تاریخ کی تصدیق
Al-Risala, August 1987, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ حیرت انگیز طور پر اس قرآنی بیان کی تصدیق کرتی ہے۔ دور اول سے لے کر بعد کے زمانہ تک بار بار یہ واقعہ ہوا ہے کہ غیر مسلموں کی طرف سے اہل اسلام کے لیے حفاظت کا مسئلہ اور ہر بار جس چیز نے اس مسئلہ کو حل کیا وہ دعوت الی اللہ ہی کی طاقت تھی۔ دعوت کے ذریعہ حفاظت کی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ اہل اسلام خدا کی بات کو پوری طرح پہچانادیں۔ اس کے باوجود مخاطب انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت یہ معاملہ براہ راست خدا کا معاملہ بن جاتا ہے۔ خدا کی طرف سے خصوصی مدد آتی ہے جو اہل حق
کو غالب اور ان کے دشمنوں کو مغلوب کر دیتی ہے۔ حضرت ہود اور حضرت لوط کے واقعات اسی کی مثالیں ہیں۔
خدا کا دین ہر آدمی کی خود اپنی فطرت کی آواز ہے۔ دین حق کی دعوت دینا گویا آدمی کے دل کے دروازے پر دستک دینا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے اندر اگر کچھ بھی سنجیدگی ہو تو اس کا دل فطرت کی پکار کے آگے جھک جاتا ہے۔ اگر وہ باقاعدہ طور پر اس کو قبول نہ کرے تب بھی اس کے دل میں ایسے لوگوں کے حق میں نرم گوشہ پیدا ہو جاتا ہے جو خود اس کے دل کی دھڑکنوں کی زبان میں کلام کر رہے ہوں۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کم از کم انسانی اور اخلاقی سطح پر اسے ان لوگوں کی مدد کرنا چاہیے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ اسی نوعیت کی ایک مثال ہے ۔
تیسری شکل وہ ہے جس کو انتہائی شکل کہا جا سکتا ہے۔ یعنی مخاطب کا داعی کی بات سے اس حد تک متاثر ہونا کہ وہ اس پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو جائے ۔ یہ آخری صورت بھی تاریخ میں بار بار پیش آئی ہے اور جہاں یہ صورت پیش آجائے وہاں ہر قسم کا مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی تیسری صورت پیش آئی ۔ آپ کے ساتھ پیش آنے والی صورت اس نوعیت کی آخری کامل ترین مثال تھی ۔