Al-Risala · September 1987

سبب اپنے اندر

Al-Risala, September 1987, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اہلِ ایمان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر تم ایمان اور ہدایت پر قائم رہو گے تو دوسروں کی مخالفانہ کارروائیاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔ اس سلسلہ میں دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ اے ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو۔ کسی کی گمراہی تم لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ کو نقصان نہیں پہنچائے گی اگر تم ہدایت پر ہو۔

وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ (آل عمران ۱۲۰) اللہ کے بس میں ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔

قرآن کے اس اعلان کے مطابق، اہلِ ایمان کے لیے اصل قابلِ توجہ چیز ان کا داخل ہے نہ کہ ان کا خارج۔ اہلِ ایمان کو سب سے زیادہ جس چیز کا اہتمام کرنا ہے وہ یہ کہ وہ خدا کی ہدایت پر قائم رہیں۔ یہ ہدایت ربانی ان کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کرے گی۔ اور صبر اور تقویٰ کی صفت ان کے لیے اغیار کی ضرر رسانی کے مقابلہ میں مانع بن جائے گی۔ صبر اور تقویٰ ان تمام تدبیروں اور سازشوں کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر روک ہے جو امکانی طور پر دوسرے لوگ کر سکتے ہیں۔

دنیا میں کوئی شخص یا کوئی قوم تنہا نہیں۔ یہاں دوسرے بہت سے لوگ بھی ہیں۔ اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے آزادی عطا کی ہے۔ ہر آدمی اپنے مقصد کے لیے دوڑ رہا ہے۔ ہر آدمی دوسرے کو دھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے چوٹ لگتی ہے۔ دوسرے سے کوئی نقصان پیش آتا ہے۔ یہ صورتِ حال خود خدا کی قائم کردہ ہے۔ اس کو ختم کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ وہ جس طرح مسلم اور غیر مسلم کی مخلوط آبادی میں ہے اسی طرح وہاں بھی جاری رہے گی جہاں صرف مسلمان ہوں، اور کوئی دوسری قوم وہاں نہ پائی جاتی ہو۔

ایسی حالت میں مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ آدمی ہر ٹکرانے والے سے ٹکرائے۔ اس کا واحد حل وہی

ہے جس کو قرآن میں اعراض (Avoidance) کہا گیا ہے۔ اعراض ہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعہ کوئی شخص اس دنیا میں اپنا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔

صبر اسی اعراض کی قیمت ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور برداشت کا مادہ نہ ہو وہ اعراض نہیں کرسکتے ، اور جو لوگ اعراض نہ کریں ان کے لیے اس دنیا میں کامیاب ہونا بھی ممکن نہیں۔ تاہم صبر کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ صبر کے لیے آدمی کو اپنے مشتعل جذبات کو دبانا پڑتا ہے۔ درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی کھونے کو برداشت کرے۔ صبر کے طریقہ پر وہی آدمی چل سکتا ہے جو ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ جائے۔

تقویٰ آدمی کے اندر یہی جو ہر پیدا کرتا ہے۔ تقویٰ سے مراد اللہ کا خوف ہے۔ عام آدمی لوگوں میں جیتا ہے۔ متقی آدمی لوگوں سے گزر کر خدا میں جینے لگتا ہے۔ متقی کی ساری توجہ اس پر لگ جاتی ہے کہ جو کچھ خدا سے ملنے والا ہے اس کو وہ نہ کھوئے ۔ وہ بظاہر اسی دنیا میں ہوتا ہے مگر اپنے احساس کے اعتبار سے وہ دنیا سے اٹھ کر آخرت میں پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح تقویٰ آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے۔ کوئی بھی حادثہ اس کے ذہنی استحکام کو منتشر نہیں کرتا۔ کوئی بھی نقصان اس کو اتنا بڑا نظر نہیں آتا جس کو وہ برداشت نہ کر سکے۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے، اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ صفت پیدا ہو جائے ان کو تمام قومیں مل کر بھی زیر نہیں کر سکتیں ۔ صبر اور تقویٰ کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق ہے ۔ صبر کرنا اپنے آپ کو خدا کے حد پر روکے رکھنا ہے ۔ اس کے برعکس آدمی جب دشمن کی دشمنانہ کارروائیوں پر بے صبر ہوتا ہے تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا سے بے خوف ہو کر حد سے باہر نکل جاتا ہے ۔ وہ ایسے کام کرنے لگتا ہے جن سے خدا نے اس کو منع کیا تھا۔ مثلاً دشمن سے متنفر ہو کر اس سے اشتعال انگیزی کا سلوک کرنا ، غصہ اور نفرت کی بنا پر فریق ثانی کے بارے میں انصاف کی بات نہ کرنا، اپنی زیادتی کو گھٹانا اور دوسرا اگر زیادتی کرے تو اس کو بڑھا کر بیان کرنا، دشمنانہ فعل کسی اور نے کیا ہو اور اس کا بدلہ کسی اور سے لینا، حق کی حمایت کرنے کے بجائے قوم کی حمایت کرنا ، وغیرہ۔

جو شخص تقویٰ پر ہو وہ خدا کی مدد سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ، اور جو شخص تقویٰ کی حد پر قائم نہ رہے وہ خدا کی مدد سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ایسے شخص کے لیے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

Printed page