ایمان
Al-Risala, September 1987, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کسی تقلیدی عقیدہ کا نام نہیں ۔ ایمان ایک زندہ شعور کا نام ہے ۔ ایمان کے لفظی معنی اقرار کے ہیں ۔ آدمی جب اللہ کو اس کی تمام صفات کمال کے ساتھ مانے اور اس کی تمام باتوں (وحی آخرت ، ملائکہ وغیرہ) پر کامل یقین کرکے ان کی تصدیق کرے ، وہ اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے تو اسی کا نام ایمان ہے ۔
ان چیزوں کو ماننے کی ایک شکل یہ ہے کہ ان کو باپ دادا کی تقلید کے طور پر مان لیا جائے مگر اس قسم کا تقلیدی ایمان وہ ایمان نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہو۔ اس قسم کا ماننا بالکل بے روح ماننا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے ہاتھ میں چھنگلیا۔ چھنگلیا بظاہر انگلی کی مانند مگر آدمی کے ہاتھ میں چھنگلیا کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی فنکشن نہیں ہوتا۔ کے ایک طرف بے کار لٹکی رہتی ہے۔ کچھ لوگ اس کو چھوڑے رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا آپریشن کرا دیتے ہیں ۔
یہی معاملہ تقلیدی ایمان کا ہے ۔ تقلیدی ایمان آدمی کی زندگی میں ایک بے اثر عقیدہ کے طور پر شامل رہتا ہے ۔ وہ اس کی زندگی کا حاکم نہیں ہوتا۔ آدمی کی زندگی میں اس کا کوئی دخل نہیں اس کی زندگی الگ رہتی ہے اور اس کا ایمان الگ ۔
حقیقی ایمان ایک قسم کا شعوری سفر ہے ، وہ اس کا نام ہے کہ آدمی نہ دکھائی دینے والے خدا کو دیکھ لے ۔ وہ غیب میں چھپی ہوئی حقیقت کا مشاہدہ کرلے ۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایمان ایک دریافت ہے ۔ ایمان ایک ڈسکوری ہے ، سب سے بڑی ڈسکوری ۔ جو چیز آدمی کی زندگی میں بطور ڈسکوری کے داخل ہو اس کا داخل ہونا محض ایک سادہ چیز کا داخل ہونا نہیں ہوتا۔
انقلاب ہوتا ہے ۔ وہ ایسا ہوتا ہے جیسے پرسکون زمین میں زلزلہ آجائے ۔ یا ٹھہرے ہوئے پانی میں طوفان برپا ہو جائے ۔
اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملے تو وہ اس کی سوچ کو بدل دیتا ہے ۔ وہ اس کے مزاج کو بدل دیتا ہے ۔ وہ اس کی سرگرمیوں کے رخ کو پھیر کر ایک طرف سے دوسری طرف کر دیتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے ۔ اس کے بعد اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور کرتا ہے ۔ اس کے بعد آدمی وہ نہیں رہتا جو وہ پہلے تھا ۔ اپنے قول اور عمل دونوں کے اعتبار سے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے ۔
اس کی وضاحت کے لیے ہم قرآن سے کچھ واقعاتی مثالیں پیش کریں گے ۔