اصل مسئلہ
Al-Risala, September 1987, pp. 15–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا کا ایک خالق اور مالک ہے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک خاص منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کو موجودہ دنیا کے حالات میں رکھ کر آزمائے ۔ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کرے (الملک ۲)
یہی وہ حقیقت ہے جس سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے تمام پیغمبر آئے (رسلاً مبشرین ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل) مگر پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات کو ان کی امتیں ضائع کرتی رہیں۔ آخر میں اسی انذار و تبشیر کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ تعلیم لائے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اصلی حالت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ قرآن میں یہی ابدی دین اپنی محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اب انسان کی نجات کا انحصار اسی محفوظ دین کو اختیار کرنے پر ہے جس کا نام اسلام ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (آل عمران ۸۵)
ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اس حقیقت سے باخبر کریں تاکہ بھٹکی ہوئی قوموں پر نجاتِ آخرت کا دروازہ اور جو لوگ معلوم ہو جانے کے باوجود خدا کی ہدایت کو اختیار نہ کریں ان پر یہ گواہی قائم ہو جائے کہ انھیں حقیقت واقعہ سے باخبر کر دیا گیا تھا (لیکون الرسول شہیدا عليكم وتكونوا شهداء علی الناس، الحج ۷۸) یہ ذمہ داری اتنی اہم ہے کہ اس کو ادا نہ کرنے کی صورت میں خود یہ معاملہ مشتبہ ہو جاتا ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے یہاں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی قرار پائیں گے یا نہیں۔
اس حقیقت کی روشنی میں غور کیجیے تو مسلمانوں کے ساتھ اس ملک میں جو کچھ پیش آرہا ہے وہ اسی خدائی ڈیوٹی سے غفلت کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں نے دوسری قوموں کو خدائی پیغام سے آگاہ کرنے کا کام انجام نہیں دیا۔ اس لیے اب خدائی قانون کے مطابق ان کی تنبیہ کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں آگاہ ہو جائیں۔
جب بھی اس ملک میں کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے اور مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھ سے مارے جاتے ہیں تو ہمیشہ اس سے ایک آواز سنائی دیتی ہے ۔ " قال " کی زبان میں نہیں بلکہ " حال " کی زبان میں۔ وہ آواز یہ ہوتی ہے :
تم نے ہماری آخرت کو برباد کیا، ہم تمہاری دنیا کو برباد کریں گے مسلمانوں کے پاس خدا کے محفوظ دین کی امانت ہے۔ مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اس ملک کے تمام انسانوں کو اس نازک حقیقت سے باخبر کریں۔ وہ اس کو لوگوں کی قابل فہم زبان میں لوگوں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ صدیاں گزر گئیں مگر مسلمانوں کے درمیان اس مقصد کے لیے کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اس حقیقت ربانی سے لوگوں کو آشنا کریں۔ برعکس مسلمانوں نے یہ کیا کہ انھوں نے لوگوں سے نفرت کی۔ انھوں نے لوگوں کو حقیر سمجھا۔ کی ذرا ذرا سی بات پر مشتعل ہو کر ان سے لڑائی چھیڑتے رہے۔ انھوں نے اپنے اور ان کے درمیان مصنوعی تشخصات کی دیواریں کھڑی کیں۔ اس کے نتیجہ میں لوگ مسلمانوں سے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے دین سے بیزار ہو گئے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان وہ معتدل
فضا باقی نہ رہی جس میں دوسرے لوگ مسلمانوں کے دین پر غور کریں اور اس کے بارے میں ٹھنڈے ذہن کے ساتھ فیصلہ کر سکیں۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ تھا۔ داعی ایک کامیاب دکاندار کی طرح ، یک طرفہ اخلاقیات پر کھڑا ہوتا ہے۔ داعی اپنے آپ کو اس کا پابند بناتا ہے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے گا۔ مدعو اگر کوئی برا سلوک کرے تب بھی وہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ، تاکہ دونوں کے درمیان کہنے اور سننے کا ماحول برباد نہ ہونے پائے۔ مگر مسلمان اس داعیانہ اخلاق پر قائم نہ رہ سکے۔
مسلمانوں نے لوگوں سے ان کی آخرت چھینی تھی ، اب لوگ ان سے ان کی دنیا چھین رہے لوگ اپنے ظلم سے صرف اس وقت باز آئیں گے جب کہ ہم اپنے ظلم سے باز آئیں۔ سے پہلے یہ سلسلہ بند ہونے والا نہیں ۔