قومی شریعت
Al-Risala, August 1987, pp. 11–15
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانہ کی بابت بہت سی پیشگی خبراں کی تھیں جو حدیث کی کتابوں میں جمع کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں جو روایات آئی ہیں ان کا ایک مجموعہ وہ ہے جن میں یہ پیشین گوئی دی گئی ہے کہ مسلمان بعد کے زمانہ میں ان طریقوں پر چلیں گے جو یہود و نصاری کے طریقے ہیں۔ یعنی وہ اپنی زبان سے اسلام کا نام لیں گے مگر عملاً ان کی روش وہ ہوگی جو یہود و نصاری کی روش اس سلسلہ کی ایک روایت یہاں نقل کی جاتی ہے :
عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَتَتَّبِعُنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ضرور سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا پچھلی امتوں کے پیچھے چلو گے، بالشت بالشت بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا حُجْرَ ضَبّ کہاور ہاتھ ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے لَتَبِعْتُمُوهُمْ - قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اَلْيَهُودُ بل میں گھسے ہوں تب بھی تم ان کی پیروی کرو وَالنَّصَارَى - قَالَ فَمَنْ ۔ ہم نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا اس (اخرجه البخاری ومسلم) سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ آپ نے فرمایا اور کون۔
قرآن میں یہود کی بہت سی "سنتیں" بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک سنت وہ ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ میں آیا ہے ۔ متعلقہ آیات کا ترجمہ یہ ہے :
اور جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے ۔ اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو ۔ پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو۔ اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو ، ان کے مقابلہ میں ان کے دشمنوں کی مدد کرتے کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ ۔ پھر اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آتے ہیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہو ۔ حالاں کہ خود ان کا نکالنا تمہارے اوپر حرام تھا ۔ کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو ۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا
ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے۔ اور اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں جو تم کر رہے ہو۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی پس نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مدد پہنچ سکے گی (البقرہ ۸۲۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ قدیم مدینہ میں دو مشرک قبیلے آباد تھے۔ ایک کا نام اوس اور دوسرے کا نام خزرج تھا۔ دوسری طرف مدینہ اور اطراف مدینہ میں تین یہودی قبیلے تھے۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ ۔ اوس اور خزرج کا حال یہ تھا کہ ان کے درمیان اکثر جنگ جاری رہتی تھی۔ گویا قدیم مدینہ میں دو مشرکانہ محاذ قائم تھے ۔ ایک اوس کا محاذ، اور دوسرا خزرج کا محاذ یہودی قبائل ان سے الگ نہ رہ سکے ۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کے محاذ میں شامل ہو گئے۔ بنو قریظہ قبیلہ اوس کے محاذ میں ، ٹھیک ویسے ہی جیسے موجودہ زمانہ میں ایک مسلم ملک روس کے کیمپ میں شامل ہو جاتا ہے اور دوسرا مسلم ملک امریکہ کے کیمپ میں ۔ یا جیسے ہندوستان میں کچھ مسلمان کانگریس کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کچھ مسلمان اپوزیشن کے ساتھ۔ اور پھر یہ مسلمان دو محاذوں میں بٹ کر آپس میں لڑتے ہیں ۔
مدینہ کے ایک مشرک محاذ اور دوسرے مشرک محاذ کے درمیان جب جنگ چھڑتی تو یہودی قبائل کے لوگ بھی دونوں طرف سے شامل ہو جاتے۔ اس طرح ایک یہودی قبیلہ دوسرے یہودی قبیلہ کے کے خلاف جنگ کرتا ۔ ایک یہودی دوسرے یہودی کو مارتا اور اس کو اس کی آبادی سے نکال کر جلا وطن کرتا ۔ یہ فعل یہودی شریعت کے سراسر خلاف تھا۔ کیوں کہ ان کو ان کے پیغمبروں کے ذریعہ جو احکام دیئے گیے ان میں واضح طور پر لکھا ہوا تھا کہ ایک یہودی پر لازم ہے کہ وہ دوسرے یہودی کے جان و مال کا احترام کرے۔ ایک یہودی دوسرے یہودی پر کوئی ظلم نہ کرے ۔
آپس کی لڑائی میں یہود اپنی شریعت کے احکام کو بھول جاتے ۔ مگر جب جنگ ختم ہو جاتی اور وہ دیکھتے کہ یہودیوں کی ایک تعداد گرفتار ہو کر مشرک قبائل (اوس یا خزرج ) کے قبضہ میں چلی گئی ہے اور وہ ان کو قیدی بنائے ہوئے ہیں تو اس وقت ان کی غیرت قومی جاگ اٹھتی۔ وقت وہ اپنی شریعت کا یہ حکم لوگوں کو سنانا شروع کرتے کہ " کوئی یہودی اگر غیر یہودی کے ہاتھ گرفتار ہو جائے تو اس کو فدیہ دے کر چھڑا لو" اب تقریریں ہوتیں ۔ قومی چندے جمع کیے جاتے ۔
یہودی قیدیوں کو مشرک قبائل سے فدیہ دے کر چھڑایا جاتا۔ اور پھر وہ فخر کے ساتھ اعلان کرتے کہ ہم نے موسوی شریعت کے فلاں حکم کے تحت ایسا کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۲۱۔ ان کے اس تضاد پر قرآن میں کہا گیا کہ تمہاری شریعت میں دو باتوں کا حکم تھا۔ ایک یہ کہ ایک یہودی دوسرے یہودی کو نہ مارے اور اس کو اس کے گھر سے نہ نکالے۔ تم نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ جرم کیا اور اس وقت تم کو اپنی شریعت کا حکم یاد نہ آیا۔ تمہاری شریعت میں دوسرا حکم یہ تھا کہ یہودی غیر یہودی کے قبضہ میں چلا جائے تو اس کو فدیہ دے کر چھڑاؤ۔ اس دوسرے حکم پر تم عمل کر ے ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ تمہارا عمل حقیقتًا قومی جذبہ کے تحت ہے نہ کہ دینی جذبہ کے تحت۔ اگر اس کا محرک دینی جذبہ ہوتا تو تم دونوں جگہ دینی احکام پر عمل کرتے۔ مگر جہاں مسئلہ خالص دینی تھا وہاں تم کو دین یاد نہ آیا اور جب مسئلہ قومی غیرت کا بن گیا تو تم کو دینی حکم یاد آ رہا ہے۔ ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں۔ کیوں کہ اللہ کے یہاں اندرونی جذبہ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے نہ کہ عمل کی ظاہری صورت کی بنیاد پر۔
اس بات کو لفظ بدل کر اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ معاملہ جب اپنی قوم کے دو افراد کے درمیان ہو تو چپ رہنا، اور جب معاملہ اپنی قوم اور غیر قوم کا بن جائے تو ہنگامہ کرنا اور خطرہ کی نفسیات جگا کر پُر شور تحریکیں چلانا، اس کا نام یہودی سنت یا یہودی روش ہے۔ یہودی آپس میں ایک دوسرے سے معاملہ کرتے ہوئے شریعتِ خداوندی کو پامال کرتے تھے، مگر ان کے رہنما اس کے خلاف کوئی جوش یہ انھیں تحفظ شریعت کا مسئلہ نظر نہ آتا۔ مگر جب یہودی کے اوپر غیر یہودی کوئی ظلم کرتا تو فوراً انھیں شریعت خطرہ میں نظر آنے لگتی۔ وہ اس کے خلاف دھواں دار تحریکیں چلاتے اور اپنی اس مہم کے حق میں شریعت الہی کے دلائل پیش کرتے۔
بدقسمتی سے یہودی کی یہ سنت آج مسلمانوں میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ آپس کی بے دینی اور نا انصافی کو دیکھتے ہیں مگر اس معاملہ میں وہ بالکل بے حس بنے رہ رہتے ان کی اسی بے حسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب یہ نا ممکن ہو گیا ہے کہ ان کے اندر داخلی نا انصافیوں پر کوئی بڑی تحریک اٹھائی جاسکے۔ البتہ غیروں کی نا انصافی کے معاملہ میں وہ انتہائی حساس ہیں ۔ ایسے کسی معاملہ کو لے کر صبح و شام میں ان کے درمیان ایک دھواں دار تحریک اٹھائی جاسکتی ہے۔
ہمارے جو رہنما فخر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں مسئلہ پر لاکھوں مسلمانوں کا مجمع اکٹھا کر لیا وہ بھول جاتے ہیں کہ جس مسئلہ پر انھوں نے لاکھوں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی ہے وہ غیر قوم کی ناانصافی کا مسئلہ تھا۔ یہی رہنما اگر داخلی ناانصافی کے مسائل پر مسلمانوں کو پکاریں تو مجھے یقین ہے کہ انھیں ایسے پرفخر کلمات بولنے کی خوش قسمتی حاصل نہ ہو سکے گی۔ غیر قوم کی ناانصافی کے عنوان پر اگروہ بھرے ہوئے پنڈال میں بولنے کا موقع پا رہے ہیں تو داخلی ناانصافیوں کے نام پر کیے جانے والے جلسہ میں انھیں رہنماؤں کو یقینی طور پر خالی پنڈال میں خطاب کرنا پڑے گا۔
پچھلے پچاس برس کے اندر مسلم لیگ سے لے کر مسلم ہاسٹل لاہور تک) بہت سی بڑی بڑی تحریکیں مسلمانوں نے اٹھائی ہیں۔ حتی کہ ان کے اٹھائے ہوئے گرد و غبار کے نتیجہ میں کبھی کبھی "زمیں شش شد و آسمان ہشت شد" کا منظر پیدا ہو گیا ہے۔ مگر یہ تمام تحریکیں وہ ہیں جو غیروں کی ناانصافی کے نام پر اٹھائی گئیں۔ ان میں سے کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں جو مسلمانوں کی داخلی ناانصافی کے نام پر اٹھائی گئی ہو۔ حالاں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ غیر اقوام مسلمانوں کے اوپر جو ظلم کر رہی ہیں اس سے بہت زیادہ بڑا ظلم وہ ہے جو مسلمان خود اپنے ہم قوموں پر ہر روز کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
ایک اسلامی ادارہ نے ایک شہر میں عمارت خریدی اور وہاں اپنی شاخ قائم کی۔ میں ایک مسلمان کو مقامی انچارج بنایا گیا۔ اس مسلمان نے امانت میں خیانت کی۔ اس نے خفیہ طریقہ پر ایک بوگس رجسٹری کرئی اور اس بوگس رجسٹری کے ذریعہ اس عمارت کو اپنے نام کرا لیا۔ یہ واضح طور پر غصب اور بددیانتی کا معاملہ تھا۔ اس کا علم مسلمانوں کو اور مسلم رہنماؤں کو ہوا۔ مگر ان میں سے کوئی شخص نہ تھا جو اس معاملہ میں دخل دینے کی ضرورت سمجھے۔
اس طرح کے معاملات آج ہر بستی اور ہر شہر میں پیش آرہے ہیں۔ ایک مسلمان موقع پا کر دوسرے مسلمان کی چیز پر قبضہ کر لیتا ہے ۔ مگر مسلم عوام اور مسلم رہنماؤں میں کوئی نہیں جو ان معاملات کو لے کر اٹھے۔ وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک حق دار کو اس کا حق نہ دلائے۔ طرف انھیں عوام اور رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ اگر انھیں اس کی اطلاع ملے کہ مسلم قوم کی عمارت پر غیر مسلم قوم کے کسی شخص نے قبضہ کر لیا ہے تو وہ فوراً اس کے خلاف متحرک ہو جاتے ہیں۔ وہ بستر مرض
سے اٹھ کر اس کے لیے دوڑ پڑتے ہیں ۔ مسلمان اور غیر مسلمان کا معاملہ ہو تو شریعت پر آنچ آنا انہیں گوارا لیکن اگر معاملہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو تو انہیں کوئی بے چینی نہیں ہوتی ، خواہ شریعت کے اعتبار سے وہ کتناہی زیادہ غلط کیوں نہ ہو۔
یہ عین وہی روش ہے جس کا الزام قرآن میں یہودیوں کو دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کی تصدیق ہے ۔ مسلمانوں کا مسلم ۔ مسلم مسئلہ میں چپ رہنا، اور مسلم ۔ غیر مسلم مسئلہ میں احتجاج اور شکایت کی مہم چلانا بلاشبہ یہودی سنت ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اصولی دین داری کے مقام سے گر کر قومی دین داری کے مقام پر پہونچ چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک جگہ متحرک ہوتے ہیں اور دوسری جگہ متحرک نہیں ہوتے ۔ ان کا اسلام اصولی اسلام ہوتا تو وہ دونوں جگہ یکساں طور پر متحرک ہوتے ، نہ کہ صرف اس جگہ جہاں معاملہ قومی نوعیت اختیار کر لے ۔
آج ہمارے عوام اور خواص دونوں یکساں طور پر اس یہودی سنت کی پیروی کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ غیر مسلم نا انصافی پر مہم چلانا اس وقت تک اللہ کی نظر میں بے قیمت ہے جب تک وہ مسلمان نا انصافی پر بھی اسی قسم کی مہم نہ چلائیں ۔ کیوں کہ اللہ کے نزدیک مسلمان کے اوپر مسلمان کا ظلم بھی اتنا ہی برا ہے جتنا کہ مسلمان کے اوپر غیر مسلمان کا ظلم ۔ اس قسم کی روش ان کی قومی شریعت میں خواہ کتنی ہی زیادہ اہم ہو، مگر الہی شریعت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ رازحیات ۲۹۲ صفحات ۴۵ روپیہ (مجلد)
اسلامی تعلیمات ۱۱۳ صفحات ۲۰ روپیہ تعبیر کی غلطی ۳۴۴ صفحات ۳۵ روپیہ