Al-Risala · August 1987

دعوت ایک ابدی طاقت

Al-Risala, August 1987, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی قعدہ ۶ھ میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ ساتھ آپ کے چودہ سو اصحاب تھے۔ آپ کا مقصد مکہ پہنچ کر عمرہ کرنا تھا۔ لمبا پر مشقت سفر طے کر کے آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے جو مکہ سے نو میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں قریش کے لوگ آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں۔ دو ہفتہ تک گفتگو ہوتی رہی۔ مگر قریش راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ خود قریش کی شرائط پر ایک صلح کر کے واپس چلے آئے جس کو تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔

اس سفر سے واپسی کے بعد ہی آپ نے اطرافِ عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے۔ یہ دعوتی خطوط ۷ھ؁میںروانہ کیے گئے۔ جن لوگوں کو یہ خطوط روانہ کیے گئے ان کے نام یہ ہیں :

Printed page