Al-Risala · January 1987

and raise him as a Muslim.

Al-Risala, January 1987, pp. 34–41

By Maulana Wahiduddin Khan

مقرر نے کہا کہ یہ واقعہ گاندھی جی کے فلسفہ کو بہت خوبی کے ساتھ تیار رہا ہے ۔ کانفرنس کے شرکا میں ایک خصوصی شخصیت ڈاکٹر شیشاگری راؤ کی تھی ۔ (کرناٹک) کے باشندے ہیں ۔ مگر عرصہ سے امریکہ میں رہ رہے ہیں ۔ وہاں وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ موجودہ کانفرنس کی کئی نشستوں میں انھوں نے صدارت کا فریضہ انجام دیا۔ ایک بار اتفاقاً ختنہ کا ذکر آگیا ۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہر مذہب میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو سمجھ سے بالا تر ہیں۔ انھیں میں سے اسلام کا ختنہ کا طریقہ بھی ہے۔ ڈاکٹر شیشاگری راؤ

For the World's Ali, Syed Ausaf Umarani, R. I. Bhaskar, Bhagchandia Jain Chirappanath, Antony K Devadoss, T. S. Dhalla, Homi B. Kareem, A. Abdul Khan, M. Wahiduddin Mahadevappa, N. G. Bryant, M. Darrol Verma, Rajendra D. Tulpule, S. G. Talib, G. S. Mahadaveppa, N. G. Devadoss, T. S. Ali, Syed Ausaf Kareem, A. Abdul Spencer, Anand Rothermund, Indira Talib, G. S. Sarmadee, Shahab Tulpule, S. G. Dhalla, Homi B. Umarani, R. I. Khan, M. Wahiduddin Verma, Rajendra D.

اس گفتگو کو سن رہے تھے ۔ بنداز وہ سمجھ نہ سکے کہ " ختنہ " کیا چیز ہے ۔ تاہم کچھ دیر کے بعد انھوں نے سمجھ لیا۔ انھوں نے کہا : آپ کی مراد غالباً Circumcision سے ہے۔ کہا گیا کہ ہاں۔ نے کہا کہ یہ تو بہت عمدہ چیز ہے ۔ میں نے خود اپناختنہ کروایا ہے۔ صحت کے اعتبار سے یہ طریقہ نہایت عمدہ ہے ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھی ختنہ کرا لیتے ڈاکٹر شیشا گری کی زبان سے یہ بات سن کر سب لوگ چسپ ہو گئے ۔

پارسی مذہب کے نمائندہ (ڈاکٹر دو می دھلا) نے کہا کہ پارسی مذہب ایک غیر تبلیغی مذہب ہے ۔ پارسیوں کا خیال ہے کہ اگر ہم دوسروں کا مذہب بدل کر انھیں اپنے مذہب میں داخل کریں تو اس سے ہمارے مذہب کی (Purity) متاثر ہو جائے گی ۔ اس طرح پارسی مذہب واحد مذہب ہے جو سماج کو غیر ضروری جھگڑوں سے بچاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارسی مذہب نے پارسیوں کے اندر غیر معمولی تعمیری استعداد پیدا کی ہے ۔ ہندوستان میں مذہبی تشدد نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پارسیوں کو موقع ملا اور انھوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں زیر دست حصہ لیا ۔ اس کے برعکس ایران میں بھی کچھ پارسی ہیں مگر وہاں مسلمانوں کے مذہبی تشدد کی وجہ سے پارسی ملکی خدمت کا کوئی نمایاں کام نہ کر سکے ۔

ہندو مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ " انسانی اخوت سب سے زیادہ ہندو ازم کے ذریعہ پیدا ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ ہندو ازم وحدت حقیقت میں یقین رکھتا ہے ۔ جب کہ دوسرے کئی مذاہب ثنویت کو مانتے ہیں ۔ اس طرح ہر مذہبی گروہ نے بطورِ خود ایک معیار بنا رکھا اور اس معیار کے خانہ میں اپنے آپ کو رکھ کر خوش ہیں کہ ہمارا مذہب سب سے زیادہ اعلیٰ مذہب ہے ۔ مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں کچھ مختلف نہیں ۔ انھوں نے بھی اپنے حسب حال کچھ معیار تلاش کر لیے ہیں اور یہ عقیدہ بنا کر خوش ہیں کہ ہمارا مذہب سب سے افضل مذہب ہے ۔ ہر ایک صرف اپنی بڑائی کو پا کر نازاں ہے ۔ خدا کی بڑائی کو پا کر سرشار ہونے والا کوئی نہیں ۔

اس سفر کے دوران بہت سی دل چپ ملاقاتیں ہوئیں ۔

ایک غیر مسلم اسکالر سے میں نے کہا کہ اصلًا تمام مذاہب ایک ہی تھے ۔ مگر بعد کے زمانوں

میں جو بگاڑ ہوا۔ اس نے اصلی مذہبی تعلیمات کو کچھ سے کچھ کر دیا۔ مثلاً انسان کے مقام کو لیجیے، ہندو عقائد میں انسان کو نیچی ذات اور اونچی ذات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ سارے انسان پیدائشی گنہگار ہیں۔ یہودیت میں خدا کا سارا انعام واکرام ایک خاص نسل (بنی اسرائیل ) کے لیے مخصوص ہے۔ مگر اسلام محفوظ مذہب ہے ۔ اس لیے اسلام میں کوئی ایسی چیز نہیں ۔ انھوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انسان کا احترام جو اسلام میں ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا۔

ایک ہندو پروفیسر سے توحید کے موضوع پر بات ہو رہی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ توحید کا تصور صرف اسلام کی خصوصیت نہیں ۔ توحید کا تصور ویدوں اور اپنشدوں میں بھی موجود ہے میں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ بات صحیح نہیں ۔ اسلام میں خدا کا تصور یہ ہے کہ وہ ہم سے الگ ایک مستقل ہستی رکھتا ہے ۔ جب کہ ویدوں کا تصور خدا ، ہندو شارحین کے مطابق " ادویت واد " ہے۔ یعنی یہ کہ خدا اور دوسری موجودات سب کے سب ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں ۔ جب کہ اسلام میں خالق الگ ہے اور مخلوق الگ ۔

میں نے کہا کہ ایک بار میں دہلی کے ایک اجتماع میں ایک ہندو عالم کی تقریر سن رہا تھا۔ جو اسی خاص موضوع پر تھی ۔ انھوں نے ہندو عقیدہ خدا کو واضح کرتے ہوئے کہا : سو دیر از نو ڈفرنس بٹوین جی او ڈی اینڈ ڈی او جی مذکورہ ہندو پروفیسر یہ سن کر مسکرائے اور خاموش ہوگیے ۔ بظاہر ان کی خاموشی اس بات کا اعتراف تھی کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ بطور واقعہ درست ہے ۔

ڈاکٹر مہندر سنگھ (ڈائرکٹر گرو نانک فاؤنڈیشن نئی دہلی ) سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ بابا گرو نانک کے یہاں وحدانیت کا جو تصور پایا جاتا ہے اس کا ماخذ کیا ہے۔ کہا کہ آج کل کچھ اسکالر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا ماخذ وید اور اپنشد ہیں۔ خالص علمی اعتبار سے یہ درست نہیں۔ میں نے کہا کہ گرو نانک کے یہاں واضح طور پر توحید (Monotheism) کا تصور ہے ، جب کہ وید اور اپنشد میں جو چیز پائی جاتی ہے وہ وحدت وجود (Monism) ہے ۔ اس لیے گرو نانک کا وحدانیت کا عقیدہ اسلام سے ماخوذ ہو سکتا ہے ، وہ

اپنشد سے ماخوذ نہیں ہو سکتا ۔ ڈاکٹر مہندر سنگھ نے میری بات سن کر کہا : I agree with your opinion. سردار جوگندر سنگھ نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے ، ان کا خاص موضوع مذاہب کا تقابلی مطالعہ ہے ۔ پہلے وہ ایک سرکاری ملازمت میں تھے ۔ ریٹائر ہونے کے بعد اب وہ ایک انگریزی ماہنامہ کے ایڈیٹر ہیں ۔ ان سے موجودہ سماجی بگاڑ پر گفت گو ہوئی ۔ کہا کہ اس عمومی بگاڑ کوقانون سازی کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ بگاڑ مزاجوں کے بگاڑ سے آیا ہے اور مزاجوں کی اصلاح سے ہی اس کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس بگاڑ کا خاص سبب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سے جواب دہی (Accountability) کا احساس ختم ہو گیا ہے ، اب اصلاح کی واحد شکل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دوبارہ یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں بالآخر انھیں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے۔ سردار جوگندر سنگھ نے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔

پروفیسر وزیر سنگھ (پٹیالہ یونیورسٹی) سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں موجودہ گڑبڑ کے باوجود گیہوں کی پیداوار پچھلے سالوں سے زیادہ ہوئی ہے یہ سکھ قوم کی انوکھی خصوصیت ہے کہ ایک طرف وہ تشدد میں جنون کی حد تک پہنچ گئے ہیں ، دوسری طرف وہ اپنے کھیتوں اور فارموں پر کام کر کے بدستور زبردست پیداوار حاصل کر رہے ہیں ۔ تاہم پروفیسر وزیر سنگھ نے تسلیم کیا کہ صنعتی پیداوار میں فرق پڑا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صنعت کو چلانے کے لیے باہر کے افراد بھی درکار ہوتے ہیں اور موجودہ گڑبڑ کی وجہ سے باہر کے لوگوں کی آمد پر کافی اثر پڑا ہے ۔

ایک غیر مسلم اسکالر نے بڑے زور و شور کے ساتھ یہ نظریہ پیش کیا کہ ہم کو ہر مذہب کا احترام کرنا چاہیے ۔ حتیٰ کہ ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ ہر مذہب میں سچائی ہے ۔ اس کے بعد ۲۲۷ جون کو جمعہ کا دن تھا ۔ میں دوپہر کو ہوٹل سے نکل کر مسجد کے لیے روانہ ہوا تو اتفاق سے مذکورہ اسکالر مل گئے ۔ جب میں نے بتایا کہ مسجد میں نماز کے لیے جا رہا ہوں تو ان کی زبان سے نکلا : کیا مسجد ہی میں خدا ہے ، یہاں خدا نہیں ۔

میں نے کہا کہ آپ حضرات اپنی باتوں میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ورنہ آپ اس کی حقیقت بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ مسجد میں باجماعت نماز اس لیے ادا نہیں کی جاتی کہ وہاں خدا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی عبادت کے لیے کوئی نہ کوئی مشترک جگہ مقرر کرنی ہوگی۔ اپنی کانفرنس کے لیے آپ نے ایک ہال کو مخصوص کیا ہے۔ اگر ایک ہال متعین نہ کیا جائے تو مشترک اجتماع کیسے ہو سکتا ہے ۔

اس زمانہ کا ایک عجیب مسئلہ تخصص (Specialization) ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر عالم صرف " جزو " کا عالم ہے ۔ " کل " کا کوئی عالم نہیں ۔ اس کی توجیہہ یہ کی جاتی ہے کہ کل کا علم بے حد مشکل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جزو کا علم اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ کیوں کہ ہر جزو اپنے کل سے اس طرح وابستہ ہوتا ہے کہ جزو اور کل کے درمیان نسبت کو جانے بغیر تنہا جزو کو سمجھنا بے حد دشوار ہے ۔

میں ایک سکھ اسکالر سے ملا۔ ان سے میں سکھ مذہب کی بعض بنیادی باتوں پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے سکھ ہسٹری پر اسپشلائز کیا ہے ، اس لیے میں آپ کے سوالات کا جواب نہ دے سکوں گا۔ اس کے بعد میں دوسرے سکھ پروفیسر سے ملا۔ انھوں نے کہا کہ میں سکھ فلاسفی کا طالب علم ہوں۔ اور آپ کے سوالات کا تعلق سکھ تھیالوجی سے ہے ۔ میں اس پر گفتگو کے لیے زیادہ موزوں نہیں ۔ پھر میں نے کہا کہ کسی ایسے شخص کا نام بتائیے جو سکھ تھیالوجی پر ایکسپرٹ کی حیثیت رکھتا ہو ۔ انھوں نے کچھ دیر سوچا۔ اس کے بعد ایک سکھ عالم کا نام لیا اور کہا : ” وہ سکھ تھیالوجی کے مستند عالم ہیں “ میں ان سے مذکورہ بزرگ کا پتہ پوچھنے والا تھا کہ انھوں نے کہا ” مگر افسوس کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے ۔ ایک مرتبہ میں ہوٹل میں چپ چاپ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک پروفیسر مجھ کو کئی بار اس طرح خاموشی کی حالت میں دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :

You are observing what is called in Buddhism 'thundering silence.' آپ اس حالت میں ہیں جس کو بدھزم میں پر شور خاموشی کہا جاتا ہے ۔

امریکہ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا نام اسٹیو سکر ہے۔

(Steve Sklar) ہے ۔ وہ اسلام سے متاثر تھے مگر وہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں سے سخت نالاں تھے ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کئی مشہور مسلم مصنفین کے نام لیے اور کہا کہ میں نے ان کی کتابوں کے انگریزی ترجمے پڑھے ہیں ۔ مگر یہ کتابیں مجھے دعوتی نقطہ نظر سے کوڑا (Rubbish) معلوم ہوئیں ۔

میں نے پوچھا کہ ان کتابوں کے بارہ میں آپ کی اتنی سخت رائے کیوں ہے ۔ جواب میں انھوں نے کئی باتیں بتائیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان کتابوں میں اکثر اسلام کا مقابلہ مغربی تہذیب سے کیا جاتا ہے ۔ میں مغربی تہذیب کا وکیل نہیں ہوں ۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں نے تقابل کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ سراسر غیر علمی ہے ۔ مثلاً ان کتابوں میں عام طور پر آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کیا گیا ہے ۔ اسلام کی نمائندگی کے لیے تو قرآن و حدیث کا کوئی اقتباس لے لیا گیا ہے ۔ اور مغرب کی نمائندگی کے لیے اس کا کوئی عملی واقعہ پیش کیا گیا ہے ۔ یہ برابری کا تقابل نہیں ۔

آپ کو تقابل کرنا ہے تو آئیڈیل کا تقابل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے کیجیے ۔ مثلاً اسلام میں حقوق انسانی کو بتانے کے لیے اگر آپ خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ پیش کر رہے ہیں تو مغرب میں حقوق انسانی کے تصور کو بتانے کے لیے اقوام متحدہ کا چارٹر پیش کیجیے ۔

انھوں نے کہا کہ ان کتابوں میں اگر کہیں عمل کا تقابل عمل سے ہے تو وہاں بھی ایک غلط قسم کی تعمیم (Generalization) پائی جاتی ہے ۔ وہاں یہ کیا گیا ہے کہ اسلام کی تاریخ سے تو ایک اچھا واقعہ چن لیا گیا ہے اور اس کو اسلام کی عمومی حالت بتایا گیا ہے ۔ مغربی معاشرہ سے ایک برا واقعہ تلاش کر کے لیا گیا ہے اور اس کو اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا یہی مغرب کی عام حالت ہو ۔ حالاں کہ یہ دونوں ہی باتیں واقعے کے خلاف ہیں ۔ انھوں نے الرسالة (انگریزی) کے کچھ شمارے دیکھے ۔ انھوں نے اس کو بہت پسند انھوں نے کہا کہ جس انداز میں آپ اسلام کو پیش کر رہے ہیں اگر اس انداز میں اسلام کو اہل مغرب کے سامنے لایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور ان کو متاثر کرے گا ۔

ڈاکٹر اوصاف علی صاحب خالص علمی مزاج کے آدمی ہیں ۔ مطالعہ وسیع ہے اور انگریزی پر بخوبی قدرت حاصل ہے ۔ ان سے بہت دل چسپ ملاقاتیں ہوئیں ۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایک کتاب الکلام کے بارہ میں چھپی ہے جس کا نام ہے :

Printed page