Al-Risala · August 1987

مدینہ میں اسلام کی اشاعت

Al-Risala, August 1987, pp. 28–32

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ لوگ اسلام کے بعد مدینہ واپس ہوئے اور وہاں کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ہر گھر میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ اگلے سال موسم حج میں دوبارہ مدینہ کے ۱۲ آدمی مکہ آئے ۔ یہ لوگ اسلام سے متاثر ہو چکے تھے ۔ انھوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت اسلام قبول کرنے کے ساتھ آپ کی حمایت کرنے کی بیعت بھی تھی ۔ چنانچہ اس کو بیعت النساء کہا جاتا ہے ۔ اس کا دوسرا نام تاریخ اسلام میں بیعت عقبہ اولیٰ ہے ۔

یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا تاکہ وہ مدینہ کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کریں اور قرآن سنائیں اسی لیے ان کو مدینہ میں مقری (پڑھ کر سنانے والا) کہا جاتا تھا۔

اس وقت مدینہ کے ایک نمایاں سردار اسید بن حضیر تھے ۔ ان کو مدینہ میں اسلام کی اشاعت کی خبر ہوئی تو وہ اس پر غصہ ہوگئے ۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ مکہ کے کچھ لوگ یہاں آکر ہمارے کم سمجھ لوگوں کو بہکا رہے ہیں اور ان کے آبائی دین سے انھیں پھیر رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر سے ہتھیار لے کر نکلے تاکہ ایسے لوگوں کو مار کر بھگا دیں ۔

ان کی ملاقات ایک باغ میں مصعب بن عمیر سے ہوئی جو کچھ لوگوں کو اسلام کی باتیں بتا رہے تھے ۔ اسید بن حضیر نے انھیں بُرا بھلا کہا اور کہا کہ تم یہاں اس لیے آئے ہو کہ ہمارے کمزور لوگوں کو ان کے دین سے پھیرو ۔ مصعب بن عمیر نے کہا کہ آپ بیٹھئےاور ہماری بات سنیے ۔ اگر وہ صحیح ہو تو اس کو مان لیجیے ، اور اگر صحیح نہ ہو تو اسے رد کر دیجیے ۔ اسید بن حضیر نے کہا کہ تم نے انصاف کی بات کہی (انصفت)

اس کے بعد وہ اپنا ہتھیار الگ رکھ کر بیٹھ گئے ۔ مصعب بن عمیر نے ان کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھیں ۔ اس کو سُن کر اسید بن حضیر کا ذہن بدل گیا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتنا اچھا اور کتنا حسین کلام ہے (ما احسن هذا و اجملہ) اس کے بعد انھوں نے غسل کر کے اپنے کو پاک کیا اور کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام میں داخل ہوگئے ۔

تقریباً یہی واقعہ مدینہ کے دوسرے بڑے سردار سعد بن معاذ کے ساتھ پیش آیا ۔ ان کو مدینہ میں اسلام کی اشاعت کی خبر ہوئی ۔ ابتدا ئ وہ بھی غصہ ہوئے۔ اور اپنا ہتھیار لے کر نکلے تاکہ ایسے لوگوں کو تنبیہ کر دیں ۔ وہ مصعب بن عمیر کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا کہ آپ پہلے میری بات سنیے اس کے بعد کوئی فیصلہ کیجیے ۔ اس کے بعد انھوں نے سعد بن معاذ کو قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر راوی کہتے ہیں کہ قرآن کو سنتے ہی ہم نے ان کے چہرے پر اسلام کی جھلک دیکھی ۔ فعرفنا والله في وجهه الاسلام) اس کے بعد انھوں نے پوچھا کہ اس دین میں داخل ہونے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے ۔ مصعب بن عمیر نے کہا کہ آپ غسل کیجیے اور اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے اس کے بعد حق کی گواہی دیجیے پھر دو رکعت نماز پڑھیے ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام میں داخل ہوگئے ۔

اس کے بعد دونوں سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر اپنے قبیلہ کی طرف واپس آئے

اور لوگوں سے کہا کہ میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے بہترین شخص ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے مردوں اور عورتوں سے بولنا میرے لیے اس وقت تک حرام ہے جب تک تم اللہ اور رسول پر ایمان نہ لاؤ۔ چنانچہ اسی دن شام تک ان کے قبیلہ کے تمام مرد اور عورت مسلمان ہو گئے۔

مدینہ کے قبائل اپنی سادہ فطرت پر تھے۔ ان کے اندر سلامت طبع کمال درجہ میں موجود تھی۔ وہ حق کو جان لینے کے بعد اس سے اعراض کرنا نہیں جانتے تھے ۔ چنانچہ مدینہ کے قبائل میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ یہاں تک کہ انصار کے گھروں میں سے کوئی گھر نہ رہا جس میں کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں موجود نہ ہوں۔

اس کے بعد حضرت مصعب بن عمیرؓ مکہ واپس آئے ۔ ان کے ساتھ ستر مرد اور دو عورتیں یہ لوگ حج سے فارغ ہوئے تو قرار داد کے مطابق ایک روز رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کو بیعت عقبہ ثانیہ کہا جاتا ہے ۔ یہ واقعہ کافی تفصیل کے ساتھ سیرت کی کتابوں میں موجود ہے ۔ آخری مرحلہ میں جب آپ ان لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو ان میں سے ایک شخص (عباس بن عبادہ بن نضلہ) نے کہا کہ اے لوگو، تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ عرب و عجم کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر ہم نے بیعت کا حق ادا کر دیا تو ہمارے لیے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جنت۔ انھوں نے کہا کہ ہاتھ بڑھائیے ۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور انھوں نے بیعت کی رقـالوا فـبايـعـنـا بذالك يا رسول الله إن نحن وافينا قال الجنة۔ قالوا ابسط يدك فبسـيـده فـبـايـعـوه) التفسير المظهری ، المجلد الثانی ، صفحہ ۱۲ - ۱۰۷ قدیم عرب میں آدمی قبیلہ کی حمایت میں زندگی گزارتا تھا۔ قبیلہ اس کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہوتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جس کے سردار اس وقت ابو طالب بن عبد المطلب تھے۔ نبوت کے دسویں سال ابو طالب کی وفات ہو گئی ۔ کے بعد قبیلہ کے رواج کے مطابق سرداری کا عہدہ ابو لہب کو ملا۔ ابو لہب نے آپ کو اپنی حمایت

میں لینے سے انکار کر دیا۔

یہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ تھا۔ کیوں کہ قبیلہ کی حمایت سے محرومی کا مطلب یہ تھا کہ آدمی کی جان و مال دوسروں کی نظر میں مباح ہو جائے۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کے مخالفین آپ کے اوپر جری ہو گئے ۔ سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ ابو طالب کی زندگی تک قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہ کر سکے۔ مگر جب ابو طالب کی وفات ہو گئی تو وہ آپ کے خلاف جارحیت کرنے لگے یہاں تک کہ قریش کے بعض نادانوں نے آپ کے سر پر مٹی ڈال دی ۔

مکہ میں قیام بظاہر اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔ وقت دعوت کے ذریعہ ایک نیا شاندار امکان آپ کے لیے نکل آیا۔ نبوت کے گیارہویں سال مدینہ کے چند آدمی کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ آئے اور آپ کے پیغام سے متاثر ہو کر اسلام قبول اس کے بعد اگلے سال مزید کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے آپ کی زبان سے قرآن سنا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔ یہ لوگ جب واپس ہونے لگے تو ان کے ساتھ مکہ سے دو آدمی (عبداللہ بن ام مکتوم اور مصعب بن عمیر) قرآن اور اسلام کی تعلیم کے لیے بھیجے گئے ۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے لوگوں کو قرآن سنانا شروع کیا ۔ اور اسلام کی تعلیم سے لوگوں کو آگاہ کرنے لگے۔ زمین اسلام کی دعوت کے لیے نہایت زرخیز ثابت ہوئی ۔ وہاں کے لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے ۔ حتیٰ کہ یہ نوبت آگئی کہ اسلام مدینہ کے تمام محلوں میں پھیل گیا۔ انصار مدینہ کے گھروں میں سے کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں کچھ مرد اور کچھ عورت مسلمان نہ ہو گئے ہوں (وجعل الاسلام يفشو في منازل الانصار۔ حتى لم تبق دار من دور الانصار الا وفيها رجال و

مدینہ کی فضا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے موافق دیکھا تو آپ نے مکہ کے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ خاموشی کے ساتھ مدینہ چلے جائیں۔ چنانچہ وہ لوگ ہجرت کرنے جانے یہاں تک کہ ان کی اکثریت مکہ سے مدینہ منتقل ہو گئی۔ مکہ کے مشرکین نے اس صورت حال کو اپنے خلاف ایک چیلنج سمجھا۔ انھوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ لوگ مدینہ کو اپنا مرکز بنا کر دوبارہ ہمارے

خلاف کارروائی کریں گے ۔ انھوں نے طے کیا کہ قبل اس کے مدینہ کے مسلمان کوئی کارروائی کریں پیغمبر اسلام کو قتل کر دیا جائے ۔ مگر اب معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا ۔ کو وہ آپ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے تھے عین اسی رات کو آپ مکہ سے نکل کر مدینہ پہونچ گئے ۔ اس کے بعد مدینہ میں اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہوئی اور اس نئی تاریخ کا دروازہ جس چیز نے کھولا وہ بلاشبہ دعوت تھی ۔

Printed page