے ہوئے اپنا ایک تجربہ (۱۹۶۶) بیان کیا جو ان کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے :
" اعظم گڑھ میں جس کرایہ کے مکان میں میں بال بچوں سمیت رہتا تھا اسی کے سامنے ایک ہریجن لکڑی کی ٹال کرتا تھا اور اس کے گھر کے عورت بچے میرے یہاں آیا جایا کرتے تھے۔ چار بجے کے قریب میں دارالمصنفین سے واپس آیا تو دیکھا کہ ہریجن کی بیوی رو رہی ہے ۔ پوچھا کہ کیا بات ہے، بولی نرائن داس (اس کے لڑکے کا نام) کے باپ کو پولیس والے کوتوالی پکڑ لے گئے ہیں ۔ میں نے کہا گھبراؤ نہیں میں کوتوالی جاتا ہوں۔ عصر کی جماعت کا وقت قریب تھا، میں نے نماز پڑھی اور پھر آکر واقعہ پوچھا تو بتایا کہ ایک اباس کا کنٹرول کی دوکان سے ایک آدمی کے غلہ کی گٹھری لے کر بھاگا۔ پولیس نے اس کا پیچھا کیا وہ لڑکا گٹھری لکڑی کی ٹال پر پھینک کر چمپت ہو گیا۔ جو پولیس والا لڑکے کی تلاش میں نکلا تھا اس نے لڑکے کو تو پایا نہیں مگر گٹھری ٹال پر مل گئی اس لیے ان کو پکڑ لیا اور کوتوالی لے گیا۔ میں نے شیروانی پہنی اور رکشہ کر کے کوتوالی پہونچا۔ اس سے پہلے کبھی کوتوالی جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ میں ایک اجنبی کی طرح کوتوالی کے صحن میں ٹہلنے لگا۔ کوتوال صاحب کمرے سے باہر نکلے اور ایک سفید پوش آدمی کو ٹہلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ آپ کیوں ٹہل رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ آدمی جو حوالات کے قریب بیٹھا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا انھوں نے کہا کہ کیا کہنا ہے۔ میں نے صحیح واقعہ بیان کیا۔ ان کو میری بات پر یقین آگیا اور ڈانٹ کر ایک پولیس مین سے کہا کہ اس بے چارے کو کیوں بٹھارکھا ہے مولوی صاحب کے ساتھ کر دو۔ نے اسے رکشہ پر بٹھایا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آگیا۔ اس تھوڑی سی خدمت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بیس برس گزر جانے کے بعد بھی وہ ہریجن اور اس کے بچے مجھ سے ایسا معاملہ کرتے ہیں کہ جیسے میں نے کوئی بہت بڑا احسان کر دیا ہے۔ اس کے لڑکے کے پاس ہوتے ہیں تو میرا پیر چھونے آتے ہیں۔ ملتی ہے تو ممنونیت کے اظہار کے لیے کچھ تحفہ تحائف بھی لاتے ہیں ، وہ دوسروں سے کہتے ہیں کہ یہ دیوتا ہیں "
ایک صاحب سے میں نے کہا کہ اپنا کوئی خاص تجربہ بتائیے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میں ایک دیہاتی علاقہ میں سفر کر رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ ایک جگہ پہونچا تو وہاں تین آدمی لاٹھی لیے ہوئے
موجود تھے ۔ اتنے میں سامنے سے دو آدمی آگئے ۔ ان میں سے ایک شخص وہ تھا جس کو قتل کرنے کے ارادے سے یہ تینوں آدمی یہاں چھپے ہوئے تھے ۔ وہ آدمی جب وہاں پہنچا اور تین آدمیوں کو اسلحہ لیے ہوئے دیکھا تو اس نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ لوگ اس کو مارنے کے لیے آئے ہیں ۔ اس نے فوراً اپنے ساتھی کو آواز دی اور اپنا کرتہ اتار کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بلند آواز سے کہا : یہ کرتا لے جاکر میری ماں کو دیدے اور اس سے بول کہ میری قبر تیار رکھے۔ اس نے بلند آواز سے یہ جملہ کہا اور پھر کھڑے ہوئے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا : تم میں سے جس کو آنا ہے میرے مقابلہ میں آئے ، میں تیار ہوں ۔ اس کے بعد تینوں میں سے کوئی شخص آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ کے ساتھ واپس چلے گئے ــــ اکثر اوقات جرات کا مظاہرہ ہی دشمن کو زیر کرنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اخبارات ورسائل میں آپ کے خلاف بہت لکھا جارہا ہے ، پھر آپ ان کا جواب کیوں نہیں دیتے ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میں قرآن کے اس اصول پر عمل کر رہا ہوں کہ : واعرض عن الجاهلين (نادانوں سے اعراض کرو) میں اپنے ان ناقدین کی چیزیں برابر پڑھتا رہتا ہوں ۔ مگر اب تک کوئی ایسی بات نہیں ملی جس کا جواب دیا جائے ۔ اب تک ہمارے خلاف چھپی ہوئی تمام تنقیدیں محض بے معنی الفاظ کے مجموعے ہیں نہ کہ حقیقتاً وہ چیز جس کو علمی زبان میں تنقید کہا جاتا پھر آخر جواب دیا جائے تو کس بات کا جواب دیا جائے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے سفرناموں میں خود ستائی (Self-praise) ہوتی ہے ۔ کہا کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں ۔ ایک ہے خود ستائی اور دوسری چیز ہے بیانِ الرسالہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بیانِ واقعہ ہے نہ کہ خود ستائی ۔ اور بیانِ واقعہ میں کوئی بھی شرعی یا علمی قباحت نہیں ۔
۳مارچ ۱۹۸۷ کی صبح کو میں واپس دہلی پہنچا ۔