ایمان نیا انسان بناتا ہے
Al-Risala, September 1987, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مصر کے جادو گروں کی ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا خدائی معجزہ سے بہت بڑا سانپ بن جاتا تھا ۔ بادشاہ فرعون نے اس کے توڑ کے لیے اپنے ملک کے جادو گروں کو جمع کیا ۔ جادو گر جب آئے تو انہوں نے فرعون سے خوشامدانہ انداز میں کہا : اگر ہم موسیٰ پر فتح پالیں تو کیا ہمیں بادشاہ کی طرف سے کچھ انعام دیا جائے گا ۔ ( اِنَّ لَنَا لَاجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنِ الْغَالِبِينَ ) (الشعراء ٤٠) جادو گروں کا یہ حال اظهار حقیقت سے پہلے تھا ۔ اس کے بعد جب کھلے میدان میں ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ سے ہوا اور جادو گروں نے دیکھا کہ ان کے سانپوں کو حضرت موسیٰ کے عصا نے نگل لیا ہے تو جادو گروں پر کھل گیا کہ حضرت موسیٰ خدا کے پیغمبر ہیں ۔ اتنا بڑا واقعہ خدا کے پیغمبر ہی کے ذریعہ ظاہر ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ جادو گر اسی وقت خدا کے سامنے سجدے میں گر گئے ۔ کہہ پڑے کہ آمنا برب العالمين (ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے)
جادو گروں کا حضرت موسیٰ کے دین کو قبول کر لینا فرعون کے لیے ذاتی شکست تھی ۔ نے بگڑ کر کہا کہ میں تم کو سخت ترین سزا دوں گا ۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا ۔ اور پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا ۔ جادو گروں نے یہ سن کر کہا : فاقضِ ما انت قاض اِنَّما تقضي هذِهِ الحياة الدنیا ( جو کچھ تجھے کرنا ہے کر ڈال ،
تو جو کچھ کر سکتا ہے موجودہ دنیا کی زندگی میں ہی کر سکتا ہے۔ اس مثال میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمان کے بعد آدمی کے اندر کس طرح کا انقلاب پیدا ہوتا ہے ۔ کس طرح اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور (Emerge) کرتا ہے ۔ جادوگر جو چند لمحہ پہلے بادشاہ کی عظمت سے دبے ہوئے تھے ، اور اس کی خوشامد کر رہے تھے ، ایمانی انقلاب کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ وہ فرعون کی سخت ترین سزا کی دھمکی سن کر بھی متاثر نہیں باہر سے اگرچہ وہ پہلے ہی جیسے دکھائی دیتے تھے۔ مگر اب ان کے اندر ایک نیا انسان پیدا ہو چکا تھا۔ ایک ایسا انسان جو صرف خدا سے ڈرتا تھا ، ایک ایسا انسان جس کی نظر میں آخرت کے سوا ہر چیز بے وقعت ہو چکی تھی ۔