Al-Risala · August 1987

دو قسم کے انسان

Al-Risala, August 1987, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ ولی الذین آمنوا یخرجہم من اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا، وہ ان کو اندھیروں الظلمات الى النور والذین کفروا سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے ۔ اور جن لوگوں اوليائهم الطاغوت يخرجونهم نے انکار کیا ان کے دوست شیطان ہیں، وہ ان من النور الى الظلمات اولئك اصحاب کو اجالے سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے النار هم فيها خالدون ۔ یہ آگ والے لوگ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ (البقره ۲۵۷) رہیں گے۔

دنیا میں ہمیشہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا اعتماد خدا پر ہو، جو اللہ کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جانتے ہوئے اس کی روشنی میں اپنا راستہ طے کرتے ہوں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کا اعتماد غیر خدا پر ہو۔ جن کا حال یہ ہو کہ جب انھیں کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ خدا کے علاوہ دوسری دوسری باتوں کی بنیاد پر اپنی راہ متعین کریں۔

جو لوگ خدا کو اپنا ولی و مددگار بناتے ہیں ان کا ذہن خدا رخی بن جاتا ہے ۔ وہ ہر معاملہ میں خدائی انداز میں سوچتے ہیں۔ وہ اپنی تدبیروں سے زیادہ خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کے جذبات کا رخ انسان کے بجائے خدا کی طرف رہتا ہے ۔ وہ غصہ اور انتقام کے بجائے ہمیشہ صبر اور معافی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ اندھیرے سے روشنی کی طرف سفر کرنے والے لوگ ہیں ۔

جو لوگ خدا کو اپنا ولی نہ بنائیں ان کا ولی شیطان بن جاتا ہے ۔ ان کا ذہن ہمیشہ تخریب کاری کی طرف چلتا ہے۔ وہ سازش اور انتقام کے طریقوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو ان کا ذہن فوراً منفی تدبیروں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں ۔ ان کو کبھی روشنی میں آنا نصیب نہیں ہوتا ۔ لوگ ہیں جن کو شیطان نے اجالے سے اندھیرے کی طرف دوڑا دیا۔ اول الذکر گروہ کے لیے دنیا وآخرت میں کامیابی ہے ، دوسرے گروہ کے لیے دنیا و آخرت میں ناکامی۔

Printed page