ایک مشورہ
Al-Risala, September 1987, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر رائٹ (Dr Theodore Paul Wright Jr) ایک امریکی عالم ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے اختصاصی مطالعہ کا موضوع بنایا ہے ۔ انھوں نے ۱۹۵۷ میں ایل (Yale) یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی اور ۱۹۶۳ سے ہندوستانی مسلمانوں کے معاملات کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا جو کہ تقریباً ایک سوملین تعداد کے ساتھ انڈونیشیا کے بعد دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ہندوستان اور پاکستان کے کئی تفصیلی سفر کر چکے ہیں اور پچھلے تقریباً ۲۵ سال سے خاص اسی موضوع پر پڑھتے اور لکھتے رہے ہیں۔ اس موضوع پر ان کے مقالات ممتاز عالمی جرنلوں میں شائع ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر رائٹ نے اپنی کتاب ہندوستانی مسلمان (Muslims in India) میں لکھا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کا معاملہ بڑی حد تک اس پر منحصر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات کیسا صورت اختیار کرتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانیوں سے کہا ہے کہ آپ لوگوں کو چاہیے کہ غیر مؤثر انداز میں ان کے مسئلہ کا چیمپیئن بن کر ان کے مسئلہ کو مشکل تر نہ بنائیں :
You shouldn't make things difficult for them by championing their cause ineffectively. ڈاکٹر رائٹ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔ ساحلی مسلمان اور اندرونی علاقوں کے مسلمان ۔ ساحلی مسلمانوں سے ان کی مراد خاص طور پر جنوبی ہند کے مسلمان ہیں ۔ اور اندرونی مسلمانوں سے مراد شمالی ہند کے مسلمان ۔ دوسری قسم کے مسلمانوں کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ وہ یادگاری ذہن والے یہ وہ مسلمان ہیں جو تاج محل اور لال قلعہ اور چار مینار کے درمیان ان کا ذہن ابھی تک انھیں شاہی یادگاروں میں اٹکا ہوا ہے۔ یہ یادگاریں انھیں یہ بھولنے نہیں دیتیں کہ وہ کبھی اس ملک میں حکمراں طبقہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر رائٹ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ ذاتوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے سماج کا لازمی نتیجہ ہے :
ڈاکٹر رائٹ نے حالات کے گہرے تجزیہ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر نمایاں بنالیں تاکہ وہ ہندو (اکثریتی فرقہ) کے غضبِ ناکی کا شکار نہ ہوں۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے بہت سخت مشورہ ہے جو فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوں اور اپنی عظمت کے نشانات کے درمیان مگر اس کے بغیر وہ فسادات کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرتے رہیں گے، جو بہت مہنگی اس سلسلہ میں ہمیں ماننا چاہیے کہ ہندو ساحلی علاقہ کے تجارت پیشہ مسلمانوں کے خلاف بہت کم یا بالکل توجہ نہیں دیتے :
ہندوستانی مسلمانوں پر مسلمان لکھنے والوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے تقریبا تمام قابلِ ذکر حصہ کو راقم الحروف نے پڑھا ہے۔ مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس سلسلہ میں اردو یا عربی یا انگریزی میں جو کچھ لکھا گیا ہے ان سب پر مذکورہ امریکی مستشرق کی تحریر بھاری ہے۔ کسی بھی مسلم اہلِ قلم نے اس مسئلہ کا اتنا گہرا جائزہ نہیں پیش کیا جیسا کہ مذکورہ امریکی عالم نے پیش کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ گزرے ہوئے ماضی کی پر فخر یادوں میں اٹکے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اب تک اپنے حال کو نہیں سمجھا اور نہ حال کے مطابق وہ اپنے لیے حقیقت پسندانہ منصوبہ بنا سکے۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے بہترین مشورہ یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس ”پچھلی سیٹ“ پر بیٹھنے کے لیے راضی کر لیں جہاں حالات نے انھیں پہنچا یا ہے۔ جدید ہندوستان میں باعزت مقام حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا جو راستے ان کے لیڈر پیش کر رہے ہیں وہ صرف بربادی میں اضافہ کرنے والے ہیں نہ کہ کامیابی کی طرف لے جانے والے۔