Al-Risala · August 1987

دعوت کے ذریعہ تحفظ

Al-Risala, August 1987, pp. 20–22

By Maulana Wahiduddin Khan

یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک اے پیغمبر ، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب من ربك وان لم تفعل فما بلغت کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ رسالته ـ والله يعصمك من الناس تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں ان الله لا يهدي القوم الكفرين پہونچایا ۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا

الّا یہ کہ منکر لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔

اس آیت کے شانِ نزول کے سلسلہ میں کئی روایتیں حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں ۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مجھ کو اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا تو میں نے اپنے اندر اس کے لیے تنگی محسوس کی ۔ اور مجھے خیال ہوا کہ لوگوں میں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں گے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کی جاتی تھی۔ حتی کہ یہ آیت اتری۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرہ سے سر نکالا اور فرمایا کہ اے لوگو واپس جاؤ ۔ کیوں کہ اللہ نے مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے (صفوة التفاسیر ، المجلد الاول ، صفحه ۳۵۵)

اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا رسول کے لیے حفاظت کا مسئلہ ہو تو اس کا الگ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں، دعوت کا عمل ہی اس کی حفاظت کا بھی ضامن ہے۔ اللہ کا یہ وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصلاً تھا اور آپ کی امت کے لیے یہ وعدہ تبعاً ہے۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے جس کی روشنی میں ہمیں اپنے معاملات کو دیکھنا چاہیے۔ دوسری اقوام کی طرف سے جب بھی اہل اسلام کے لیے حفاظت کا مسئلہ پیدا ہو تو اس کا سبب یہی ہوگا کہ امت نے دعوت الی اللہ کے فریضہ کو چھوڑ اور جب امت دعوت الی اللہ کے فریضہ کے لیے اٹھے تو اس کو یقین رکھنا چاہیے کہ بقیہ تمام خطرات اور اندیشے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے۔ بقیہ خطرات کے لیے الگ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام کیجئے، اور بقیہ تمام خطرات کے دفعیہ کی صورتیں اپنے آپ پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔

دعوت سے یہاں مراد غیرمسلموں میں دعوت ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا جو ابھی اللہ کے حلقۂ اطاعت میں داخل نہیں ہوئے ۔ قرآن میں دعوت یا تبلیغ کا لفظ جہاں بھی آیا ہے غیر مسلموں ہی میں دعوت پہنچانے کے لیے آیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر جو کام کرنا ہے اس کے لیے قرآن میں تذکیر، اصلاح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ الفاظ آئے ہیں۔ مسلمانوں کی دینی اصلاح کے کام کو مجازی طور پر دعوت اور تبلیغ کہا جاسکتا ہے، مگر دعوت اور تبلیغ کا لفظ اصلاً جس دینی کام کا عنوان ہے وہ غیر مسلم اقوام تک خدا کا پیغام پہنچانا ہے نہ کہ مسلمانوں کی داخلی اصلاح کرنا ۔

قرآن میں حضرت موسیٰ کے زمانہ کے ایک "رجل مومن " کا ذکر ہے۔ یہ فرعون کے دربار کا ایک شخص تھا جو اپنے ایمان کو بربنائے مصلحت چھپائے ہوئے تھا۔ مگر ایک وقت آیا جب کہ فرعون نے اپنے اس فیصلہ کا اعلان کیا کہ وہ حضرت موسیٰ کو قتل کر دینا چاہتا ہے۔ اس وقت یہ رجل مومن خاموشی کو برداشت نہ کر سکا۔ وہ حضرت موسیٰ کی حمایت میں بول پڑا اور فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے ایک پوری دعوتی تقریر کر ڈالی۔

یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ کیوں کہ فرعون نے جب حضرت موسیٰ کے ساتھ اپنی دشمنی

پوری طرح ظاہر کر دی تو اس کے بعد یقینی تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کی حمایت کرنے والے کے ساتھ بھی و ہی بر امعاملہ کرے گا جو وہ خود حضرت موسیٰ کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔ مگر رجل مومن نے تبلیغ حق کو دوسرے ہر پہلو پر ترجیح دی اور نہایت کھلے طور پر سچائی کا اعلان کیا۔ قرآن میں رجل مومن کی مفصل تقریر نقل کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے : فواقہ اللہ سیّات ما مکروا وحاق پھر اللہ نے اس کو ان لوگوں کی بری تدبیروں بِآلِ فرعون سوء العذاب ۔ سے بچالیا اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو المومن ۴۵ برے عذاب نے گھیر لیا۔

اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رجل مومن کو جو چیز سیئات ما مکروا" سے بچانے والی ثابت ہوئی وہ دعوت حق تھی۔ رجل مومن کے پاس صرف حق کی معرفت اور اس کی دعوت کا سرمایہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں فرعون کے پاس ہر قسم کی مادی طاقتیں تھیں۔ رجل مومن جب داعی بن کر کھڑا ہو گیا تو خدا کی حمایت اس کے ساتھ ہو گئی۔ فرعون اپنی ساری طاقتوں کے باوجود اس کے خلاف اپنے برے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکا۔ دعوت الی اللہ کے کام پر عصمت و حفاظت کا خدائی وعدہ بلاشبہ یقینی ہے۔ وعدہ کی تکمیل حقیقی دعوت ہی کے کام پر ہو سکتی ہے نہ کہ کسی اور کام پر۔ اگر ہم کوئی اور کام کریں اور اس کو "دعوت الی اللہ" کا عنوان دیدیں تو ہمیں ہرگز یہ توقع نہیں رکھنا چاہیے کہ خدا کا وعدۂ حفاظت ہمارے حق میں پورا ہو گا۔

Printed page