خدا کی تنبیہ
Al-Risala, September 1987, pp. 14–20
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ ہندو کا ظلم نہیں بلکہ وہ خدا کی تنبیہ ہے۔ جو آدمی اس میں شک کرے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے ، یا کم از کم یہ کہ وہ قرآن وحدیث سے بالکل ناواقف ہے۔
مسلمانوں کے مسئلہ کی جڑ یہ ہے کہ انھوں نے خدا کے بندوں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو خدا کے حکم کے سراسر خلاف تھا۔ مسلمان اپنے دور اقتدار میں ہندوؤں کو حقیر سمجھتے رہے۔ اور اب جب کہ ان کے پاس اقتدار نہیں ہے تو وہ ہندوؤں کو اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ہی باتیں یکساں طور پر جرم کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ہندو قوم مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان داعی ہیں اور ہندو مدعو ہیں۔ ہندو کی نسبت سے مسلمان کے اوپر سب سے پہلا اور سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ اس کو خدا کے دین کا پیغام پہنچائیں۔ اپنے اور ہندو قوم کے درمیان ناصحانہ فضا قائم کرنے کے لیے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ہندو کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کریں۔ جس طرح مسلمانوں پر دعوت فرض ہے ، اسی طرح دعوت کی خاطر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا بھی
ان کے اوپر فرض ہے۔
مسلمان اس ملک میں سیکڑوں سال سے ہندوؤں کے ساتھ رہ رہے ہیں مگر ان کے درمیان کوئی ایک بھی قابل ذکر تحریک یا قابل ذکر شخصیت نہیں ابھری جو مسلمانوں کو ان کے داعیانہ فرض کی طرف توجہ دلائے۔ یہ مسلمانوں کی زندگی کا سب سے بڑا خلا ہے جس پر اٹھیں سب سے زیادہ غور کرنا چاہیے۔
مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا یہ حال ہے کہ اس کو اس کام کی اہمیت کا شعور ہی نہیں۔ بعض افراد اگر اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں تو وہ بھی یہ کہہ کر عملاً اسے قابلِ ترک قرار دیدیتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لو، اس کے بعد غیر مسلموں کی اصلاح کرنا۔ یہ دونوں ہی باتیں یکساں طور پر خدا کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں۔ پہلی روش اگر خدا اور رسول کے حکم سے سرتابی ہے تو دوسری روش کا مطلب خود اپنے آپ کو خدا اور رسول کی جگہ بٹھانا ہے۔ کیوں کہ سارے قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرو، اور جب مسلمانوں کی اصلاح کا کام مکمل ہو جائے اس کے بعد غیر مسلموں کو خدا کے دین کی دعوت دو۔ اور جب قرآن و حدیث میں ایسا کوئی حکم بیان نہیں ہوا تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ احکام دین کی فہرست میں خود ساختہ طور پر اس قسم کے ایک حکم کا اضافہ کرے۔
مسلمانوں کا موجودہ مسئلہ اسی فرض سے ان کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ مسائل کا یہ سلسلہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک غفلت کی یہ صورتِ حال باقی رہے۔ ان مسائل کا حل یہ نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر ان سے لڑنا شروع کر دیں۔ ان کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اپنی کوتاہی کا اقرار کر کے اس فریضہ دعوت کو ادا کرنا شروع کر دیں جس کو انہوں نے صدیوں سے چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے سوا ہر دوسری تدبیر ان کی سرکشی میں اضافہ کے ہم معنی ہے نہ کہ مسئلہ کے حل کی طرف پیش قدمی۔
مسلمان اگر بالفرض یہ محسوس کریں کہ وہ برادرانِ قوم کو دعوت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تب بھی وہ یقینی طور پر ایک کام کرنے کی پوزیشن میں ہیں، اور وہ دعا ہے۔ دے سکو تو دعا کرو" یہ ایک لفظ میں مسلمانوں کے پروگرام کا خلاصہ ہے۔ مسلمانوں کو پورے اخلاص
کے ساتھ برادرانِ وطن کی ہدایت کا حریص بننا چاہیے ۔ دعوت کے مواقع نہ ہوں تو ان کے حق میں دل کی گہرائیوں کے ساتھ دعا کرنا چاہیے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست دعوت کے مواقع ہمارے لیے کھول دے ۔
مگر مسلمانوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ برادرانِ وطن کو خدا کے دینِ رحمت کا مخاطب بنانا تو درکنار ، مسلمان پچاس برس سے ان کے خلاف بددعائیں کرنے میں مشغول ہیں۔ کے تمام اصاغر و اکابر اللهم اهلك الكفرة والمشركين کی پکار بلند کیے ہوئے ہیں۔ کو جاننا چاہیے کہ ان کی اس قسم کی بددعا کبھی خدا کے یہاں قبول ہونے والی نہیں ، خواہ مسلمان ایک ہزار سال تک اس کے الفاظ دہراتے رہیں ، اور خواہ ان کے تمام اکابر و اعاظم جمع ہو کر اس پر آمین کہہ رہے ہوں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تمام بددعائیں خدا کی منشا کے بالکل خلاف ہیں ۔ کے لیے ہمارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ ہم ان کو خدا کے دین رحمت کے سایہ میں لائیں نہ کہ دینِ رحمت میں لانے کی واقعی کوشش کیے بغیر انھیں عذاب کے گڑھے میں دھکیلنے لگیں ۔ آج خدا اس انتظار میں ہے کہ ہم اس کے سامنے لوگوں کی ہدایت کی دعا پیش کریں تاکہ وہ اس کو قبول کر کے اقوام عالم کے لیے ہدایت کا راستہ کھولے ۔ اور ہمارا حال یہ ہے ہم خدا کے سامنے لوگوں کی ہلاکت کی دعا پیش کر رہے ہیں ۔ ایسی دعا خود دعا کرنے والے کے منہ پر مار دی جائے گی ، وہ کبھی قبولیت کا شرف حاصل کرنے والی نہیں ۔
روشنی دینا دنیا کو سب سے بڑی چیز دینا ہے۔ مگر روشنی دینا سب سے بڑی قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ دنیا کو "روشن" کرنے کے لیے اپنے آپ کو "بے روشن" کر لینا پڑتا ہے ۔ اسی بات کو ایک مغربی مفکر نے ان لفظوں میں کہا ہے کہ موم بتی دوسروں کے لیے اُجالا کرتی ہے مگر وہ خود اپنے آپ کو فنا کر لیتی ہے :