اصل مسئلہ
Al-Risala, September 1987, pp. 11–15
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب اپنے خط مورخہ ۲ جولائی ۱۹۸۷ میں لکھتے ہیں : میرٹھ اور دہلی کے فسادات کا حال معلوم ہوا۔ اللہ پاک اپنی پناہ میں رکھے اور رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ ایک واقعہ میرے دماغ کو جھٹکا دے رہا ہے کہ یہ اللہ کا عذاب تو ہم پر نازل نہیں ہورہا ہے۔ بنگلہ والی مسجد میں تین دن حاضری کے لیے میں دہلی گیا تھا۔ شاہ جہاں پور کٹھور میں میری بہن ہے۔ اس سے ملنے کے لیے گیا۔ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ کو ۱۱ بجے میرٹھ بھینسالی بس اسٹینڈ پہنچا۔ بھینسالی بس اسٹینڈ پر انکوائری کے لیے جا رہا تھا کہ شاہ جہاں پور کٹھور کے بارہ میں معلوم کروں۔ انکوائری پر دو غیر مسلم عورتیں بیٹھی ہوئی بڑی نرمی اور خوش خلقی سے مسافروں کی انکوائری کا جواب دے رہی تھیں۔ مجھ سے آگے ایک مسلم نوجوان اور اس کے ساتھ ایک برقعہ پوش مسلم خاتون انکوائری کر رہے تھے۔ بھائی بہن تھے۔ وہاں حسب ذیل سوال و جواب ہوئے :
مسلم نوجوان دلی کے واسطے ویڈیو کوچ ابھی نہیں آیا کیا ۔
انکوائری خاتون بھیا، ویڈیو کوچ ابھی نہیں آیا۔ اس کے بدلے لکڑی بس لگی ہوئی ہے، اس سے نکل جاؤ ۔
مسلم نوجوان (زور سے بگڑ کر) ہم ویڈیو کوچ پوچھ رہے ہیں، وہ لکڑی بس بتا رہی۔ انکوائری خاتون ویڈیو کوچ دو گھنٹے بعد آئے گا۔ تب تک تم دلی پہنچ جاؤ گے۔ برقعہ پوش خاتون تجھے کیا مطلب، ہم پہنچیں نہ پہنچیں۔ تو بتا ویڈیو کوچ کب آئے گا، تو اپنی ڈیوٹی کر ۔
انکوائری خاتون آپ لوگوں کے فائدے کو کہہ رہی ہوں۔ سے بھی آدھک لگے گا، پیسہ بھی ڈھائی روپیہ آدھک ۔
برقعہ پوش خاتون بڑی آئی فائدہ بتانے والی۔ تجھے کیا مطلب، ہم ویڈیو سے جاویں یا نہ جاویں۔ مسلم نوجوان چل آیا بیٹھ ۔ دو گھنٹے بعد ویڈیو نہ آیا تو اس کی خبر لیں گے۔ (اس کے بعد وہ ناراض ہوتا ہوا چلا گیا)
اس کے بعد انکوائری کا ونٹر کی غیر مسلم خاتون نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا : " مولا نا صاحب ، ان لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ بہن بھائیوں پر ویڈیو کا بھوت سوار ہے ۔ " مسلمان اسلام کو اپنے عملی رخ کے ذریعہ ذبح کر رہے ہیں تو مالک کائنات مدعو اقوام کے ذریعہ مسلمانوں کو ذبح کرا رہا ہے۔ عبد السلام خاں ، مائننگ انجینئر، سرکلر روڈ، چھندواڑہ ۴۸۰۰۰۱ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو بتا رہی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مزاج کیا ہے۔ خلاف مزاج بات کو برداشت نہ کرنا۔ مسلمانوں کا عدم برداشت کا مزاج اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ معمولی اختلافی بات پر بگڑ جاتے ہیں۔ اپنی خواہش کے خلاف کوئی ذرا سی بات ہو تو فوراً لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
ہر بار جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے اسی بگڑے ہوئے مزاج کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ جھگڑالو قوم ہیں۔ کا یہ جھگڑا جب آپس میں ہو تو وہ انفرادی واقعہ بن کر رہ جاتا ہے ، وہ عمومی فساد کی صورت اختیار نہیں کرتا ۔ مگر جب اس جھگڑے کا ایک فریق مسلمان اور دوسرا فریق ہندو ہو تو وہ فوراً عمومی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے ۔
مسلمانوں کی یہ حالت صرف ہندوستان میں نہیں ہے ۔ ان کا یہی حال ، بلکہ اس سے بھی زیادہ بدتر حال پاکستان میں ہے ۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کہ پاکستان کے مسلمان معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑ نہ جاتے ہوں ۔ بات کی وضاحت کے لیے یہاں میں صرف ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ کراچی کا واقعہ ہے۔ ۱۹ جولائی ، ۱۹۸۱ء کی رات کو کچھ مسلم نوجوان ایک منی بس میں سفر کر رہے سفر کے دوران ان کے اور کنڈکٹر کے درمیان تکرار ہو گئی ۔ نوجوانوں نے کنڈکٹر پر حملہ کر دیا ۔ بس رک گئی۔ اس کے بعد پولیس آئی۔ پولیس نے دخل دے کر معاملہ کو ختم کر دیا۔ مگر نوجوانوں کا غصہ ختم اس وقت وہ چلے گیے اس کے بعد انھوں نے پولیس کی ” زیادتی " کی داستان سنا کر اپنی قوم کے مزید نوجوانوں کو بھڑکایا۔ اور ایک بھیڑ جمع کر کے ۲۱ جولائی کو کراچی کے اس تھانہ پر حملہ جہاں کی پولیس نے دخل دے کر مقابلہ کو ختم کیا تھا۔
اس "حملہ" میں ایک پولیس افسر شدید طور پر زخمی ہوا۔ اور دو پولیس کانسٹیبل مارے گیے
اب پولیس مشتعل ہوگئی ۔ اس نے لوگوں کے اوپر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ۔ اس کے نتیجہ میں بیس آدمی سخت زخمی ہوگئے ۔ ان زخمی ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل تھے ۔ کئی موتیں بھی واقع ہوئیں (ٹائمس آف انڈیا ۲۳ جولائی ۱۹۸۷ء)
یہ بات میں نے ایک مسلمان لیڈر سے کہی تو وہ بگڑ گئے ۔ انھوں نے تیز و تند لہجے میں کہا : یہ جھوٹ مسلمان کبھی فساد نہیں کرتا ۔ آپ مسلم دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اس لیے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں ، آپ کو اپنی یہ بکواس بند کرنی پڑے گی ، ورنہ مسلمان آپ کو سبق پڑھانے پر مجبور ہوں گے ۔ میں نے نرمی کے ساتھ جواب دیا : میرے بھائی ، آپ نے خود ہی میرے دعوے کا ثبوت فراہم کردیا ۔ آپ نے اس وقت جو انداز اختیار فرمایا ہے ، اسی کا نام اشتعال انگیز رد عمل ہے اور یہ اشتعال انگیز رد عمل ہی تمام فرقہ وارانہ فسادات کی اصل جڑ ہے ۔ آپ اور آپ جیسے دوسرے مسلمان باہمی معاملات میں سنجیدہ انداز اختیار کرنا نہیں جانتے ، اسی سے معمولی واقعہ فساد بن جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ سنجیدہ اور مثبت انداز اختیار کرنا سیکھ لیں تو تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے ۔ یک طرفہ اقدام کی ضرورت ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں یہ بات تقریباً ثابت شدہ ہے کہ اس کا آغاز ہمیشہ کسی مسلمان کی اشتعال انگیز کارروائی سے ہوتا ہے ۔ یہ معاملہ ابتداء ایک ہندو اور ایک مسلمان کے درمیان ہوتا ہے ۔ اس کے بعد خود مسلمانوں ہی کے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ یہ انفرادی واقعہ بہت جلد قومی واقعہ بن جاتا ہے ۔ دو فرد کا فساد دو قوم کے فساد کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ اب ہندو چونکہ اس ملک میں طاقت ور پوزیشن میں ہے ، اس کا رد عمل مسلمان کے حق میں بہت ہولناک ثابت ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کو ایک کے بدلے میں ایک سو کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔
فساد کے نتائج کو اگر صرف کمیت اور اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہندو ظالم نظر آئیں گے اور مسلمان مظلوم ۔ مگر میں اس تقسیم کو صحیح نہیں سمجھتا ۔ اس لیے کہ قرآن کی رو سے اصل مجرم وہ ہے جو آغاز کرے (وهم بدوکم اول مرة) تاہم ایک شخص کو یہ کہنے کا حق ہے کہ یہ ایک نزاعی مسئلہ ہے ۔ یعنی اس کا امکان ہے کہ میری رائے درست ہو اور یہ بھی امکان ہے کہ ان
لوگوں کی رائے درست ہو جو ہندو کو ظالم قرار دیتے ہیں۔ مگر معاملہ کا ایک پہلو اور ہے۔ معاملہ میں یقینی طور پر سنجیدہ انسانوں کی دو رائے نہیں ہو سکتی۔
یہ دوسرا پہلو معاملہ کا عملی پہلو ہے۔ یعنی یہ کہ یہ فسادات ختم کس طرح ہوں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس طرح کے پیچیدہ نزاعات ہمیشہ یک طرفہ اقدام سے ختم ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ ۵۰ فی صد ذمہ داری ہندو لیں اور ۵۰ فی صد ذمہ داری مسلمان قبول کریں اور اس طرح دونوں کے مشترکہ فیصلہ سے فسادات کا خاتمہ کیا جائے تو ایسا مشترکہ فیصلہ کبھی ہونے والا اسلام کی تاریخ میں مشرکینِ مکہ اور مسلمانانِ مدینہ کا جھگڑا صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کی شکل میں یک طرفہ طور پر معاملہ کو ختم کرنے پر راضی ہو گئے دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ اور جاپان کا جھگڑا صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ جاپان نے یک طرفہ طور پر امریکہ کی تمام شرائط کو مان لیا۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی طرح یک طرفہ تدبیر کے ذریعے ختم ہوں گے یا پھر وہ اسی طرح لامتناہی طور پر جاری رہیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس یک طرفہ اقدام کے لیے کون آگے بڑھے ۔ جواب بالکل واضح ہے۔ یک طرفہ اقدام پر ہمیشہ وہ فریق راضی ہوتا ہے جو تصادم کی صورت میں زیادہ نقصان اٹھارہا میرے نزدیک اس معاملہ میں زیادہ بڑا نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے ۔ اس لیے مسلمانوں ہی کو اس معاملہ میں پہل کرنا چاہیے ۔
اس نقصان سے میری مراد مادی نقصان نہیں ہے، بلکہ آخرت کا نقصان ہے۔ میں یقینی طور پر ہندو بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ یہ نقصان براہ راست کم اور بالواسطہ زیادہ ہے ۔ ہندو کا جو نقصان ہے وہ مادی اور اقتصادی اعتبار سے ہے۔ جب کہ مسلمان کا نقصان یہ ہے کہ وہ دعوت کے امکان کو کھو دیتا ہے ۔ ہر بار جب فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو ہندو مسلم تناؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس مسلسل تناؤ نے اس فضا کو برباد کر کے رکھ دیا ہے کہ ہندو کے سامنے مسلمان اپنی وہ دعوتی ذمہ داری ادا کریں جو آخری پیغمبر کا امتی ہونے کی حیثیت سے لازمی طور پر ان کے اوپر عائد ہوتی ہے ۔ اور جس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر خود مسلمانوں کی اپنی نجات بھی سخت مشتبہ ہے ۔
دکان دار اور گاہک میں جھگڑا ہو اور دونوں کے درمیان دوری پیدا ہو جائے زیادہ بڑا لوزر (کھونے والا) کون ہوگا۔ واضح ہے کہ ایسی صورت میں زیادہ بڑا لوزر دکان دار ہوگا۔ دکاندار ہی کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ وہ اپنے اور گاہک کے درمیان دوری کے اسباب پیدا نہ اگر بالفرض دوری کا کوئی سبب پیدا ہو جائے تو وہ یک طرفہ طور پر اس کو ختم کرے۔ یہ ایک دنیوی مثال ہے۔ یہی مثال آخرت کے معاملہ کی بھی ہے۔ مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان جھگڑا اور تناؤ پیدا ہو تو تو زیادہ بڑا لوزر یقینی طور پر مسلمان ہوگا۔ کیوں کہ اس دوری کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مدعو کو کھو رہا ہے۔ جب کہ مسلمان کے عقیدے کے مطابق ، مدعو اس کے لیے تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ دعوت کا عمل اس کو انصار اللہ کا درجہ عطا کرتا ہے۔ کا عمل اس کو پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل کرتا ہے۔ اس لیے مسلمان ہی کو یہ ذمہ داری لینی ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان تناؤ پیدا نہ ہونے دے اور اگر کسی وقت تناؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو یک طرفہ طور پر اس کو ختم کر دے۔