قبائل یثرب کا قبول اسلام
Al-Risala, August 1987, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام ایک فطری دین ہے۔ وہ ہر آدمی کے دل کے دروازہ پر دستک دیتا ہے۔
اگر کوئی نفسیاتی رکاوٹ حائل نہ ہو تو آدمی اس کو ماننے پر مجبور ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کی ایک تاریخی مثال مدینہ کے انصار (اوس اور خزرج) کا
مکی دور میں مدینہ سے ایک صاحب زیارت کعبہ کے لیے مکہ آئے۔ ان کا نام سُوید بن وہ نہایت با صلاحیت آدمی تھے۔ چنانچہ ان کی قوم ان کو الکامل کہتی تھی۔ میں ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت پیش سُوید نے کہا کہ آپ کے پاس شاید اسی قسم کی چیز ہے جو میرے پاس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکمت لقمان۔ آپ نے کہا کہ اس کو میرے سامنے پیش کرو۔ انھوں نے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اچھا کلام ہے۔ مگر میرے پاس قرآن ہے جو اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ پھر آپ نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انھیں سنایا۔ سُوید بن الصامت نے اس کو سن کر کہا : ان هذا القول حسن (بے شک یہ بہتر
اس کے بعد ابوالحیسر انس بن رافع مکہ آئے۔ ان کے ساتھ قبیلہ اوس کے چند اور افراد اس وقت اوس اور خزرج میں لڑائی چل رہی تھی۔ اور یہ لوگ خزرج کے مقابلہ میں قریش کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مکہ آئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی بابت سنا تو آپ ان کے پاس آئے۔ اور ان سے کہا کہ جس چیز کے لیے تم آئے ہو کیا اس سے بہتر چیز کی طرف تمہیں رغبت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیا چیز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انھیں سنایا۔ اس کے بعد مدینہ کے وفد کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ نے کہا۔ اے قوم ، خدا کی قسم یہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم
آتے ہو راے قوم هذا والله خير مـما جئتم له) تاہم اس وقت انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا اور مدینہ واپس چلے گئے ۔
اس کے بعد زیارتِ کعبہ کا زمانہ آیا اور عرب کے مختلف قبیلے مکہ آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان قبائل کے پاس گئے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ میں عقبہ کے پاس آپ کی ملاقات قبیلہ خزرج (مدینہ) کے چھ آدمیوں سے ہوئی ۔ جس میں اسعد بن زرارہ اور دوسرے لوگ شامل تھے ۔ ابتدائی گفتگو کے بعد آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ یہ لوگ مدینہ کے یہود سے یہ سنتے آئے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں ان کا زمانہ قریب آگیا ہے ۔ خزرج کے لوگوں نے آپ کا پیغام سن کر پہچان لیا کہ یہ وہی نبی ہیں۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ اے قوم ، خدا کی قسم یہی وہ پیغمبر ہیں جن کے بارے میں یہود تمہیں بتا رہے تھے۔ تو یہود اس کے بارے میں تم پر سبقت نہ کرنے پائیں۔ انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ۔ لبعض يا قوم تعلمون والله انه النبی الذي توعدكم به اليهود فلا تسبقنكم اليه فاجابوه وصدقوه واسلموا ۔