Paradise lies in the shadow of swords.
Al-Risala, September 1987, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
(جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے) یہ اقتباس پڑھ کر ایک صاحب نے کہا : اب میری سمجھ میں آیا کہ مسلمان کیوں ہر وقت شمشیر بکف رہتے ہیں۔ جب ان کے پیغمبر نے خود یہ کہا ہو کہ " جنت تلواروں کے سایہ میں ہے " تو اس کے بعد تو وہ یہی کریں گے کہ ہر وقت لڑنے مرنے کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ لڑ کر مرنا ان کے عقیدہ کے مطابق ان کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے والا ہے۔
مگر یہ غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مذکورہ فقرہ ، اس میں شک نہیں کہ حدیث میں آیا ہے۔ مگر اخبار میں اس کو سیاق سے الگ کر کے نقل کیا گیا ہے ، اس لیے وہ عجیب و غریب مفہوم کا حامل بن گیا ہے۔ اگر اس فقرے کو اس کے پورے مجموعے کے ساتھ دیکھا جائے تو بالکل دوسرا نقشہ نظر آئے گا۔
یہ فقرہ دراصل ایک لمبی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ حدیث مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ ذیل میں ہم اس کے اصل الفاظ نقل کرتے ہیں : عن أبي النصر : سالم مولى عمر بن عبيد الله قال : كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى فقرأته حين سار الى الحرورية ، يخبره : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها العدوّ انتظر حتى اذا مالت الشمس ، قام فيهم فقال : يا ايها الناس لا تتمنوا لقاء العدو ، واسئلوا الله العافية ، فإذا لقيتموهم فاصبروا ، واعلموا ان الجنة تحت
حضرت سالم کہتے ہیں کہ عمر بن عبید اللہ کو عبداللہ بن ابی اوفیٰ نے لکھا۔ میں نے اس کو پڑھا جب کہ وہ خارجی فرقہ کی طرف گئے تاکہ اس کو بتائیں۔ اس خط میں لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض دنوں میں جب کہ آپ کا مقابلہ دشمن سے ہوا۔ آپ نے انتظار کیا یہاں تک کہ سورج جھک گیا۔ آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ سے عافیت مانگو۔ پھر جب ان سے تمہارا مقابلہ پیش آئے تو ثابت قدم رہو۔ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ، کتاب کو نازل کرنے والے، اور بادل کو چلانے والے، اور فوجوں کو شکست دینے والے، ان کو شکست دے اور ان کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔
اس حدیث کو امام بخاری، امام مسلم اور امام ابو داؤد نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ تینوں کے یہاں وہ کتاب الجہاد میں ہے۔ مگر وہ اس کو جس " باب " کے تحت لائے ہیں وہ نہایت با معنی ہے۔ تینوں نے اس کو اس باب کے تحت نقل کیا ہے کہ " دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو" تینوں کے یہاں ترجمہ باب کے الفاظ یہ ہیں :
بخاری : باب لا تتمنوا لقاء العدو مسلم : باب كراهية تمنى لقاء العدو ابو داؤد : باب كراهية تمنى لقاء العدو گویا تینوں محدثین کے نزدیک اس حدیث کا اصل مدعا شمشیر زنی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اس کا اصل مدعا یہ ہے کہ اہل ایمان اپنی حد تک ہمیشہ امن کو پسند کریں، وہ کسی حال میں خود سے جنگ کا آغاز نہ کریں ۔
حدیث میں جس عمل کو جنت میں داخلہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے وہ اسلامی دفاع ہے نہ کہ اسلامی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کے نام پر لوگوں سے لڑا جائے ، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب اسلام پر کوئی حملہ ہو تو اس کی طرف سے پورا مقابلہ کیا جائے۔ مومن کو خود سے لڑائی نہیں چھیڑنا ہے، مگر جب اسلام کے خلاف جارحیت کی جائے تو اس وقت اس کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کے دفاع میں پوری بہادری کے ساتھ حملہ آور سے لڑے۔