Al-Risala · August 1987

ایک اعتراف

Al-Risala, August 1987, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹامس کار لائل ( ۱۸۸۱ء - ۱۷۹۵ء) نے اسلامی دعوت کی تسخیری قوت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے :

یہ بات بہت کہی گئی ہے کہ محمد نے اپنا مذہب تلوار کے ذریعہ پھیلایا۔ تلوار یقینا، مگر آپ تلوار کہاں سے لائیں گے ۔ ہر نیا فکر اپنے آغاز میں لازمی طور پر ایک کی اقلیت میں ہوتا ہے ۔ وہ ابتداء صرف ایک انسان کے دماغ میں آتا ہے ۔ میں صرف ایک آدمی اس کو ماننے والا ہوتا ہے ۔ تمام آدمیوں کے مقابلہ میں صرف ایک ایسی حالت میں اگر وہ ایک تلوار لے اور اس کے ذریعہ سے اپنے عقیدہ کو پھیلانے کی کوشش کرے تو اس کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔

من دونه )

آپ جب مکہ میں حق کا پیغام لے کر اٹھے تو آپ ایک فی دنیا کی اہلیت رکھتے تھے ۔ بہت جلد عرب کے ذہین اور صالح افراد کو آپ کے کلمہ (بالفاظ دیگر آپ کے فکر کی طاقت ) نے کھینچ لیا۔ اگرچہ ابتداً آپ کی شدید مخالفت کی گئی۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ سنجیدہ اور صاحب فکر افراد کے لیے آپ کا پیغام اپنے اندر مقناطیسی کشش رکھتا تھا۔

مکہ کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہیں۔ طفیل بن عمرو الدوسی کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ آئے ۔ قبیلہ کے معزز آدمی تھے ۔ قریش کے کچھ لوگ ان سے ملے اور کہا کہ یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک جادوگر آدمی ہے۔ تم ان کی بات نہ سننا اور ان سے دور رہنا۔ طفیل بن عمرو کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں ہیں۔ چنانچہ وہ وہاں گئے تو اپنے کانوں میں روئی ڈال لی تاکہ آپ کی آواز نہ سن سکیں ۔

بعد کو انہیں خیال آیا کہ میں خود ایک سمجھ دار آدمی ہوں۔ مجھے کان میں روئی ڈالنے کی کیا ضرورت ہے ۔ مجھے محمد کا کلام سننا چاہیے ۔ آخر میں کیوں ڈروں کہ میں ان کا کلام سن کر بھٹک وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور پورا قصہ انھیں بتایا۔ پھر کہا کہ آپ مجھے اپنا کلام سنائیے ۔ آپ نے طفیل بن عمرو کو قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ ہیں کہ خدا کی قسم وہ اتنا اچھا کلام تھا کہ اتنا اچھا کلام میں نے کبھی نہیں سنا تھا۔ وہ ایسا منصفانہ امر تھا کہ ویسے منصفانہ امر سے میں ابھی تک واقف نہیں ہوا تھا ( فلا واللہ ما سمعت قولاً قط احسن منه ولا امراً اعدل منه ) اس کے بعد طفیل بن عمرو اسلام کے حلقہ میں داخل ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب کام شروع کیا ، اس وقت وہاں شرک چھایا چنانچہ مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت شروع کر دی ۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کو طرح طرح سے ستایا جاتا۔ نبوت کے پانچویں سال آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم لوگ مکہ چھوڑ کر حبش چلے جاؤ ۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے دوبار حبش کی جانب ہجرت کی ۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد تقریباً ۲۰ ہے۔

کہ کے مشرکین کو جب یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ کے ساتھی حبش چلے گئے ہیں اور وہاں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں تو انھوں نے مشورہ کر کے اپنے دو آدمیوں (عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ) کوحبش کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے وہاں جا کر شاہ نجاشی اور اس کے درباریوں کو تحفے پیش کیے اور کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ اپنا آبائی دین چھوڑ کر تمہارے یہاں آگئے ہیں۔ ان کو ہمارے حوالے کر دو کہ ہم انھیں اپنے ساتھ واپس لے جائیں۔ یہ ایک طویل قصہ ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شاہ نجاشی کے درباری مشرکین مکہ کے وفد کی باتوں سے متاثر ہو گئے اور انھوں نے شاہ سے یہ سفارش کی کہ مسلمانوں کو دوبارہ مکہ واپس بھیج یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ کیوں کہ واپسی کا مطلب بھیڑیوں کے منہ میں واپس جانا تھا۔ مگر اس نازک لمحہ میں جو چیز مسلمانوں کے کام آئی وہ وہی " دعوت" تھی جس کو یہ بے سروسامان لوگ اپنے ساتھ لے کر وہاں گئے تھے۔

چنانچہ آخری مرحلہ میں یہ طے ہوا کہ مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوں اور بتائیں کہ وہ دین کیا ہے جو انھیں پیغمبر عربی سے ملا ہے ۔ اس وقت حضرت جعفر بن ابی طالب کھڑے ہوئے ۔ انھوں نے دربار میں ایک تقریر کی جو سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے بعد حضرت جعفر نے قرآن سے سورہ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس کو سن کر بادشاہ اور اس کے درباریوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ حتیٰ کہ بادشاہ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ مشرکین مکہ کا وفد جو تحفے لایا تھا وہ اسے واپس کر دیا جائے۔ اس نے مسلمانوں کو عزت کے ساتھ اپنے دربار سے رخصت کیا۔ ان کو امان دی اور مشرکین کے دونوں آدمی ذلیل ہو کر وہاں سے نکلے اور مسلمان وہاں اچھے مقام اور اچھے پڑوس میں ٹھہرے رہے (ورَدَّ المسلمين رداً كريماً وأمنهم وخرجا (عبد الله بن ابی ربیعہ وعمرو بن العاص) من عنده مقبوحين - فأقام المسلمون بخير دار مع خير جار)

Printed page