Al-Risala · August 1987

تاریخ دعوت

Al-Risala, August 1987, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔ مسلمانوں کی یہی حیثیت یہ متعین کر رہی ہے کہ بحیثیت امت ان کی ذمہ داری موجودہ دنیا میں کیا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام انجام دیں جس کے لیے پچھلے زمانہ میں رسول آیا کرتے تھے۔ رسول کا آنا بلاشبہ ختم ہو گیا۔ مگر رسول کا کام بلاشبہ جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ کارِ نبوت سے کم تر درجہ کا کوئی کام ان کی حیثیتِ امت کے تحقق کے لیے کافی نہیں

رسول کا کام کیا ہے ۔ رسول کا کام اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانا ہے۔ میں مبتلا لوگوں کو توحید کا پیغام دینا ہے ۔ جو لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں ، انھیں آخرت کے آنے والے دن سے باخبر کرنا ہے۔ ہر شخص کو یہ بتانا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ آزاد نہیں ہے کہ جو چاہے کرے۔ وہ خدا کے احکام کے ماتحت ہے۔ اسے پابند زندگی گزارنی ہے نہ کہ آزاد قرآن وسنت کی صورت میں جو علمِ ربانی محفوظ ہے اس کو تمام لوگوں تک اس طرح پہنچانا ہے کہ آخرت میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ میں اس سے بے خبر تھا۔

یہی امت مسلمہ کا اصل منصبی فریضہ ہے۔ مگر یہی وہ سب سے بڑا فریضہ ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ چھوڑے ہوئے ہیں۔ اس چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ صرف ایک ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ذہن پر ان کے قومی مسائل چھائے ہوئے ہیں۔ وجہ ہے کہ دعوتی مسائل ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔

عرب دنیا کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی ۔ دوران میں نے ان سے کہا کہ مسلمانوں کا اصلی فرض یہ ہے کہ وہ غیر مسلم اقوام تک اسلام کا پیغام انھوں نے فوراً جواب دیا : آج کے مسلمانوں کو تو خود اپنے مسائل سے فرصت نہیں، پھر وہ دوسری قوموں میں دعوت کا کام کس طرح کر سکتے ہیں ۔

مذکورہ جواب اس نفسیات کو بتاتا ہے جس کے تحت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے عمومی

دعوت کے کام کو یکسر چھوڑ رکھا ہے ۔ ان پر اپنے تحفظاتی مسائل کا غلبہ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت قوم ان کا وجود خطرہ میں ہے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ساری توجہ دفاع کے محاذ پر لگا دی ہے۔ یہ فکر ان کے اوپر اتنا زیادہ چھایا کہ دعوت کی ذمہ داریوں کا احساس ان کے اندر سے نکل گیا ۔ حتیٰ کہ بہت سے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دفاعی کام ہی کو " اسلامی دعوت " کا نام دے دیا ہے ۔

یہ سراسر غیر اسلامی اور غیر قرآنی ذہن ہے ۔ کیوں کہ قرآن کی رو سے مسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی خود اسی دعوتی کام سے وابستہ ہے ۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کا کام کریں تو خدا کی طرف سے ان کے قومی تحفظ کی بھی ضمانت ہے ۔ اور اگر وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ کریں تو ان کے قومی تحفظ کی بھی کوئی ضمانت نہیں ۔ ماضی کی تاریخ پہلی بات کا ثبوت ہے اور مسلمانوں کی حال کی تاریخ دوسری بات کا ثبوت ۔

Printed page