Al-Risala · September 1987

میں مسلمان ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں

Al-Risala, September 1987, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا ابو الکلام آزاد کا یہ جملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی صحیح ترین تصویر ہے۔ مگر ان کی اسی صحیح تصویر میں ان کے المیہ کی پوری داستان بھی چھپی ہوئی ہے۔

مذکورہ فقرے پر غور کیجئے ۔ " مسلمان " کے لفظ کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآنی انسان ہو۔ اگر اس سے قرآنی انسان مراد لیا جائے تو اس سے وہ انسان مراد ہوگا جو اللہ سے ڈرنے مگر مذکورہ فقرہ کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قرآنی مفہوم کے اعتبار سے یہ فقرہ بالکل لغو ہے۔ اس کی لغویت کو نہایت آسانی کے ساتھ اس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ اس کے الفاظ کو بدل دیا جائے ۔ آپ " مسلمان " کی جگہ " اللہ سے ڈرنے والا " رکھ دیجئے اور پھر اس کو اس طرح کہیے :

میں اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں اللہ سے ڈرنے والا ہوں دیکھیے، لفظ کو بدلتے ہی یہ فقرہ بالکل بے معنی معلوم ہونے لگا ۔ کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو واقعۃً اللہ سے ڈرتا ہو اور وہ اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کرے۔ کیوں کہ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے نہ کہ فخر۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کا مذکورہ فقرہ قرآنی مفہوم میں نہیں ہے۔ وہ یقینی طور پر کسی اور مفہوم میں ہے۔

یہ دوسرا مفہوم کیا ہے۔ یہ قومی اور تاریخی مفہوم ہے۔ اس فقرہ میں " مسلمان " کا لفظ اس قوم یا اس نسل کے ایک فرد کے لیے بولا گیا ہے جو ایک خاص تاریخ سے وابستہ ہے ۔ جس کے اسلاف نے ملک فتح کیے۔ بڑی بڑی عمارتیں بنا ئیں۔ شاندار تمدن پیدا کیا۔ دنیا میں اپنی سیاسی اور مادی عظمت اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ فقرہ بالکل درست نظر آئے گا۔ دوسرے مفہوم میں لینے کی صورت میں اس فقرہ کی وہ لغویت ختم ہو جائے گی جو پہلے مفہوم میں لینے

کی صورت میں نظر آتی تھی ۔

یہ تجزیہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کر رہا ہے۔ موجودہ زمانے کا مسلمان قرآن کی پیداوار نہیں، وہ تاریخ کی پیداوار ہے۔ اس کا سرمایہ قومی فخر ہے نہ کہ قرآنی حقیقتوں موجودہ مسلمان دوسری قوموں کی طرح ایک قوم ہیں نہ کہ وہ امت جو خدا اور رسول کی بنیاد پر فکری اور روحانی انقلاب کے ذریعہ ظہور میں آئی ہو۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ حالت اتنی عام ہے کہ اس میں ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔ ایک ہی رنگ ہے جس میں تمام مسلمان رنگے ہوئے ہیں، خواہ وہ ان کے چھوٹے ہوں یا ان کے بڑے ۔ وہ ان کے پڑھے لکھے لوگ ہوں یا بے پڑھے لکھے

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تمام خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔ مسلمانوں کو فخرولا اسلام ملا، انھیں تواضع والا اسلام نہیں ملا۔ بالفاظ دیگر ، انھوں نے تاریخ کو پایا مگر انھوں نے خدا کو نہیں پایا۔ ایسی حالت میں ان کے اندر وہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی تھیں جو صرف اس انسان یا اس گروہ میں پیدا ہوتی ہیں جو خدا کو اس طرح پاتے کہ وہ اس کے پڑوس میں اپنے صبح و شام گزارنے لگے۔

مسلمانوں کی اسی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر معاملہ میں ان کا رویہ قومی رویہ بن کر رہ گیا ہے۔ رسول میں انھیں فخرو مباہات کا سامان ملتا ہے مگر اس میں انھیں اطاعت و پیروی کا سامان نہیں ملتا۔ ان کا اسلام انھیں لڑائی جھگڑا سکھاتا ہے مگر وہ انھیں صبر اور اعراض کی تعلیم نہیں دیتا۔ وسنت میں انتقام کا سبق پالیتے ہیں مگر وہ اس کے اندر عفو و درگزر کا سبق نہیں پاتے ۔ جہاد کا یہ مطلب تو ان کی سمجھ میں آتا ہے کہ دوسری قوموں کو اپنا حریف بنا کر ان سے لامتناہی جنگ چھیڑ دی جائے ، مگر جہاد کا یہ مطلب سمجھنے سے وہ معذور رہتے ہیں کہ دوسری قوموں کو خدا کے دین رحمت کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے ۔ دنیا میں کامیابی کے لیے اعتراف اور مفاہمت اور صبر اور اعراض کی ضرورت ہوتی ہے مگر فخر پسند مسلمانوں کو اس قسم کا رویہ اپنے شایان شان نظر نہیں آتا۔ اس لیے وہ ان کو اختیار بھی نہیں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔

اقبال اور ابو الکلام اور ان کے جیسے دوسرے شاعروں اور خطیبوں نے مسلمانوں کو جو فکری سرمایہ دیا وہ ایک لفظ میں " فخر " تھا۔ انھوں نے اسلام کو فخر کی چیز بنا کر پیش کیا : ایک زوال یافتہ قوم کے لیے یہ ایک دل پسند غذا تھی ، چنانچہ مسلمانوں نے دوڑ کر اس کو قبول کر لیا ۔ آج تقریباً تمام مسلمان جس اسلام پر کھڑے ہوئے ہیں وہ یہی فخر والا اسلام ہے ، اور یہی ان کی تمام بربادیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔

ایک مثال لیجیے ۔ ایک بڑے شہر کے مسلم لیڈروں کو یہ تدبیر سوجھی کہ مسلمانوں کو اٹھانے کے لیے ان کے اندر فخر والا اسلام زندہ کریں ۔ انھوں نے مسلم محلوں کی دیواروں پر جلی حرفوں میں جگہ جگہ یہ جملہ لکھ دیا :

Printed page